پاکستان پیپلز پارٹی کی آواز

پاکستان پیپلز پارٹی کی آواز
 پاکستان پیپلز پارٹی کی آواز

  

محترمہ فوزیہ وہاب اپنی محنت اور ذہانت کے بل بوتے پر اس مقام پر پہنچیں، جہاں بے شمار پرانے اور جغادری سیاستدان بھی اُن پر رشک کرتے تھے۔ وہ حقیقت میں ایک سیلف میڈ خاتون تھیں، لیکن جب قسمت کے ستارے بھی ان کے یاور ہوئے تو محترمہ فوزیہ وہاب نے مزید محنت شروع کردی۔ فوزیہ وہاب ایک اچھی خاتون سیاستدان کی اہمیت و افادیت سے بخوبی واقف تھیں۔ ایک اچھا لیڈر بننے کے لئے جو پختہ صلاحیتیں اور نمایاں خصوصیتیں درکار ہوتی ہیں، فوزیہ وہاب ان سے بھی بدرجہ اتم آگاہ تھیں۔وہ جانتی تھیں کہ ان صلاحیتوں اور خصوصیتوں کے فقدان کا احساس اس وقت ہوتا ہے ،جب قائدانہ کردار ادا کرنے کی ضرورت پیش آتی ہے۔ کبھی اس کردار کی ادائیگی کی تشویش سدّراہ بن جاتی ہے تو کبھی یوں ہوتا ہے کہ روزمرّہ کے کاموں کی چھوٹی چھوٹی الجھنیں اس طرح آڑے آتی ہیں کہ کارکردگی کا مجموعی عکس غیر واضح، بے ہنگم اور غیر منظم نظر آنے لگتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ مَیں نے انہیں کبھی کسی معاملے میں جلد بازی کرتے نہیں دیکھا۔وہ جانتی تھیں کہ کسی مشین کی کارکردگی کا دارومدار اس کے پیچوں اور ڈِھبریوں پر ہوا کرتا ہے،اس لئے وہ ہمیشہ معاملات کی جزئیات تک جاننے کی کوشش کرتی نظر آتیں۔ اپنی اسی عادت کے باعث انہیں انتہائی چھوٹی سے چھوٹی بات بھی یاد رہتی تھیں۔

محترمہ فوزیہ وہاب اپنی قوت اظہارسے مکمل باخبر اور آشناتھیں۔وہ جانتی تھیں کہ ان کی پارٹی نے ان پر کتنا اعتماد کررکھا ہے، اس لئے انہیں عوام کے سامنے پارٹی موقف بیان کرتے ہوئے کس حد تک جانا ہے اور بوقت ضرورت طے شدہ ترجیحات کے مطابق ان حدوں کو کس طرح مزید پھیلایا جاسکتا ہے۔ وہ وقت ، دستیاب وسائل اور قوتِ اظہار کو سلیقے سے استعمال کرنے کے ہنر میں یکتا تھیں۔وہ کبھی مشتعل نہیں ہوتی تھیں، البتہ مخالف یہی سمجھتا کہ وہ ابھی مائیک اٹھا کر منہ پر دے ماریں گی۔مخالف پر یہ تاثر قائم کرنا ہی کسی موقف کے اظہار میں ان کی اہم کامیابی ہوتی تھی۔

عملی زندگی شروع ہونے سے بہت پہلے ہی ہمیں کڑی محنت کا درس ملنا شروع ہوجاتا ہے اور زندگی میں یہ درس ہم سب کو لاتعداد بار دیا جاتا رہا ہے۔کسی بھی معاملے کو حل کئے بغیرآگے نہ بڑھنامحنتی ہونے کی دلیل ہے، لیکن فوزیہ وہاب محنتی ہونے کے ساتھ ساتھ”سمارٹ“ بھی تھیں۔ وہ جانتی تھیں کہ اگر انسان کے افکار و خیالات میں تنوع نہ ہوتا تو جاوا اور گوگل جیسی اختراعات عالمی منظرنامے پربھلا کیسے سامنے آسکتی تھیں؟سمارٹ نیس کیا ہے؟ یہی ناں کہ ”معاملات ، مسائل، الجھنوں اور پیچیدگیوں کو دوسرے کے نقطہ ءنگاہ سے اس طرح دیکھنا کہ اپنا موقف، تیقن اور عقیدہ چھوٹنے نہ پائے“.... اور یہ خاصیت محترمہ فوزیہ وہاب میں پورے کمال کے ساتھ موجود تھی۔مختلف ٹاک شوز میں وہ اسی ”سمارٹ پن“ کے ساتھ جاتی تھیں اور مخالف کو نئے زاویوں کے ساتھ سوچنے پر مجبور کردیتی تھیں۔اپنی ”سمارٹ نیس“ کی اسی خصوصیت کی بدولت انہوں نے پارٹی اور حکومت کے سخت فیصلوں کا پوری بہادری کے ساتھ دفاع کیا۔

