لندن پلان سے سانحہ لاہور تک

لندن پلان سے سانحہ لاہور تک
لندن پلان سے سانحہ لاہور تک

  


وزیراعلیٰ شہبازشریف نے وزیرقانون رانا ثناءاللہ اور اپنے پرنسپل سیکرٹری ڈاکٹر توقیر شاہ کو ہٹا کر اچھا اور بروقت اقدام کیا ہے۔ ماڈل ٹاﺅن میں پیش آنے والا واقعہ اتنا بڑا ہے کہ اس کے اثرات آنے والے وقت میں بھی محسوس کیے جاتے رہیں گے۔ نتائج خواہ کچھ بھی ہوں معاملے کے حقائق کو سامنے لانا ہو گا۔ یہ بھی دیکھنا ہو گا کہ سانحہ ماڈل ٹاﺅن کے باعث سب سے زیادہ فائدہ کس کو ہوا ہے؟ 2 خواتین سمیت 10 افراد کی ہلاکت وہ بھی لاہور جیسے شہر میں دل دہلا دینے والی واردات ہے۔ قتل و غارت کی ایسی مثالیں صرف بھٹو دور میں ہی ملا کرتی تھیں۔ ایسے خونیں کھیل کے فوری بعد جو سیاسی مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کی گئی وہ بذات خود بیگناہ افراد کے خون سے مذاق کے مترادف ہے۔

سب سے پہلے تو یہ اعتراف کر لیا جائے کہ صوبائی حکام نے بدترین نااہلی کا مظاہرہ کیا۔ جب یہ اطلاعات عام تھیں کہ اس بار سیاسی عدم استحکام پیدا کرنے کے لئے لاہور شہر کے گرد سرخ دائرہ لگا دیا گیا ہے تو پھر پھونک پھونک کر قدم کیوں نہ اٹھائے گئے؟ انتظامیہ کو حق حاصل تھا اور ہے کہ امن و امان برقرار رکھنے کے لئے پولیس اور دیگر سیکیورٹی اداروں کو بروئے کار لائے۔ تجاوزات کا خاتمہ بھی کوئی بری بات نہیں۔ اگر تجاوزات ہٹا کر ڈاکٹر طاہرالقادری اور ان کے پشت پناہوں کو یہ پیغام دیا جانا مقصود تھا کہ گڑبڑ کی تو قانون کا ڈنڈا حرکت میں آئے گا تب بھی اس میں کوئی حرج نہ تھا، لیکن کیسا آپریشن تھا ،جو کئی گھنٹوں تک جاری رہا اور پھر وہ لمحہ آیا جب گولیوں کی برسات ہو گئی۔ تحقیقات جاری ہیں، زیادہ بات کرنا شاید مناسب نہ ہو، مگر یہ بات زبان زد عام ہے کہ موقع پر موجود پولیس افسروں نے سارا معاملہ بگاڑا۔

وزیراعلیٰ میاں محمدشہباز شریف کے حوالے سے یہ بات بھی منسوب کی جا رہی ہے کہ گولی چلانے میں پہل ادارہ منہاج القرآن کے گارڈ نے کی۔ اس بات کو سچ بھی مان لیا جائے تب بھی جوابی کارروائی میں بندوقوں کے دھانے کھول دینے کا کیا جواز تھا؟ خصوصاً جب سامنے موجود لوگوں میں اکثریت ایسے بے گناہ افراد کی تھی جو ڈاکٹر طاہرالقادری کی باتیں سن کر ان کی عقیدت میں مبتلا تھے۔ شاید انہیں اپنے ”پیرصاحب“ کے حقیقی عزائم کا اندازہ تک نہ تھا۔ کیا دور تھا کہ جب پنجاب میں ایک سے بڑھ کر ایک پروفیشنل پولیس افسران موجود ہوتے تھے۔ جنرل آصف نواز مرحوم کے ایما پر 1992ءمیں بینظیر بھٹو کی قیادت میں ہونے والے لانگ مارچ کو پولیس کی طاقت سے ہی ناکام بنایا گیا تھا۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اس وقت طاقت کے ساتھ ساتھ حکمت بھی استعمال کی گئی۔ سانحہ ماڈل ٹاﺅن کے حوالے سے تو لگتا ہے کہ سارا تماشا ہی قادری صاحب کو ہیرو بنانے کے لئے کیا گیا، جو معصوم مرد و خواتین اپنی جان سے گئے ان کا حقیقی دُکھ صرف ان کے ورثاءہی محسوس کر سکتے ہیں۔ باقی رہ گئی سیاسی بیان بازیاں ،تو ان کا واحد مقصد اقتدار میں چور دروازے سے آنے کے لئے اپنی اپنی راہ ہموار کرنا ہے۔

