واقعات کا منہ زور ریلا حالات کو کہاں لے جائے گا؟

واقعات کا منہ زور ریلا حالات کو کہاں لے جائے گا؟
واقعات کا منہ زور ریلا حالات کو کہاں لے جائے گا؟

  


وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف کی ہدایت پر صوبائی وزیر قانون رانا ثناءاللہ نے وزارت سے استعفا دے دیا ہے، جسے منظور کر لیا گیا ہے۔رانا ثناءاللہ کو سانحہ لاہور کی شفاف تحقیقات کے لئے ہٹایا گیا ہے۔وزیراعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری ڈاکٹر توقیر شاہ کو بھی ان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ نے گزشتہ روز پریس کانفرنس میں کہا کہ لاہور میں ہونے والے واقعہ پر ان کا دل ابھی تک رنجیدہ ہے۔انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لئے عدالتی کمیشن تشکیل دیا گیا،جس سے حقائق عوام کے سامنے آئیں گے۔انہوں نے کہا رانا ثناءاللہ میرے قریبی ساتھی ہیں اور ان کی مسلم لیگ(ن) کے لئے گراں قدر خدمات ہیں، جب ملک میں ہرطرف گھٹاٹوپ اندھیرے اور مارشل لاءکا دور تھا تو رانا ثناءاللہ عقوبت خانوں میں تھے اسی طرح ڈاکٹر توقیر شاہ میرے چھوٹے بھائیوں کی طرح ہیں اور وہ گزشتہ پندرہ سال سے اپنے فرائض نہایت ایمانداری اور محنت سے سرانجام دے رہے ہیں، قانون اور آئین کی بالادستی کے لئے مشکل فیصلے کرنے پڑتے ہیں، ڈاکٹر طاہر القادری نے رانا ثناءاللہ کے استعفے کو ڈرامہ قرار دے کر مسترد کردیا ہے اور وزیراعظم نوازشریف اور شہباز شریف کے استعفے کا مطالبہ کیا ہے۔اس کے ساتھ ہی انہوں نے سانحہ کے تحقیقاتی ٹربیونل کا بائیکاٹ بھی کررکھا ہے اور سپریم کورٹ کے تین ججوں پر مشتمل نیا تحقیقاتی کمیشن بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔

ماڈل ٹاﺅن کا واقعہ جس طرح اور جس انداز میں ہوا، وہ انتہائی قابل مذمت ہے۔حکومت نے واقعے کے تھوڑے عرصے بعد ذمہ دار پولیس افسروں کو او ایس ڈی بنا دیا تھا اور ساتھ ہی جوڈیشل تحقیقاتی ٹربیونل بنانے کا اعلان کیا تھا۔لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے جسٹس علی باقر نجفی پر مشتمل تحقیقاتی ٹربیونل بنا دیا جس نے فوری طور پر کارروائی کا آغاز کردیا اور اخبارات میں اشتہارات کے ذریعے ان لوگوں کو ٹربیونل کے روبرو پیش ہونے کی دعوت دی جو بیان دینا چاہتے ہیں، ایسے میں ٹربیونل کا کام آسان کرنے کے لئے ضروری ہے کہ جس کسی کے پاس سانحہ کے بارے میں جو بھی معلومات ہوں وہ ٹربیونل کے روبرو پیش کردی جائیں، تاکہ وہ ان کی روشنی میں کسی حتمی نتیجے پر پہنچ سکے۔اگر بائیکاٹ جاری رکھا گیا تو ٹربیونل تو اپنا کام بہرحال مکمل کرہی لے گا، لیکن ممکن ہے بائیکاٹ کرنے والے بعد میں اپنے اس فیصلے پر کفِ افسوس ملتے رہ جائیں ۔

