عوامی تحریک کے لاپتہ کارکن؟

عوامی تحریک کے لاپتہ کارکن؟

سانحہ ¿ ماڈل ٹاﺅن کی عدالتی تحقیق کا عمل اپنی جگہ جاری ہے فاضل ٹریبونل نے پاکستان عوامی تحریک کو ساتھ آنے کی دعوت دی کہ حقائق سامنے آ سکیں۔ یہ ایک درست سمت کی طرف اشارہ ہے جسے عوامی تحریک کو قبول کر کے آئینی اور قانونی طریقے سے اپنی مہم کو آگے بڑھانا چاہئے یہ بائیکاٹ والا سلسلہ ترک کر کے اپنا دفاع کرنا چاہئے۔ڈاکٹر طاہر القادری قادر الکلام اور منطقی گفتگو کرتے ہیں، ان کی طرف سے مسلسل الزام لگایا جا رہا ہے کہ ان کو14نعشیں دے دی گئی ہیں، زخمی تشویش ناک حالت میں ہیں اور ان کے 200 سے زائد کارکن لاپتہ ہیں، جن کا کچھ پتہ نہیں کہ وہ کہاں اور کس حال میں زندہ ہیں اور زندہ بھی ہیں یا نہیں۔ یوں ڈاکٹر طاہر القادری بھی ”مسنگ پرسنز“ والے مدعیوں کی فہرست میں آ گئے ہیں۔ تاہم ابھی تک ان کی یا ان کی جماعت کی طرف سے ایسی کوئی فہرست جاری نہیں کی گئی کہ لاپتہ ہونے والے کون اور ان کے کوائف کیا ہیں۔ہمارے سٹاف رپورٹر کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے براہ راست ادارہ منہاج القرآن کے صاحبان سے بار بار دریافت کیا اور ہر بار تھوڑا انتظار کرنے کو کہا گیا کہ فہرست تیار کی جا رہی ہے۔ یہ سلسلہ رات گئے خبر کے فائل ہونے تک جاری رہا، لیکن کسی لاپتہ کارکن کی تفصیل مہیا نہیں کی گئی۔ یوں ابھی تک میڈیا سمیت سب اندھیرے میں ہیں، لیکن عوامی تحریک اور خود ڈاکٹر طاہر القادری کی طرف سے مسلسل الزام لگایا جا رہا ہے۔لاپتہ افراد کا مسئلہ پاکستان میں بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ بلوچ حضرات کی طرف سے جاری تحریک لاپتہ افراد کے لئے ہے تاہم ان کے پاس مکمل فہرست موجود ہوتی ہے۔ یہاں معاملے کی نوعیت مختلف ہے۔ ہر طرح سے کوشش کے باوجود بھی فہرست نہیں دی گئی۔ خود ڈاکٹر طاہر القادری الزام دہراتے ہیں کسی کا نام نہیں لیتے۔پاکستان عوامی تحریک کے اس رویئے سے معاملہ مشکوک سا ہو جاتا ہے اور لوگ پوچھتے ہیں کہ اگر کارکن لاپتہ ہیں تو وہ کون ہیں اور ان کی عمر کتنی ہے اور ان کے لواحقین کیا کہتے ہیں۔ یہ سب سامنے آنا چاہئے۔ اگر واقعی اتنے لوگ لاپتہ ہیں تو ڈاکٹر طاہر القادری کو خود اس طرف توجہ کرنا اور فہرست مہیا کرنا چاہئے۔

مزید : اداریہ


loading...