سانحہ کے فوری بعد مسلم لیگ (ق) حرکت میں آئی۔ چودھری پرویزالٰہی نے شہبازشریف کو پاکستان کا نریندر مودی قرار دے ڈالا۔ وہ شاید بھول چکے ہوں، مگر 18کروڑ عوام کو آج بھی یاد ہے کہ ان کے سابق مرشد جنرل (ر) مشرف نے 12مئی 2007ءکو کراچی میں ایک ہی دن میں 50 سے زائد افراد کو قتل کرا کے بھرے جلسے میں نہ صرف اس کا اعتراف کیا، بلکہ اسے عوام کی فتح قرار دیتے ہوئے جشن بھی منایا تھا۔ نریندر مودی اور مشرف میں یہ قدر مشترک رہی کہ وہ قتل عام کے بعد علانیہ اعتراف کو اعزاز سمجھتے تھے۔ شہباز شریف نے کم از کم ایسا تو نہیں کیا۔ عوام کے سامنے آ کر تحقیقاتی ٹربیونل بنانے کے ساتھ ساتھ قصوروار ثابت ہونے پر خود اپنے استعفے کی بھی پیشکش کر دی۔ اپنے دست راست وزیر قانون اور پرنسپل سیکرٹری سمیت کئی پولیس افسروں کو بھی فارغ کر دیا،جبکہ ایک روز میں 50 سے زائد لاشیں گرانے کا حکم دینے والے پرویز مشرف نے ایک سے زائد مرتبہ سینہ تان کر کہا تھا کہ کراچی میں قتل عام کے حوالے سے کسی کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہو گی، مسلم لیگ (ق)، مگر پھر بھی یہ قوالی کرتی رہی کہ مشرف کو وردی سمیت 10بار صدر منتخب کرائیں گے۔

ماڈل ٹاﺅن واقعہ کے بعد دہشت کی جو لہر دوڑی اس نے عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ انہوں نے فوری طور پر اپنا ٹرین مارچ منسوخ کرنے کا اعلان کر دیا۔ ان کے اندر کا سیاست دان، مگر بیدار رہا۔ سانحے میں گرنے والی لاشوں کا خیال آتے ہی وہ خوف اور خوشی کی ملی جلی کیفیت میں مبتلا ہو گئے۔ وجد کے اسی عالم میں انہوں نے قادری کے ہاتھ بیعت کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ علامہ صاحب 10جنازوں کے ساتھ حکومت کی جڑوں میں بیٹھ جائیں گے۔ شیخ صاحب کا اندازہ درست ثابت ہوتا ہے یا نہیں یہ تو وقت ہی بتائے گا، مگر سب دیکھ رہے ہیں کہ انتخابی حیثیت کے حوالے سے زیرو کی حیثیت رکھنے والی عوامی تحریک کے دائیں بائیں سیاسی جنازوں کی لائن ضرور لگتی جا رہی ہے۔

کراچی میں امن کے پھول، بلکہ باغات اگانے والی ایم کیو ایم تو موقع کی تاک میں رہتی ہے، مگر کپتان عمران خان بھی اس موقع پر حرکت میں آئے۔ جائے وقوعہ اور جناح ہسپتال میں زخمیوں کی عیادت کے دوران ان کی باڈی لینگوئج عیاں ہو رہی تھی کہ بس اب آخری کھلاڑی آﺅٹ کرنا باقی رہ گیا ہے۔ ویسے قادری اور مسلم لیگ(ق) کو جان لینا چاہئے کہ عمران خان کرکٹ سمیت کسی چیز میں شراکت داری پر یقین نہیں رکھتے۔ خود پارٹی کے بعض حلقے دبے لفظوں میں اپنے سربراہ کو سیاسی آمر قرار دیتے ہیں۔ ایسے میں اگر کہیں اقتدار میں آنے کے لئے کپتان کا داﺅ لگ بھی گیا تو قادری اور مسلم لیگ (ق) کو کچھ نہیں ملے گا۔ سخت گیر کپتان دونوں کو اقتدار کی بس میں بیٹھنے کا موقع دینا تو درکنار پائیدان پر بھی کھڑے ہونے کی اجازت نہیں دے گا۔

ایم کیو ایم کی مذمت کے جواب میں خواجہ سعد رفیق کا،جو بیان سامنے آیا وہ اس سے بھی زیادہ قابل مذمت ہے۔ وزیر ریلوے فرماتے ہیں کہ الطاف حسین نے احسان فراموشی کا مظاہرہ کیا۔ وفاقی وزیر کے بیان کو سچ ماننے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ الطاف حسین پر جو احسان کیا گیا وہ یقینی طور پر ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس کے حوالے سے ہے۔ وفاقی حکومت نے ایسا کر کے سیاسی فائدہ اٹھانے کی، جو کوشش کی وہ تو پوری طرح کامیاب نہیں ہو سکی، لیکن کراچی کو آگ اور خون کے کھیل سے پاک کرنے کا سنہرا موقعہ ضائع کر دیا۔ اس باب کو بند کرنے کے لئے کوئی اور حل سامنے نہ آیا تو موجودہ حکمرانوں کو تاریخ کبھی معاف نہیں کرے گی۔

