تجربہ کار کا تجزیہ اور ماضی سے تائید!

تجربہ کار کا تجزیہ اور ماضی سے تائید!
تجربہ کار کا تجزیہ اور ماضی سے تائید!

  


تجربے کا بھی کوئی نعم البدل نہیں ہوتا۔ یوں واقعات سامنے گزرے ہوں اور کوئی شخصیت کسی اچھے یا بھلے، بُرے حوالے سے منسلک بھی رہی ہو۔ جب وہ کوئی بات کہے تو اس پر غور کر لینا چاہئے۔ ایک ایسی ہی سینئر شخصیت نے دریا کو کوزے میں بند کرنے کی کوشش کی ہے۔ اگرچہ یہ دریا تو شاید دریا نہ رہا البتہ بی آر بی جتنی نہر ضرور ہو گیا۔ محترم نے جو تجزیہ کیا اس کے مطابق جب مطالبات حالات کے مطابق تسلیم کئے جائیں تو پھر وہ بڑھتے بھی چلے جاتے ہیں۔ یہ درست اور ثابت بھی ہو رہا ہے۔ اب نوبت یہاں تک آ گئی ہے کہ محترم ڈاکٹر طاہر القادری نے وزیراعلیٰ اور وزیراعظم کے استعفے کے بعد ایک ایس ایچ او سے انسپکٹر جنرل پولیس تک سب کو ہٹانے کا مطالبہ کر دیا ہے اور یہ وزیراعلیٰ کی اس پریس کانفرنس کے ردعمل میں سامنے آیا، جس میں میاں محمد شہباز شریف نے رانا ثناءاللہ کو ہٹانے، ڈاکٹر توقیر کو تبدیل کر کے او ایس ڈی بنانے کا اعلان کیا اور ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ ملوث ملازمین کی گرفتاریوں کا بھی حکم دے دیا ہے۔ وزیراعلیٰ بلاشبہ (صدمہ کہہ لیں یا گھبراہٹ کہیں) وہ دباﺅ کا شکار تو نظر آئے کہ انتظامیہ نے ڈاکٹر طاہر القادری کو 14نعشیں اور درجنوں زخمی پیش کر دیئے، اب وہ تو یہ بھی کہتے ہیں کہ ان کے سینکڑوں کارکن لاپتہ ہیں اور کوئی نہیں کہہ سکتا کہ ان میں سے کتنے زندہ اور کتنے اللہ کو پیارے ہو چکے اور یہ کہاں ہیں، اس سلسلے میں بہرحال یہی کہا جا سکتا ہے کہ تاحال عوامی تحریک کی طرف سے ایسے لاپتہ افراد کے نام وغیرہ نہیں بتائے گئے۔ یوں لاپتہ ان کی طرف سے بھی لاپتہ ہیں۔

بہرحال بات تجربے کی ہو رہی تھی، تو ہمیں بھی بہت کچھ یاد آیا کہ صدر ایوب خان کے خلاف تحریک سے پاکستان قومی اتحاد اور اس کے بعد کی تحریکوں کی کوریج بھی کرتے رہے ہیں۔ اس سلسلے میں جہاں سے بات شروع کی تو ہمیں اپریل1977ءکی تین تاریخیں یاد آ رہی ہیں۔ ایک9اپریل تھی، جب ریگل چوک مال روڈ پر گولی چلی، دوسری14اپریل اور تیسری19اپریل ہے۔ 9اپریل کے حوالے سے تو دو روز قبل ہی عرض کیا جا چکا البتہ14اپریل اور19اپریل کو گورنر ہاﺅس لاہور میں پیش آنے والے واقعات پھر سے دہرانے کو جی چاہتا ہے۔

جہاں تک14اپریل کی بات ہے، تو یہ وہ یادگار دن ہے، جب سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے پہلی مرتبہ بیرونی مداخلت کا ذکر کیا اور الفاظ ”گرے ہاﺅنڈز“ استعمال کئے اور کہا ”گرے ہاﺅنڈز“ میرے پیچھے لگے ہوئے ہیں۔

ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف قومی اتحاد کی تحریک زوروں پر تھی۔9اپریل کو ریگل چوک میں پولیس فائرنگ کا سانحہ ہو چکا تھا۔ ہمارے چودھری اعتزاز احسن نے بلبلا کر اسے ظلم قرار دیا اور صوبائی وزیر اطلاعات کے ساتھ صوبائی اسمبلی اور پیپلزپارٹی کی رکنیت سے بھی استعفیٰ دے دیا ہوا تھا۔ لاہور میں پیپلزپارٹی کے رہنماﺅں کا ناطقہ بند تھا، ان کے گھروں پر حملے بھی ہو رہے تھے۔ ایسے میں گورنر ہاﺅس لاہور کے وسیع لان میں شامیانے لگے ہوئے تھے۔ 14اپریل کو موسم خوشگوار اور ہلکی پھوار ہو رہی تھی، تقریباً ڈیڑھ ہزار کارکن ان شامیانوں کے نیچے جمع نعرہ زن تھے وہ سب مشتعل تھے اور اپنے لیڈر ذوالفقار علی بھٹو کا انتظار کر رہے تھے، جو اُس وقت سامنے بالکونی میں بیٹھے کارکنوں کو دیکھے جا رہے تھے۔ پھر اُن کی طرف سے پیغام آیا کہ کارکن جذبات کنٹرول اور نظم و ضبط کا مظاہرہ کریں تو وہ آ کر بات کرنے کو تیار ہیں۔ یہ یقینی دہانی کرا دی گئی۔ بھٹو آ گئے۔ کارکن بے قابو ہوئے۔ بہت زور دار نعرے لگے، پھر ذوالفقار علی بھٹو نے اپنے مخصوص انداز میں خطاب کیا، پاکستان قومی اتحاد کے تمام الزامات کی تردید کی۔

