ہم امن چاہتے ہیں

ہم امن چاہتے ہیں
ہم امن چاہتے ہیں

  


مَیں کوئی سیاست دان نہیں، سیاسی نظریہ یا سوچ رکھنے کے باوجود کسی جماعت کا کارکن نہیں ہوں۔سیدھا سادا ایک کاروباری ہوں۔میرے یقین کے مطابق ”امن“ ہی وہ راہ ہے جو اقتصادی اور معاشی سرگرمیوں کا ذریعہ بنتا ہے،امن ہوگا تو کاروبار بھی ہوگا اور اس سے معیشت کا پہیہ چلتا ہے ۔جہاں تک ہمارے ملک پاکستان کا تعلق ہے تو اسے اندرونی اور بیرونی طور پر ہر طرف سے امن کی ضرورت ہے۔ملک کے اندر دہشت گردی کے علاوہ لاقانونیت ہے۔جرائم ہوتے اور ملزم پکڑے نہیں جاتے، جبکہ سرحدوں پر خلفشار بھی موجود ہے۔ہمسایوں میں بھارت اور افغانستان اہم ہیں۔ ایک طرف کے مسائل کی وجہ سے ہم دہشت گردی کا شکار ہیں تو دوسری طرف سے 66سال پرانے تنازعات ہیں، جن کی وجہ سے ماضی میں تین جنگیں بھی ہو چکی ہیں۔دشمن متعصب اور مکار بھی ہے۔ایسے میں ہر قدم پھونک پھونک کر رکھنے کی ضرورت ہے۔

اس سے پہلے کہ مَیں مزید کوئی بات کروں ایک سوال ہے جو آج کے فاضل سیاسی رہنماﺅں اور میڈیا والوں(خصوصاً الیکٹرونک) سے کرنا ہے اور وہ سوال یہ ہے کہ کیا ہر اعتراض اور تنقید مہذب انداز سے دلیل کے ساتھ ممکن نہیں اور کیا ایک مہذب اور اخلاق والے ملک کے لئے یہ ضروری نہیں کہ اچھے کو اچھا اور بُرے کو بُرا کہے یہ تو ہمارے دین کی بھی تلقین ہے اور ایسا ہی ہونا چاہیے، لیکن ہو کیوں نہیں رہا۔کیا قومی مفاد سے زیادہ جماعتی اور ذاتی مفاد اہمیت رکھتے ہیں؟بات کو یہیں چھوڑ کر اب میں حالات حاضرہ کی طرف آتا ہوں ، یہ میرا شعبہ نہیں، لیکن مَیں اور میرے جیسے دوسرے شہری پریشان ہو گئے ہیں۔ایک طرف میڈیا ہاﺅسز والے خود آپس میں دست و گریبان ہیں۔میڈیا خود بُری طرح تقسیم ہے تو سیاسی رہنما اور قائدین بھی حالات کو سنوارنے کی بجائے بگاڑ رہے ہیں۔یہ چلن بن گیا ہے کہ ہر کام میں کیڑے ہی نکالے جائیں۔

اب یہ مسئلہ لے لیں کہ وزیراعظم میاں محمد نوازشریف بھارت جا کر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی تقریب حلف برداری میں شرکت کرکے آئے ہیں۔اس پر سرحد کے دونوں طرف الیکٹرونک میڈیا والے حضرات نے ایک طوفان کھڑا کر دیا ہے۔ہر کوئی اپنا انپا مطلب نکال رہا ہے۔کوئی بھی حقائق کی طرف توجہ نہیں دے رہا۔حالانکہ یہ بہت سیدھا مسئلہ ہے، اگر ذرا غور کیا جائے تو یہ تقریب ایک سماجی نوعیت کی بنتی ہے،جس سے دونوں وزرائے اعظم نے اپنے اپنے طور پر فائدہ اٹھانے کی کوشش کی۔نریندر مودی نے غالباً اپنے متعصب پن کے الزام کو ہی رد کرنے اور مستقبل کا پُرامن وزیراعظم بننے کے لئے پاکستان کو دعوت دی اور پاکستان کے وزیراعظم نے اس موقع سے فائدہ اٹھایا کہ جو رابطہ عرصہ سے ٹوٹ چکا تھا، اسے بحال کر لیا جائے۔

اگر اس سارے واقعہ کو اس نگاہ سے دیکھا جائے تو بات آسان ہو جاتی ہے کہ یہ تو تقریب بہر ملاقات تھی، بذات خود ایسی ملاقات نہیں تھی جو ایجنڈا طے کرکے ہوتی ہے، اگر اسے اسی حد تک رکھا جائے تو اعتراض اور محاذ آرائی کی ضرورت نہیں رہتی۔ہر دو نے ملاقات کی تو اس میں 66سال پرانے تنازعات تو حل نہیں ہو سکتے تھے، جو ممکن تھا وہ یہ تھا کہ رابطہ بحال ہو۔تنازعات طے کرنے کے لئے مذاکرات پھر سے شروع کرنے کا فیصلہ ہو اور یہی ہوا ہے، اب اس پر اعتراض کہ کشمیر ساتھ کیوں نہیں لائے۔چارج شیٹ مل گئی۔ وزیراعظم میاں نوازشریف نے بھارتی وزیراعظم کو گالی کیوں نہیں دی؟ یہ سب اچھی بات نہیں، جو بات واضح ہے بھارت اگر اپنے موقف پر ہے تو پاکستان کے موقف میں بھی کوئی تبدیلی نہیں۔وزیراعظم نے یہی کہا امن کے لئے بات چیت کی جائے اور تنازعات کو دو طرفہ مذاکرات کرکے حل کیا جائے۔معترض حضرات بتائیں وہ اس سے زیادہ کیا چاہتے ہیں۔کیا وزیراعظم طبل جنگ بجا دیں اور ایٹمی جنگ ہو جائے؟ اس سے پہلے تین جنگوں سے کیا حاصل ہوا، جواب ہوگاسوائے بربادی کے، اس لئے بہتر ہے کہ تحمل اختیار کیاہے۔ اعتراض ہے تو مہذب پیرائے سے دلائل کے ساتھ کیا جائے اور پھر ساتھ متبادل تجاویز بھی دی جائیں اور یہی جمہوریت ہے۔

مزید : کالم


loading...