پابندی کے باوجود شہریوں کو نہر میں نہانے سے روکا نہ جا سکا ، پولیس نے ہاتھ کھڑے کر دئیے

پابندی کے باوجود شہریوں کو نہر میں نہانے سے روکا نہ جا سکا ، پولیس نے ہاتھ ...

                                                              لاہور(بلال چودھری)گرمی سے ستائے شہریوں کو نگلنے والی لاہور کی خونی نہر سے پولیس،ضلعی انتظامیہ اور محکمہ آبپاشی تینوں کترانے لگے۔شہریوں کو نہر میں نہانے سے روکنے کے لیے محکمہ آبپاشی کے کینال مجسٹریٹ کی طرف سے محض تنبیہی بورڈ آویزاں کرنے پر ہی اکتفا کیا گیا ہے۔جبکہ ضلعی انتظامیہ نے ستائیس کلومیٹر طویل نہر میں روزانہ نہانے کے لیے آنے والے تیس ہزار سے زائد شہریوں کی حفاظت سے ہاتھ کھڑے کر دیئے۔تفصیلات کے مطابق لاہور کینال میں روز بروز بڑھتی ہوئی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے نہانے کے لیے آنے والے شہریوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے جس کی وجہ سے گزشتہ تین روز میں چار افراد نہر میں ڈوب کر جاں بحق ہو چکے ہیں۔ محکمہ آبپاشی کی جانب سے نہر کے کچھ حصوں پر اس حوالے سے چھوٹے چھوٹے بورڈ لگائے گئے ہیں جو اتنے اونچے ہیں کہ قریب جانے پر ہی ان پر لکھی ہوئی تحریر نظرآتی ہے،جس کے مطابق نہر میں نہانے پر پابندی ہے خلاف ورزی کرنے والے کو حوالہ پولیس کیا جائے گا۔دوسری جانب ضلعی انتظامیہ کا کام صرف ڈوبنے والے افراد کی لاشیں نکالنے تک ہی محدود ہو کر رہ گیا ہے اس حوالے سے جب سب ڈویژنل کینال آفیسر(کینال مجسٹریٹ)ملک سرفراز احمد سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ لاہور کینال میں نہانے پرمحکمہ آبپاشی کی جانب سے پابندی عائد ہے اور جہاں زیادہ افراد نہاتے ہیں وہاں ہم نے بورڈز بھی آویزاں کر رکھے ہیں اگر کوئی خلاف ورزی کرتے ہوئے نہاتا ہے تو ان کو پکرنا ہماری نہیں بلکہ پولیس اور ضلعی انتظامیہ کی ذمہ داری ہے انہوں نے مزید کہا کہ کینال ایکٹ 1975کے سیکشن 70کے تحت اگر کوئی شخص نہری پانی کے بہاﺅ کوروکے یا اس کو نقصان پہنچانے کے حوالے سے کوئی کام کرے تو اس کے خلاف کارروائی کی جاتی ہے جو کہ پولیس کی مدد سے ہوتی ہے اسی طرح سے نہر میں نہانے کے حوالے سے پابندی پر عملدرآمد کروانا پولیس اور خاص طور پرضلعی انتظامیہ کا کام ہے دوسری جانب ایڈمن آفیسر کنڈکٹنگ ڈی سی او آفس طارق زمان نے بتایا کہ نہر میں ہرروز پچیس ہزار سے زائد افراد نہانے آتے ہیں جبکہ ہمارے پاس اس حوالے سے عملہ صرف 750 افرادکے قریب ہے ستائیس کلومیٹر لمبی نہر پر ہم اس عملہ کی مدد سے لوگوں کو ڈوبنے سے بچانے کی کوشش کر رہے ہیں اور اس حوالے سے ہمارا کام تسلی بخش ہے جب بھی کوئی ڈوبنے کی اطلاع ملتی ہے تو عملہ فوری طور پر وہاں پہنچ جاتا ہے لیکن چونکہ ڈوبنے میں صرف ایک سے ڈیڑھ منٹ لگتا ہے اس لیے لوگوں کو زندہ بچانا ایک مشکل کام ہے۔لیکن ہماری کوشش ہوتی ہے کہ کسی کی جان ضائع نہ ہو اس حوالے سے نہر میں نہانے پر پابندی لگا دی گئی ہے اور وہاں وفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے اب نہانے والے افراد کو پکڑنا پولیس کا کام ہے۔

مزید : میٹروپولیٹن 4


loading...