دنیا کے لئے خوراک

دنیا کے لئے خوراک
دنیا کے لئے خوراک

  

اس بات کا تصور کیجئے کہ تمام خوراک جو اس وقت دنیا میں موجود ہے۔ وہ گزشتہ8000 سال کے دوران پیدا ہوئی اب فرض کیجئے کہ اتنی ہی مقدار میں خوراک ہمیں دوبارہ پیدا کرنی ہو تو؟.... لیکن اتنی ہی مقدار میں خوراک ہمیں صرف چالیس سال کے اندر پیدا کرنا ہوگی۔ سات ارب لوگ اس کرئہ ارض پر رہتے ہیں اور ہر سال آبادی میں 77 ملین کا اضافہ ہو رہا ہے اور آبادی میں اس تیزی سے اضافہ ہر تین سال کے بعد دنیا میں انڈونیشیا جیسے ایک اور ملک جتنی آبادی کے اضافے کا سبب بن رہا ہے۔ 2050ءتک ہمارے سیارے پر 9 ارب افراد رہ رہے ہوں گے۔ آبادی میں اس اضافے کے سبب85 کروڑ سے زائد افراد سخت بھوک کا شکار ہو جائیں گے اور ایک ارب کے قریب ایسے ہوں گے، جو اپنی خوراک میں کافی غذائیت نہیں حاصل کر سکیں گے۔ یہ اعداد و شمار ہمارے لئے ناقابل قبول بھی ہیں اور رُسوائی کا سبب بھی ان بدنصیب لوگوں پر اس چیز کے اثرات عمر بھر کے لئے ہوں گے اور معاشی پیداوار پر بھی اس کے خاصے منفی اثرات نمودار ہوں گے اور اسی طرح صحت کی سہولتوں کی فراہمی بھی دشواری سے دوچار ہوگی۔

اس تمام صورت حال سے چھٹکارا پانے کے لئے ضروری ہے کہ 2050ءتک خوراک کی عالمی پیداوار میں 70 فیصد اضافہ یقینی بنایا جائے۔ کرہ ارض پہلے ہی بہت دباو¿ میں ہے اور خاص طور پر پانی کے حوالے سے تو اس پر بہت دباو¿ ہے اور کرئہ ارض پر مستقبل میں پیدا ہونے والے دو ارب باشندے تو دنیا کے ان علاقوں میں پیدا ہوں گے، جہاں پر دباو¿ بہت زیادہ ہوگا۔ اقوام متحدہ کے اندازوں کے مطابق2050ءمیں چین، بھارت اور نائیجریا آبادی کے اعتبار سے دنیا کے تین بڑے ممالک ہوں گے اور مستقبل میں چیزیں آسان ہوتی نظر نہیں آتیں۔ پانی کے لئے استعمال کے اعتبار سے زرعی شعبہ سب سے آگے ہے، جو کل پانی کا 70 فیصد استعمال کر رہا ہے اور تقریباً30 فی صد گرین ہاو¿س گیسوں کا اخراج اسی شعبے سے ہو رہا ہے۔ ماحولیاتی تبدیلیوں کے باعث ترقی پذیر ممالک میں تقریباً 20 فیصد تک زرعی پیداوار میں کمی واقع ہو سکتی ہے۔ ذرا تھائی لینڈ میں آنے والے طوفانوں کے بارے میں سوچئے اور پھر افریقہ میں ہونے والی خشک سالی کو بھی مدنظر رکھئے۔ موسمیاتی تبدیلیاں خوراک کی قیمتوں میں اضافے کا باعث بھی بنتی ہیں اور اس بات کا براہ راست اثر غریبوں پر پڑتا ہے اور بچوں کی غذائیت کے حوالے سے بھی اس چیز کا اہم کردار ہے۔

زراعت کے شعبے کو دوہرے مسائل کا سامنا ہے۔ زرعی شعبے کے وسائل بتدریج کم ہوتے جا رہے ہیں، جبکہ اسے مسلسل بڑھتی ہوئی آبادی کو خوراک پہنچانے جیسی ذمہ داری کا سامنا ہے۔ خوراک اور غذائی تحفظ کے حصول کی خاطر آنے والے عشروں میں تمام ذمہ داران کے لئے لازم ہے کہ وہ ٹھوس اقدامات کریں اور ایسا کاروباری شعبے میں کرنا بھی ضروری ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ ایسا کرنے کے لئے نئی سوچ درکار ہوگی، تاکہ پیداوار میں اضافہ ہو ۔اچھی خبر یہ ہے کہ خوراک کے تحفظ جیسا اہم مسئلہ گروپ8 کے سیاسی ایجنڈے میں شامل ہے اور گروپ8 اس ایجنڈے کے لئے بھرپور سرگرم ہے۔ گروپ20 اورا س ہفتے ہونے والی اقوام متحدہ کی کانفرنس جو مضبوط ترقی کے حوالے سے تھی۔ اس میں کاروباری طبقے کو بھی مدعو کیا گیا تاکہ وہ مسئلے کے حل کے لئے ایسی خدمات پیش کر سکیں۔ بحیثیت شریک چیئرمین آف B-20 خوراک کے تحفظ کی ٹاسک فورس کے ہمیں چیف ایگزیکٹو افسران کا گروپ اور دیگر ذمہ داران اس بات کے لئے رہنمائی کر رہے ہیں تاکہ قابل تجاویز تیار ہو سکیں اور گروپ اس قابل ہو سکے کہ 2030ءتک پیداوار میں 50 فیصد اضافے کو یقینی بنایا جاسکے۔

