بے نظیر بھٹو کی سالگرہ کا دن جمہوریت پسندوں مسرت کا باعث ہے ‘ساجد اے منظور

بے نظیر بھٹو کی سالگرہ کا دن جمہوریت پسندوں مسرت کا باعث ہے ‘ساجد اے منظور

لندن (بیورورپورٹ )صدر پاکستان پیپلز پارٹی آئرلینڈ ساجد اے منظور نے کہا ہے کہ شہیدجمہوریت محترمہ بے نظیر بھٹو کی سالگرہ کا دن نہ صرف پاکستان پیپلز پارٹی بلکہ دنیا بھر کے جمہوریت پسند، روشن خیال، دانشوروں، سیاستدانوں اور عوام کیلئے مسرت کا باعث ہے 27دسمبر 2008کو محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت سے قبل شہید بی بی کی سالگرہ کا دن اپنے دامن میں صرف خوشیاں سمیٹے آتے تھا کیونکہ یہ دن اسلامی دنیا کی پہلی خاتون وزیراعظم،آمریت کے خلاف جدوجہد کرنے والی بہادر و دلیر عوامی سیاستدان،اور جمہوری اقدار،انسانی حقوق کی سر بلندی کے حوالہ سے منفرد اپروچ رکھنے والی دانشور کا یومِ ولادت ہوتا تھا۔لیکن شہید جمہوریت کی شہادت کے بعد 21جون کا دن دنیا بھر میں خوشی اور غم کے ملے جلے جذبات کا پیغام لے کر آتا ہے جس میں شہید بی بی کی برتھ ڈے کی خوشیاں ان کی خوشگوار یادیں کار ہائے نمایاں اور تاریخ ساز عوامی خدمات ان کے چاہت مندوں کے دلوں کو مسرت سے بھردیتی ہیں تو اسی لمحے یہ احساس غم گیر کر دیتا ہے کہ ہماری وہ بے مثال،بے مثل اور بے نظیر لیڈر جس کی موت کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔ہم سے ہمیشہ کے لئے جدا ہو گئیں۔وہ ہم میں اب موجود نہیں لیکن ان کی یادیں وافکار نہ صرف ہمارے دلوں میں بلکہ آنے والی نسلوں کو صدیوں یاد رہیں گی ۔محترمہ بے نظیر بھٹو سے میری سیاسی وابستگی جذباتی کیفیت پر مبنی ہے کیونکہ پاکستان پیپلز پارٹی سے وفاداری کی کمٹمنٹ مجھے ورثہ میں ملی۔میرے والد ملک منظور احمد اور والدہ بیگم نور جہاں فاطمہ کو شہید ذوالفقار علی بھٹو سے گہری سیاسی عقیدت تھی۔