رانا ثناءاللہ اور ڈاکٹر توقیر کو ہٹانے کے حوالے سے ہونے والی پریس کانفرنس پر بعض حلقے تبصرہ کر رہے ہیں کہ بالآخر حکومت دباﺅ میں آ گئی۔ خود شہباز شریف کا، مگر یہ کہنا ہے کہ انہوں نے دفاعی پوزیشن ہرگز اختیار نہیں کی۔ ایسا ہونا بھی نہیں چاہئے۔ ابھی بہت سے سوالات کا جواب باقی ہے۔ یہ پتہ چلایا جائے کہ وقوعہ کے روز ادارہ منہاج القرآن میں کس کی تقریر نے مریدین قادری کو اس بات پر اکسایا کہ وہ مسلح پولیس پر پل پڑیں۔ کون یہ کہہ رہا تھا کہ پولیس سے لڑتے ہوئے آنے والی موت شہادت ہے؟ پہلی گولی کس نے چلائی؟ ایسی اطلاعات بھی گردش کر رہی ہیں کہ پولیس والے صبح سوا 8 بجے اوپر سے ملنے والے احکامات کی روشنی میں واپس پلٹنا شروع ہو گئے تھے کہ ”مجاہدین منہاج“ نے ان کا پیچھا کر کے پھر سے پتھراﺅ کر دیا۔ طاہرالقادری اور ان کے ہم خیال، جس قوت کے کہنے پر بھی اودھم مچانے کا ارادہ رکھتے ہوں اس سے قطع نظربیگناہوں کے خون کا حساب لیا جائے۔ لندن پلان سے سانحہ لاہور تک کے پورے سلسلے کا باریک بینی سے جائزہ لینا ہو گا۔

عدالتی کمیشن بنانے کا فیصلہ بہت صائب ہے۔ طاہرالقادری، مگر اس سے فرار کی راہ اختیار کر رہے ہیں۔ حکومت کو چاہئے کہ وہ سپریم کورٹ کے ایک سے زائد ججوں پر مشتمل کمیشن بنانے کے لئے چیف جسٹس آف پاکستان سے درخواست کرے۔ علامہ صاحب پھر بھی فرار کا راستہ اختیار کریں تو کوئی پروا کیے بغیر قانونی کارروائی آگے بڑھائی جائے۔ عدالتی کمیشن کے روبرو غلط بیان جرم کے زمرے میں آتا ہے۔ علامہ صاحب کو اس امر کا بخوبی احساس اور تجربہ ہے۔ 90ءکی دہائی میں ان کے گھر پر ہونے والے مبینہ حملے کو ہائیکورٹ کے فاضل جج پر مشتمل کمیشن نے ڈرامہ قرار دے دیا تھا۔ اس واقعے کی تحقیقات کے دوران علامہ صاحب کے خاندانی حسب و نسب کے علاوہ جھنگ میں درج ہونے والی ایک آدھ ایسی ایف آئی آر کا بھی ذکر آ گیا جس نے ان کے لئے خاصی بدمزگی پیدا کر دی تھی۔ حکومت کو یہ بھی چاہئے کہ وہ سارا معمہ کھول کر عوام کے سامنے رکھ دے کہ علامہ صاحب باربار کس کے کہنے پر پاکستان پر حملہ آور ہوتے ہیں۔ مسلم لیگ(ق)، ایم کیو ایم اور چند مخصوص مفادات کے حامل چند گروپوں کو ساتھ لے کر انقلاب لانے کی بات کرنا ہی مضحکہ خیز ہے۔ تمام آزمائے ہوئے لوگ اور خود علامہ قادری کا ”بے داغ“ ماضی سب کے سامنے ہے۔ اگر اسے گستاخی نہ سمجھا جائے تو عوام کی حالت بدلنے کے لئے انقلاب لانے کا دعویٰ کرنے والے علامہ صاحب سے یہ سوال کرنے کو جی چاہتا ہے کہ : ”آپ جناب ہیں کون؟“

لاہور میں ہی فائرنگ کے ایک اور واقعہ میں ایم کیو ایم کی رکن قومی اسمبلی طاہرہ آصف جاں بحق ہو گئیں۔ ان کی المناک موت کو بھی سیاسی طور پر کیش کرانے کی بھرپور کوشش کی گئی۔ طاہر القادری کے حواریوں نے یہ قتل بھی پنجاب حکومت کے سر تھوپنے کی کوشش کی۔ ایم کیو ایم والے پنجاب حکومت سے لے کر طالبان کارندوں تک کو ذمہ دار ٹھہراتے رہے۔ تحقیقات کا انتظار ہی نہیں کیا جا رہا۔ مسلم لیگ(ق) سے مسلم لیگ(ن) میں جانے کی ناکام کوشش کے بعد ایم کیو ایم میں جانے والی مقتولہ طاہرہ آصف کے شوہر ”نیک نام“ سرکاری افسر ہےں۔ واردات کے پس پردہ محرکات صرف شفاف تفتیش سے ہی سامنے لائے جا سکتے ہیں۔ پولیس کسی دباﺅ کو خاطر میں لائے بغیر جلدازجلد حقائق سامنے لائے۔  ٭

مزید : کالم


loading...