ہم نے اس حوالے سے تفصیلی تجاویز کی منظوری دی ہے تاکہ حکومتوں کو قومی خوراک اور غذائی تحفظ کے پروگرام بنانے میں مدد مل سکے (ایسے پروگراموں کو سرکاری اور نجی شعبوں کے اشتراک سے چلایا جائے) اور سب سے بڑی اہمیت کی حامل بات یہ ہے کہ کمپنیاں اس بات کے لئے راضی ہیں کہ زرعی پیداوار میں 2030ءتک 50 فیصد اضافے کے لئے وہ 15 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے لئے تیار ہیں۔ ہم نے پانچ شعبوں کو مختص کیا ہے، جن کو فوقیت دے کر ان پر کام کیا جائے(1) زرعی پیداوار میں اضافے کے لئے سرمایہ کاری میں اضافہ کیا جائے (2) مارکیٹ کے افعال میں بہتری لائی جائے (3) اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ قابل اعتماد طریقوں سے خوراک کی پیداوار حاصل کی جائے۔ (5) اور غذائی اہمیت کو اولیت دی جائے۔ پیداوار میں اضافے کا مطلب یہ ہونا چاہئے کہ یہ خوراک اور غذائی تحفظ کے لئے ماحول دوست انداز میں کام کرے اور اس بات کو بھی یقینی بنایا جائے کہ کسانوں کی آمدن اور طرزِ زندگی بہتر ہو۔ اب مزید آگے جاتے ہیں۔ کسان اپنی پیداوار کو دوگنا کرنے کے قابل ہو سکیں اور ہمیں 50 کروڑ لوگوں کے لئے چھوٹے چھوٹے زمینی قطعے (جو وہ کاشتکاری کے لئے استعمال کر سکیں) بنانے ہوں گے یا پھر دو ارب لوگ جو ترقی پذیر ممالک میں زرعی شعبے میں تقریباً تمام ترقی پذیر دنیا کے لئے پیداوار حاصل کر رہے ہیں۔ ان کا خیال کرنا ہوگا۔ خواتین ترقی پذیر دنیا کے کسانوں کا43 فیصد ہیں۔ ہمارے پاس خواتین کے لئے بھی ا ہداف ہیں کہ وہ کس انداز میں ایسی پیداوار اور آمدن کے ذرائع میں اضافہ کر سکتی ہیں۔

زمین کی لیز کا تحفظ اور خزانے تک ان کی رسائی، جس میں خطرات سے نمٹنے کے اقدامات بھی شامل ہوں، ایسے اقدامات بنیادی اہمیت کے حامل ہیں۔ 30 سے 40 فیصد زرعی پیداوار کسان اور خریدار کے درمیان غائب ہو جاتی ہے۔ ہمیں صلاحیتوں میں اضافے کے ساتھ چین ویلیو کی اہمیت پر زوردینا ہوگا تاکہ نقصان میں کمی کی جاسکے اور اسی طرح غذائی اہمیت اور خوراک کی حفاظت پر بھی توجہ دینا ہوگی۔ دنیا میں بہت سے ایسے علاقے ہیں، جہاں پر خوراک کی کمی ہے، ہمیں نقل و حمل کے ذرائع کو بہتر بناتے ہوئے سپلائر کی حوصلہ افزائی کرنا ہوگی تاکہ مقامی منڈیاں ترقی کرسکیں اور اس طرح شہروں میں ہجرت کرنے کی شرح میں بھی کمی واقع ہوگی۔ ہمیں ایسی تجارتی پالیسیاں بنانا ہوں گی، جن کی بدولت زرعی اشیاءکا تبادلہ ہو سکے۔ تجارت میں ٹوٹ پھوٹ کے عمل کو روکنا ہوگا اور اس کے ساتھ ساتھ کسانوں کو دیا جانے والا تحفظ ان کے مواقع میں اضافے کا باعث بنے گا۔ اس کی بدولت یہ ہوگا کہ خریدار کو اشیاءاس کی پہنچ میں آنے والی قیمت تک مہیا ہو سکیں گی۔

دنیا کو بڑھتے ہوئے چیلنجوں کا ایک ردعمل یہ بھی ہے کہ دنیا بھر کی کمپنیوں کا تیزابی ٹیسٹ کروایا جائے۔ یہ صرف پیداوار کرنے والوں کا نہیں، بلکہ سپلائرز اور تھوک فروشوں کا بھی اور ساتھ ساتھ بین الاقوامی اداروں، حکومتوں، غیر سرکاری اداروں اور شہریوں کا بھی ہونا چاہئے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم سب مل جُل کر کام کریں۔ ادارے جیسے بین الاقوامی معاشی فورم ان کے پاس مواقع ہیں کہ وہ اپنی اہلیت کو ثابت کر سکیں۔ گروپ 20 ہمیں ٹھوس اقدامات کر کے ہی مدد کر سکتا ہے اور ایک بھوکی دنیا کو اس سے کم کی ضرورت نہیں ہے(بشکریہ: ”واشنگٹن پوسٹ“....ترجمہ: وقاص سعد)

مزید :

کالم -