توانائی کے منصوبے جنگی بنیادوں پر مکمل کئے جائیں، لاہور چیمبر

توانائی کے منصوبے جنگی بنیادوں پر مکمل کئے جائیں، لاہور چیمبر

لاہور (کامرس رپورٹر) لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ توانائی کے منصوبے جنگی بنیادوں پر مکمل کرے کیونکہ بجلی و گیس کی قلت سے نہ صرف صنعتی پیداوار متاثر ہورہی ہے بلکہ معاشی نشوونما کو بھی خطرات لاحق ہیں۔ ایک بیان میں لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے قائم مقام صدر میاں طارق مصباح نے کہا کہ معاشی ترقی ، جی ڈی پی گروتھ اور دیگر معاشی اہداف حاصل کرنے کے لیے وافر توانائی کی دستیابی ناگزیر ہے۔ کاروباری برادری وفاقی بجٹ 2014-15ءمیں حکومت کی جانب سے توانائی کے شعبے کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات کو سراہتی ہے لیکن مطلوبہ نتائج حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ منصوبوں کی جلد از جلد تکمیل یقینی بنائی جائے۔ ہائیڈرو پاور پراجیکٹس نہ صرف سستی اور وافر توانائی کی دستیابی یقینی بنائیں گے بلکہ پانی کی قلت پر قابو پانے میں بھی مدد ملے گی جو زرعی شعبے کا ایک بہت اہم مسئلہ ہے۔ میاں طارق مصباح نے کہا کہ تشویشناک لوڈشیڈنگ کی وجہ سے ایکسپورٹ سے وابستہ صنعتیں بُری طرح متاثر ہورہی ہیں اور اگر صورتحال برقرار رہی تو برآمدات میں اضافے کا خواب پورا نہیں ہوپائے گا اور نہ ہی غیرملکی سرمایہ کاروں کو راغب کیا جاسکے گا۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں لوڈشیڈنگ لائن لاسز کو مدّنظر رکھتے ہوئے ہونی چاہیے ، جن علاقوں میں لائن لاسز کم ہیں وہاں لوڈشیڈنگ بھی کم ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ترقی یافتہ ممالک میں نجی شعبے کو سہولیات دی جاتی ہیں لیکن ہمارے ہاں صورتحال اِس کے برعکس ہے۔ انہوں نے کہا کہ لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری حکومت کو پہلے ہی آگاہ کرچکا ہے کہ توانائی کے بحران پر قابو نہ پایا گیا تو صنعتیں بند اور بے روزگاری میں اضافہ ہوگا ۔

جو کسی طرح بھی معیشت کے مفاد میں نہیں ، انہوں نے کہا کہ جمہوری نظام کے لیے مضبوط معیشت ہونا بہت ضروری ہے ، غربت اور بے روزگاری بدامنی کو جنم دیتی ہے لہذا حکومت زمینی حقائق کا ادراک کرتے ہوئے توانائی کی صورتحال درست کرنے کے لیے اقدامات اٹھائے۔ لاہور چیمبر کے قائم مقام صدر نے کہا کہ صنعتی پہیہ رواں رکھنے کے لیے بجلی کی مسلسل فراہمی اشد ضروری ہے تاکہ برآمدی آرڈرز بروقت پورے کیے جاسکیں۔ انہوں نے حکومت پر مزید زور دیا کہ وہ گیس اور بجلی کے نرخوں میں غیرضروری اضافے نہ کرے کیونکہ اس سے عالمی منڈی میں پاکستانی مصنوعات کے لیے مسابقتی مسائل پیدا ہونگے۔ انہوں نے کہا کہ گیس اور بجلی صنعتوں کا اہم خام مال ہے لہذا صنعتوں کی پیداواری لاگت کم رکھنے کے لیے ان کی قیمتیں کم سطح پر ہونا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ بڑے آبی ذخائر کی تعمیر سے سستی بجلی پیدا کی جاسکتی ہے جس سے توانائی کی پیداوار کے روایتی ذرائع بالخصوص تھرمل پر انحصار کم ہوگا۔

مزید : کامرس


loading...