تحقیقاتی کمیشن کی سفارشات کا انتظار کیا جائے

تحقیقاتی کمیشن کی سفارشات کا انتظار کیا جائے


سولہ اور سترہ جون کی درمیانی شب کو ماڈل ٹاؤن میں پولیس اور ڈاکٹر طاہر القادری کے کارکنوں کے درمیان بدترین تصادم ہونے کے چند روز بعد وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے صوبائی وزیرِ قانون رانا ثناء اﷲ سے استعفا لے لیا اور اپنے پرنسپل سیکریٹری توقیر علی شاہ کو بر طرف کر دیا۔ ایک ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ لاہور میں ہونے والے افسوسناک واقعے پر ابھی تک ان کا دل رنجیدہ ہے۔ انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لئے عدالتی کمیشن تشکیل دیا گیا جس سے حقائق عوام کے سامنے آئیں گے۔انہوں نے کہا کہ انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لئے کچھ دیگر اہم اقدامات کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ خادمِ اعلیٰ کی حیثیت سے ان کا چھ سالہ دور سب کے سامنے ہے، وہ سیلاب اور دیگر قدرتی آفات کے دوران پنجاب کے عوام کے لئے دیوانہ وار پھرتے رہے، وہ ہمیشہ مظلوموں کے ساتھ سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر کھڑے رہے اور طاقتوروں اور ظالموں کے غرور کو قانون کے مطابق خاک میں ملانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی اور اب ان پر معصوم زندگیوں کے ضیاع میں ملوث ہونے کا الزام لگایا جا رہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ معصوم لوگوں پر فائرنگ کرنے والوں کی فی الفور گرفتاری کا حکم دے دیا گیا ہے۔اور وہ لاہور کے واقعے میں انصاف دلا کر ہی دم لیں گے۔ انہوں نے کہا کہ رانا ثناءﷲ اور توقیر علی شاہ کی برطرفی کا فیصلہ آسان نہیں تھا لیکن قانون اور آئین کی بالا دستی کے لئے مشکل فیصلے کرنے پڑتے ہیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر کوئی عدالتی کمیشن سے مطمئن نہیں تو وہ سپریم کورٹ میں کمیشن کی تبدیلی کے لئے درخواست دے سکتا ہے اور اگر سپریم کورٹ اس واقعے کا سو موٹو نوٹس بھی لے تو انہیں کوئی اعتراض نہیں۔

وزیر اعلیٰ کے بارے میں اس بات میں تو کوئی شک و شبہ نہیں کہ وہ جو ٹھان لیتے ہیں اس کو پورا کر کے ہی دم لیتے ہیں لیکن اب جب کہ معاملات کی تحقیقات کے لئے جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا جا چکا ہے جو تحقیقات کے بعد سفارشات مرتب کرے گا، ایسے میں ان کا یہ فیصلہ قبل از وقت تومحسوس ہوتا ہی ہے لیکن ساتھ ہی ساتھ بہت سے سوالات کو بھی جنم دیتا ہے ۔بہت سے لوگ یہ سوچنے پر مجبور ہو گئے ہیں کہ کہیں اس سارے قصے میں وزیرِ قانون براہِ راست ملوث تو نہیں، کہیں پولیس کے اپنے اختیارات سے تجاوز کی وجہ ان ہی کا کوئی حکم تو نہیں کیا وہ انصاف کا بول بالا چاہتے ہیں۔ وجہ چاہے جو بھی ہو ہمارے خیال میں تھوڑے دن مزید تحمل سے کام لیتے ہوئے جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ کا انتظار کر لیا جاتاتو بے یقینی کی یہ فضا قائم نہ ہوتی اورمعاملات قانونی انداز میں بہترطریقے سے سلجھائے جاسکتے،لیکن ساتھ ہی ساتھ یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ یہ قدم وزیراعلیٰ کی اس بات کی پرزور تائیدکرتا ہے کہ وہ انصاف کے حصول میں کوئی رکاوٹ برداشت نہیں کریں گے اوراس کی فراہمی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے، چاہے اس کے لئے انہیں بڑی سے بڑی قربانی ہی کیوں نہ دینا پڑے ۔ اس سلسلے میں پہلی قربانی دے کروہ صفائی مہم کا آغاز تو کر چکے ہیں اور بلاشبہ معاملات کی شفاف تحقیقات کے لئے ان تمام عناصر کو بھی منظرِ عام پر لائیں گے جن کا اس معاملے سے بالواسطہ یا بلاواسطہ کوئی بھی تعلق ہے اور وہ تحقیقات پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔اسی طرح وہ اپنے تمام تر دعو ے سچ ثابت کر سکتے ہیں۔

یہاں اس بات کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ اب مخالفین کے مطالبات کی فہرست طویل ہونے کا خدشہ بھی ہے۔جیسے کہ اب ان کی خواہش ہے کہ وزیر اعلیٰ مستعفی ہونے کا اعلان کریں، بہت ممکن ہے کہ ان کی حکومت سے توقعات اس حد تک بڑھ جائیں کہ جائز ناجائز کے درمیان تمیز ہی ختم ہو جائے۔ حالانکہ وزیراعلیٰ کے اس اقدام سے مخالفین کو تسلی و تشفی ہوجانی چاہئے کہ حکومت اس معاملے کی تحقیقات کے لئے سنجیدہ ہے، وہ بھی مجرموں کو کٹہرے میں دیکھنا چاہتی ہے ، انصاف کی گاڑی کم از کم چل تو رہی ہے اور جلدہی یہ اپنی منزل پر بھی ضرور پہنچے گی ۔اس لئے بہتر یہی ہے کہ تمام فریقین نہ صرف کمیشن کی سفارشات کا انتظار کریں بلکہ اس کے ساتھ ہر ممکن تعاون بھی کریں اگر ان کو عدالتی کمیشن پر کسی قسم کا اعتراض ہے تو وہ احتجاج کا راستہ اپنا کر، امن و امان کی قیمت پر انصاف حاصل کرنے کی بجائے سپریم کورٹ سے رجوع کریں تاکہ جمہوریت کا یہ سفر رواں دواں رہے اور ملک دشمن عناصر کا خاتمہ یقینی ہو سکے۔اسی میں ملک و قوم کی سلامتی ہے۔

ضرور پڑھیں: ڈالر سستا ہو گیا

مزید : اداریہ


loading...