امر یکی حکومت کے سائنسی ترقی کے لئے فنڈز

امر یکی حکومت کے سائنسی ترقی کے لئے فنڈز
امر یکی حکومت کے سائنسی ترقی کے لئے فنڈز

  

آج کل معاشیات کے حوالے سے کسی اچھی خبر کا ملنا بہت مشکل ہے۔یورپ کنارے سے لگا دکھائی دیتا ہے ۔ابھرتی ہوئی معاشی قوتیں جیسے چین، برازیل اور بھارت سست ہوچکی ہیں اور ریاست ہائے متحدہ امریکہ کا حال بھی پتلا ہے۔امریکہ کے لئے روشنی کا ایک نقطہ ہے اور وہ ہے ٹیکنالوجی خاص طور پر بائیو ٹیکنالوجی کسی بھی انسانی خلیے کی تیاری پر ہونے والا خرچہ اب کم ہو کر 1000ڈالر تک آ گیا ہے اور یہ عمل اب دو گھنٹے میں مکمل ہوجاتا ہے۔ٹیکنالوجی میں آنے والا یہ انقلاب پہلے ہی تمام صنعتوں کو منتقل کردیا گیا ہے۔یہ بات ہمارے لئے یاددہانی ہے کہ ہم مشکلات سے نسبتاً سخت معاشی حالات کے باوجود لڑ سکتے ہیں ۔ایک شعبہ ایسا ہے،جس میں ریاست ہائے متحدہ امریکہ آج بھی اپنی قوت کا مظاہرہ کرسکتا ہے اور وہ شعبہ ہے سائنس اور ٹیکنالوجی کا، ایسا اسی وقت ہوگا ،جب ہم درست فیصلے کریں گے۔

ایک لمحے کے لئے رکئے کہ انسانی خلیے بنانے کا فیصلہ وفاقی حکومت نے جس کے لئے ایک منصوبے کی منظوری دی ہے،جس کے لئے ایک بہت خطیر رقم ،یعنی 1318ارب ڈالر خرچ ہوگی اور یہ منصوبہ 15سال کی مدت کے لئے ہے، لیکن اس کا حاصل کیا ہوگا۔ایک تحقیق جس کے لئے رقم صنعتی شعبے نے فراہم کی کے مطابق انسانی خلیوں پر کام کرنے والے منصوبے کی بدولت 796ارب کی معاشی سرگرمیاں ہوئیں اور اس کی بدولت 244ارب ڈالر لوگوں کی آمدن میں شامل ہوئے، اس منصوبے کی بدولت صرف 2010ءمیں تین لاکھ دس ہزار نوکریاں تخلیق ہوئیں۔یہ اعدادوشمار شائد غلط بھی ہوں، لیکن اس منصوبے کے اثرات بہت وسیع ہیں اور زرعی ،طبی اور جین تھراپی جیسے شعبے بھی اس سے متاثر ہوئے ہیں۔

گورنمنٹ نے سولنڈرا کو جو 500 ملین ڈالر قرضہ دینے کا فیصلہ کیا ہے، اس پر بھی اب تک بہت کچھ کہا جا چکا ہے، لیکن آپ اب کتنے شدومد کے ساتھ انسانی خلیوں کے منصوبے کے بارے میں سنتے ہیں؟سرمایہ لگانے کے لئے یہ بہترین جگہ ہے۔امریکی ٹیکس دہندگان کی رقم کو استعمال کرنے کے لئے یہ بہترین جگہ ہے۔امریکی ٹیکس دہندگان کی رقم کو استعمال کرنے کے لئے یہ بہترین ذریعہ ہے اور یہ امریکی حکومت کے بہترین فیصلوں میں سے ایک ہے۔ایسا کہنا تھا۔گریگ لولیسر کا جو زندگی کی ٹیکنالوجی نامے ادارے کے چیف ایگزیکٹو ہیں۔گریک لویسر کی فاﺅنڈیشن مذکورہ تحقیق کے لئے رقم فراہم کرتی ہے اور ان کی کمیٹی ایک ہزار ڈالر میں اس ٹیکنالوجی کو تیار کررہی ہے۔لویسر اور دیگر بہت سے اور سائنس دان اس بات کی وضاحت کرتے ہیںکہ ہم اب بائیوٹیکنالوجی کے ایک ایسے دور میں داخل ہورہے ہیں، جس کی بدولت ہم خوراک، دوائیں اور ایندھن تیار کرنے میں کامیاب ہو سکیں گے اور ساتھ ساتھ آلودگی اور ماحولیاتی تبدیلیوں جیسے مسائل سے بھی نمٹ سکیں گے۔