جہاں تک رانا ثناءاللہ کا تعلق ہے ان کا اس سانحے میں کیا کردار ہے، ہے بھی یا نہیں یہ سب کچھ تحقیقات کے نتیجے میں ہی سامنے آئے گا۔انہوں نے تو اب بھی یہی دعویٰ کیا ہے کہ فائرنگ میں نہ ان کا کوئی کردار ہے اور نہ وزیراعلیٰ پنجاب کا۔ اسلام آباد میں جمعرات کو وزیراعظم کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں بھی وزیراعلیٰ کا یہی موقف تھا کہ جونہی ان کے علم میں یہ واقعہ آیا انہوں نے فوری طور پر پولیس کو پیچھے ہٹنے کا حکم دیا۔اس کے بعد وہ گورنر ہاﺅس میں لاہور ہائی کورٹ کے نئے چیف جسٹس خواجہ امتیاز احمد کی تقریب حلف برداری میں چلے گئے، جہاں سے باہر آنے پر انہیں علم ہوا کہ معاملہ ابھی تک سلجھ نہیں پایا تو انہوں نے دوبارہ یہ حکم دیا کہ پولیس پیچھے ہٹ جائے، لیکن پولیس ان کا حکم ماننے میں ناکام رہی، اس کے بعد وہ صوبائی سطح کی ایک میٹنگ میں بیٹھے تھے کہ ایک افسر نے چٹ لا کر وزیراعلیٰ کے سامنے رکھ دی، جسے پڑھ کر وزیراعلیٰ نے کہا میری چھ سال کی محنت پر پانی پھر گیا۔

یہ باتیں اگر درست ہیں تو پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ پولیس نے ان کی ہدایت پر عمل کیوں نہ کیا ؟ کیا پولیس افسروں کو ان کا حکم صاف طور پر سمجھ نہیں آیا یا ابلاغ درست طور پر نہیں ہو سکا؟ انہوں نے اگر ایک سے زیادہ مرتبہ پولیس کو یہ حکم پہنچایا کہ وہ پیچھے ہٹ جائے تو پھر معلوم کیا جانا چاہیے کہ کیا کوئی ایسی قوت موقع پر موجود تھی یا پس منظر میں کام کررہی تھی جو وزیراعلیٰ کی ہدایات اور احکامات کو غیر موثر بنا رہی تھی،اب تک جو شواہد سامنے آئے ہیں ان میں کسی سازش کی بو تو سونگھی جا سکتی ہے لیکن حقائق پوری تحقیقات کے بعد ہی منظر عام پر آئیں گے۔ڈاکٹر طاہر القادری کا یہ کہنا کہ ایسے کمشنوں کی رپورٹ کبھی سامنے نہیں آئی، اگرچہ اپنے اندر صداقت کے پہلو رکھتا ہے، لیکن اس بنیاد پر بائیکاٹ کی وجہ سے یہ ہوگا کہ اب بھی پوری طرح حقائق سامنے نہیں آ سکیں گے۔شاید درون پردہ کچھ قوتوں کی اب بھی خواہش ہو کہ وقت کے ساتھ ساتھ یہ معاملہ بھی وقت کی گرد میں دب جائے اور یہ پتہ نہ چل سکے کہ وزیراعلیٰ کے احکامات غیر موثر کیوں ہو گئے، لیکن پوری کوشش ہونی چاہیے کہ یہ سارا معاملہ اب طشت ازبام ہو جائے۔

رانا ثناءاللہ پارٹی کے جیالے ہیں وہ موقع بے موقع کوئی نہ کوئی بیان داغتے رہتے ہیں جس کی وجہ سے مخالفین تو ان کے خلاف ہیں ہی، خود مسلم لیگ(ن) کے اندر ایک ایسا حلقہ ہے جنہیں ان کی یہ ”ادائیں“ پسند نہیں۔خود رانا صاحب کا رویہ بھی بعض اوقات ایسا ہوتا ہے جیسا ان لوگوں کا ہوتا ہے جنہیں مرنے کا شوق ہوتا ہے ، ایسے میں اگر شہر کے لوگ بھی ظالم ہوں تو پھر وہی ہوتا ہے جو رانا ثناءاللہ کے ساتھ ہوا ہے، تاہم اگر ان کے استعفے سے سچ تک پہنچنے میں مدد ملتی ہے تو فیصلہ بروقت ہی کہلائے گا لیکن اگر رانا صاحب کے استعفے اور ڈاکٹر توقیر شاہ کی برطرفی کے باوجود تحقیقات میں کوئی خاص مدد نہیں ملتی تو پھر کیا ہوگا؟ بہرحال وزیراعلیٰ نے اپنے مسلسل اقدامات سے اپنی طرف سے اتمام حُجت کی کوشش تو کی ہے، اگر اس سے تحقیقات میں مدد ملتی ہے تو اچھی بات ہے تاہم اس سب میں ڈاکٹر طاہر القادری کو اطمینان حاصل ہوتا نظر نہیں آتا اور وہ وزیراعظم اور وزیراعلیٰ کے استعفے کا مطالبہ کررہے ہیں، اب دیکھیں واقعات کا ریلا حالات کو کس طرف لے کر جاتا ہے۔واقعات تیز رفتار ہیں اور بہت تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔ ٭

مزید : کالم


loading...