 ایک اچھے سیاسی رہنماکو یہ خوب معلوم ہوتا ہے کہ کسی معاملے میں محض ٹیلی فون پر ”شکریہ“ کہنا مناسب ہوگا یا کسی کی کامیابی پر ذاتی طور پر اس کے پاس جاکر مبارکباد دینا حسب حال ہوگا۔وہ جانتی تھیںکہ مثبت تعریف و تحسین وہ خوبصورت عمل ہے، جس سے لوگوں کے دلوں کو مسخر کیا جاسکتا ہے۔محترمہ بینظیر بھٹو کی قیادت میں کام کرکے محترمہ فوزیہ وہاب نے سیکھ لیا تھا کہ مایوسی کا اظہار تو آسان ہوتا ہے، لیکن قابل ستائش کارکردگی پر داد دینابڑے دل گردے کا کام ہے ۔ ایک اچھے لیڈر کی یہی خوبی ہوتی ہے کہ مایوس کن ماحول میں گھبرانے کی بجائے اگر محض اظہار ستائش کے لئے اپنے ساتھیوں کی پیٹھ ہی تھپتھپا دے توسامنے والے کے لئے یہ آب حیات کا کام کرتی ہے۔ اسمبلی کے اندر اچھی تقاریراور پوائنٹ آف آرڈر پر محترمہ ارکان اسمبلی کومبارک دینے اور تحسین کرنے خود ان کے بنچوں پر چلی جاتی تھیں اور اس میں اپنے پرائے کی کوئی تمیز نہیں تھی۔فوزیہ وہاب یہ بھی جانتی تھیں کہ ایک سیاسی رہنما یہ کہہ کر اپنی ذمہ داریوں سے دامن نہیں چھڑا سکتاکہ” غلطی کسی اور کی ہے“۔ اگر کہیں نازک مقام آیا تومحترمہ فوزیہ وہاب نے اس کی مکمل ذمہ داری بھی لی۔

 گزشتہ ماہ ستائیس مئی کو محترمہ فوزیہ وہاب کاپتے کا آپریشن ہوا جس کے بعد اندرونی طور پر خون کا رساو¿ جاری رہا، جس سے ان کے پھیپھڑے، جگر اور گردے بھی متاثر ہوئے۔بعد ازاں طبیعت بگڑ جانے پر انہیں مصنوعی سانس پر رکھا گیا تھا، تاہم وہ جانبر نہ ہو سکیں، جس کے بعد خبر آئی کہ ” پاکستان پیپلز پارٹی کی مرکزی رہنما پارٹی کی سابق سیکرٹری اطلاعات اور قومی اسمبلی کی رکن فوزیہ وہاب کراچی کے مقامی ہسپتال میں چھپن برس کی عمر میں دار فانی سے کوچ کر گئیں “.... کہنے کو تو یہ محض انتقال پُرملال کی دو سطری خبر ہے، لیکن میرے لئے یہ خبر کسی دھماکے سے کم نہیں تھی۔ یہ خبر میرے لئے صرف اس لئے دھماکہ نہیں تھی کہ محترمہ فوزیہ وہاب کا تعلق پاکستان پیپلز پارٹی سے تھا اور یہ کہ ہم پارلیمنٹ میں سوا چار برس تک رکن رہے تھے،بلکہ وجہ یہ بھی تھی کہ ان برسوں میں ہمیں بہت کچھ سیکھنے اور ایک دوسرے کے تجربات سے استفادہ کرنے کا موقع ملاتھا، جو اب ہمیشہ کے لئے ہمارا قیمتی اثاثہ بن چکا ہے۔

قارئین کرام!!کہنے کو تو مَیں بھی کہنا چاہتا ہوں کہ ”سال دو ہزار دو سے دو ہزار بارہ تک قومی اسمبلی میں انتہائی فعال رہنے والی فوزیہ وہاب کی پارٹی، جمہوریت اور ملک کے لئے خدمات ناقابل فراموش ہیں۔ مرحومہ کی جدوجہد ملک کی خواتین کے لئے مشعل راہ ہے، انہوں نے خواتین کے ایشوز اور ہیومن رائٹس کے لئے جو کام کیا ، اسے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔مرحومہ کی ملک و قوم کے لئے سیاسی جدوجہد بھلائی نہیں جاسکے گی۔ فوزیہ وہاب کی موت ایک بڑا سانحہ ہے ،انہوں نے ایمانداری سے کام کیا۔ اور یہ کہ قوم ان کی خدمات کو کبھانہیں بھولے گی ،ان کی موت پر پوری قوم سوگوار ہے“.... لیکن میرے لئے محترمہ فوزیہ وہاب پیپلز پارٹی اور آزادی ء اظہارِ رائے کی بھرپور آواز تھی، جواب دور کہیں خلاو¿ں میں کھو گئی ہے۔میرے لئے محترمہ کی رحلت کی خبر اس لئے دھماکہ خیز تھی کہ محترمہ فوزیہ وہاب صرف پیپلز پارٹی ہی نہیں، بلکہ ساری پارلیمنٹ کی آواز تھیں۔ اس آواز نے دم توڑا تو ہر جانب سکوتِ مرگ طاری ہوگیا۔ یہ ایسا دھماکہ تھا جس نے ہر جانب خاموشی کا جالا تن دیا۔اس کے انتقال سے پہلے بھی جس کسی نے ان کی بیماری کی خبر سنی، کیا اپنا اور کیا پرایامَیں نے سب کو فوزیہ وہاب کی صحت کے لئے دل سے دعا ہی کرتے دیکھا۔ان کی بیماری کی خبر سن کر کسی کے وہم و گمان میںبھی نہیںتھا کہ فوزیہ وہاب اپنے عزیز و اقربا، حلقہ احباب،پارٹی اور اس جہانِ فانی کو یوں اچانک داغِ مفارقت دے جائیں گی۔اس طرح تو ہاتھ سے پھسل کر کانچ کا برتن بھی نہیں ٹوٹتا، جس طرح اچانک فوزیہ وہاب نے اس دنیا سے ناتہ توڑلیا۔

[کالم نگاررکن قومی اسمبلی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ امور، پانی و بجلی، قانون انصاف ہیں]

مزید :

کالم -