وفاقی حکومت کی جانب سے تحقیق اور ترقی کے لئے جو فنڈز جاری کئے گئے ہیں۔وہ اس رقم کے مقابلے میں اونٹ کے منہ میں زیرہ ہیں،جو فارمز کے لئے بطور سبسڈی دی گئی ہے اور اس طرح اس رقم میں بتدریج کمی ہوئی ہے۔1970ءسے 1995ءکے دوران یہ شرح خام گھریلو مصنوعات کے لئے جسمانی سائنسزمیں 54%اور انجینئرنگ میں 51%تک آ گئی تھی۔وفاقی حکومت کی جانب سے جاری کردہ آر اینڈ ڈی فنڈز میں حالیہ سالوں میں نسبتاً اضافہ دیکھنے کو ملا ہے، لیکن جیسا کہ محسوس کیاجارہا ہے ، ایسا طویل دورانیے کے لئے کرنا ہوگا۔جیسا کہ چین اور جنوبی کوریا اس سلسلے میں اپنے فنڈز میں 10%سالانہ کے حساب سے اضافہ کرتے چلے جارہے ہیں۔ترکی میں سائنس اور ٹیکنالوجی کے سرکاری ادارے کے فنڈز میں اگلے 15سالوں کے لئے اضافے کی منظوری دی گئی ہے۔علم پر انحصار کرنے والی معیشت میں امریکہ میں ملازمتوں کا انحصار زیادہ تر سائنٹفک تحقیق پر ہوگا۔جیسا کہ 1950ءکی دہائی میں تھا اور ابھی بھی اس مد میں ہم جی ڈی پی کا کم حصہ خرچ کررہے ہیں۔حکومت کی جانب سے بنیادی سائنسز میں کی جانے والی سرمایہ کاری سے منافع واپس لوٹانی ہے۔

مثال کے طور پر 13نوبل انعام یافتہ شخصیات نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ کو لیسٹرول سے متعلق تحقیق کے حوالے سے وقف کررکھا تھا،تب جا کر کولیسٹرول گھٹانے والی اشیاءمارکیٹ میں آئیں۔اور آج کل کولیسٹرول کم کرنے والے اجزاءکا شمار دنیا کی بہت زیادہ فروخت ہونے والی اشیاءمیں کیا جا سکتا ہے اور 40کروڑ سے زائد افراد ان کا استعمال کررہے ہیں۔پہلے سے موجود ٹیکنالوجیز کے لئے فنڈ مہیا کرنا زیادہ پیچیدہ عمل ہے اور یہ کبھی کبھار ہی کام کرتا ہے۔ایئر فورس اور ناسا ہی سیمی کنڈیکٹرز کے خریدار تھے،جب ان چیس کو 1950ءکی دہائی میں تیار کیا گیا اور یہ سلسلہ 1960ءکی دہائی تک چلتا رہا،جب قیمتوں میں کمی آنے لگی اور نجی شعبے نے اس صنعت میں دلچسپی لینی شروع کردی یا پھر فریکنگ ایک ایسی ٹیکنالوجی ہے ،جسے توانائی کے محکمے کو استعمال کرکے بنایا گیا اور اس کے لئے قرضے 1970ءکی دہائی میں دیئے گئے ، جبکہ دوسری طرف سولنڈر اور اس طرح کی دیگرچیزیں حتیٰ کہ یہاں تک کہ بنیادی سائنسز کے لئے فنڈنگ ناقابل مواخذہ ہے، اگر شمسی توانائی سے چلنے والے پینل کے لئے سبسڈی دی جائے تو بنیادی سائنسز کے شعبے میں یہ ایک بڑا کارنامہ ہوگا، اس طرح لیلی کون کا بہتر اور سستا متبادل مل جائے گا۔بہت ساری کمپنیوں نے ان کمپاﺅنڈز کا استعمال شروع کردیا ہے،جواب بہت مہنگے ہیں۔

سائنس اور ٹیکنالوجی کی حوصلہ افزائی صرف فنڈ مہیاکرنا ہی نہیں ہے، بلکہ اس سے بڑھ کر بھی اور بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔حکومت کی جانب سے بنائے گئے قواعدو و ضوابط اہم کردار ادا کرتے ہیں۔کرن منشابھارت میں پاور ہاﺅس فارماسوٹیکل کمپنیوں کی بانی ہیں، ان کا خیال ہے کہ تمام کا تمام امریکی نظام جس میں قواعدو ضوابط کے سلسلے ،ٹرائل اور بہت زیادہ وقت لینے کا عمل ادویات کی دریافت میں بڑی رکاوٹ ہیں۔اس طریقہ کار پر عمل کرتے ہوئے کسی نظریئے سے دوا کی تیاری تک 12سال کا عرصہ لگ جاتا ہے۔جبکہ اس کے مقابلے میں ہوائی جہاز ایئر بیس A380 کو ڈرائنگ بورڈسے ہوا میں اڑنے کے لئے 6سال کا عرصہ درکار ہوتا ہے۔سائنس اور سائنس کی حمایت میں بڑی معاشی سرگرمیاں بالکل ٹھیک ہیں،جبکہ معمول کے مطابق سیاست میں مسائل شامل ہیں۔(بشکریہ:”واشنگٹن پوسٹ“.... ترجمہ:وقاص سعد)  ٭

مزید :

کالم -