والدصاحب پارٹی کے فونڈر ممبر تھے۔وہ بطور سینئر نائب صدر پی پی پی جرمنی اپنی آخری سانس تک پیپلز پارٹی کے کاز کی سربلندی کے لئے مصروف جدوجہد رہے والدہ محترمہ نے ضیاء آمریت کے خلاف بحالی جمہوریت کی تحریک میں زونل صدرپی پی پی شعبہ خواتین جو جدوجہد کی وہ لاہور کی سیاسی تاریخ کا ایک روشن باب ہے۔والدین کی اتنی گہری وابستگی نے پیپلز پارٹی سے میری رومانیت کو بچپن کی عمر سے ہی پروان چڑھا نا شروع کر دیا تھا۔میرے دل میں قائد عوام شہید بھٹو محترمہ بے نظیر بھٹو کی محبت میری عمرو شعور میں پختگی کے ساتھ بتدریج مضبوط سے مضبوط تر ہوگئی۔ پاکستا ن میں طویل سیاسی جدوجہد کے بعد 1996ء میں،میں آئرلینڈ منتقل ہو گیا تو پیپلز پارٹی دیار غیر میں بھی انتہائی جوش و جذبہ کے ساتھ پارٹی کے لئے خدمات کی انجام دہی میں مصروف عمل ہو گیا اور میری کارکردگی کی رپورٹس شہید محترمہ بے نظیر بھٹو تک پہنچنا شروع ہو گئیں بالآخر2003میں میری پارٹی خدمات کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے شہید بی بی نے تعریفی اسناد کے ساتھ اسے جاری کردہ ڈائریکٹو کے ذریعے مجھے پاکستان پیپلز پارٹی آئرلینڈ کا صدر نامزد کر دیا۔میرے لئے شہید بی بی کی تعریفی اسناد اور پارٹی کی ذمہ داری ایک بہت بڑا اعزاز تھا ۔شہید بی بی کے نامزد صدر کی حیثیت سے آئرلینڈ میں پیپلز پارٹی کے لئے میری خدمات تا حال بھی جاری ہیں ۔او رانشاء اﷲ جاری رہیں گیں لیکن مجھے بی بی کی وہ پذیرائی کبھی نہ بھول سکے گی جو انہوں نے اپنے ساتھ بالمشافہ ہونے والی ملاقاتوں کے دوران مجھے بخشی۔وہ میرے والدین کی سیاسی جدوجہد اور پارٹی خدمات کی بھی قدر دان تھیں۔جب بھی ان سے ملاقات ہوتی میری فعال خدمات کو سراہنے کے ساتھ میرے والدین کو بھی خراجِ تحسین پیش کرتیں محترمہ بے نظیر بھٹو کے ویژن کو اقوام عالم مانتی تھی وہ دنیا بھر میں پاکستان کی پہچان تھیں، یورپ کے بہت سے ممالک کے شہری پاکستان کو تو نہیں جانتے لیکن شہید بی بی کی عوامی خدمات اور دانشورانہ اپروچ کے حوالہ سے ان کے قدر دان تھے اور پس اس امر کی گواہی شہید بی بی کے وہ سینکڑوں لیکچرز ہیں جو انہوں نے دنیا کے تمام بڑے بین الاقوامی شہروں میں پیشہ دارانہ بنیادوں پر دیئے ۔مجھے یاد ہے کہ ان کا لیکچر سننے کے لئے شائقین ہفتوں پہلے اپنی ایڈوانس رجسٹریشن کروا لیتے۔لیکچر میں رجسٹریشن کی بھاری فیس سے ہی محترمہ بے نظیر کی مقبولیت کا اندازہ ہو جاتا تھا ۔کسی ایشین سیاستدان، سکالر اور مقرر کے لئے ترقی یافتہ ممالک کے عوام اس قدر اظہارِمحبت نہ کرتے تھے جتنی شہید بے نظیر بھٹو کیلئے کی جاتی تھی۔لیکن بحیثیت پاکستانی ہم سب کے لئے دُکھ اور افسوس کا مقام یہ ہے کہ دُنیا کی ایک مایہ ناز شخصیت کی قیمتی جان ان کی اپنی ہی دھرتی پر ختم کر دی گئی محترمہ بے نظیر بھٹو کی سالگرہ ہمیںیہ احساس دیتی ہے کہ ہماری شہید قائد کو جسمانی طور پر ہم سے جدا کر دیا ہے لیکن ان کے افکار نظریات، فلاسفی اور ویژن ان کے کروڑوں محبان کے دلوں سے کبھی ختم نہیں کیا جا سکتا۔شہیدرانی اپنے شہید با با کی طرح تا ابد زندہ و تابندہ رہیں گی۔ہم آصف علی زرداری اور چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی قیادت میں شہید وں کے مشن کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے دُنیا کے ہر خطہ،کوچہ گلی میں پاکستان کو ایک ترقی پسند،روشن خیال اسلامی مملکت بنانے کے لئے کوئی کسر اٹھا نہیں رکھیں گے۔

مزید : عالمی منظر


loading...