ایسے وقت ہمارے پیارے محمود بٹ (جو اُس وقت گوالمنڈی میں رہتے اور روزنامہ ”پاکستان ٹائمز“ میں کارٹونسٹ تھے) نے کھڑے ہو کر بھٹو کو مخاطب کر کے کہا: ”قومی اتحاد والے ہمارے گھروں پر حملے کر رہے ہیں، ہمارے گھروں کو جلا رہے ہیں، آپ ہمیں جواب دینے سے روکتے ہیں، خدارا، ایسا نہ کریں، ہمیں بھی اسلحہ دیں، ہم ان کا مقابلہ کر سکتے ہیں“۔ محمود بٹ کے مطالبے کے بعد مجمع بہت زیادہ پُرجوش ہو گیا اور مطالبے کی تائید ہونے لگی۔ یہ بھی یاد ہے کہ شیخ غلام رسول (مرحوم) نے بہت پُرجوش نعروں اور شعر سُنا کر تائید کی تھی۔ جواب میں ذوالفقار علی بھٹو نے کارکنوں کو جوش پر ہوش کو غالب لانے کی تلقین کی اور وہاں یہ لفظ استعمال کئے گئے، جن کے معنی ”شکاری کتے، میرے پیچھے لگے ہوئے ہیں“ پھر یہی وہ الفاظ ہیں، جو بھٹو صاحب نے صدر راولپنڈی میں مجمع میں خط لہرا کر خطاب کرتے ہوئے کہے تھے۔

بہت سی تفصیل لوگوں کو یاد ہے، اس کے بعد 19اپریل1977ءکا دن ہے جو بہت اہم تھا۔ اُس روز دربار ہال میں بھٹو مرحوم نے پُرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کیا اور شراب، جوئے پر پابندی کے ساتھ جمعہ کی چھٹی کا بھی اعلان کر دیا، ساتھ ہی شریعت کے نفاد کا اعلان کیا اور اس کے لئے ایک کمیٹی تشکیل دے دی۔ یہ دن وہ تھا جس روز کرسی مضبوط والی بات بھی ہوئی اور بھٹو صاحب نے دعویٰ کیا کہ ”وہ کسی کے نرغے میں نہیں اور کوئی ان کو ڈکٹیٹ نہیں کرا سکتا“ ہم نے اُسی روز پیپلزپارٹی کے بڑے جیالے کو یہ کہہ دیا تھا کہ ”بھٹو صاحب گئے“ اور یہ ہم نے پریس کانفرنس سے باہر آتے ہی اس بڑے جیالے سے کہا جو اس روز گورنر ہاﺅس میں اپنے سسرال میں تھے۔

قارئین! پھر دنیا نے دیکھا کہ پاکستان قومی اتحاد والے جو نظام مصطفی کا نعرہ لگا رہے تھے ، ڈٹ گئے۔ قیادت نے32کے32نکات منظور کرنے پر زور دیا، اس میںذوالفقار علی بھٹو کے مستعفی ہونے اور عبوری حکومت بنانے کا مطالبہ32واں تھا اور جب4.5 جولائی کی شب معاہدہ ہوا تو بقول نوابزادہ نصر اللہ صرف آدھا مطالبہ رہ گیا کہ آئینی ضرورت تھی اور یہ مان لیا گیا کہ ذوالفقار علی بھٹو صرف بے اختیار آئینی سربراہ رہیں گے تاکہ نئے انتخابات ہو سکیں۔

فاضل سینئر نے ان حالات اور بعد میں میاں صاحبان کے دو اقتدار والے ادوار اور جنرل(ر) پرویز مشرف کے آنے کے واقعات کی روشنی میں شاید یہ تجزیہ کیا اور اپنا تجربہ بتایا ہے۔ ہم نے یہ واقعات یوں تحریر کئے کہ اس تجزیئے کی تائید ہی ہوتی ہے اور وہ یوں بھی کہ اب مطالبے بڑھتے چلے جا رہے ہیں، ان کی حد کیا ہو گی یہ مطالبات کرنے والے جانیں۔ بہرحال اس وقت میاں محمد شہباز شریف اپنے انداز سے حالات کو سنبھالنے میں لگے ہوئے ہیں، وہ زیادہ بہتر جانتے ہیں کہ کیا کِیا جا سکتا ہے۔ تاہم عام تاثر یہ ہے کہ اگر وہ اسی رفتار سے کارروائیاں کرتے چلے گئے تو ماڈل ٹاﺅن میں وقوعہ والے حاضر ڈیوٹی ملازمین اپنا راستہ خود بھی متعین کر سکتے ہیں۔

کسی کے یہ الفاظ بھی تاریخی ہیں۔19اپریل کے اعلامیہ کو کس نے ماننا تھا۔ اسلام کے حوالے سے تو لوگ مولانا شاہ احمد نورانی اور مفتی محمود کو اتھارٹی جانتے تھے۔ ٭

مزید : کالم


loading...