امریکہ پھر عراق میں گھسنے کے بہانے ڈھونڈنے لگا

امریکہ پھر عراق میں گھسنے کے بہانے ڈھونڈنے لگا
امریکہ پھر عراق میں گھسنے کے بہانے ڈھونڈنے لگا

  


 بغداد(نیوز ڈیسک) عراق میں شد ت پسند گروپ الدلتہ الاسلامی فی العراق و الشام (داعش) نے کیمیکل ہتھیار بنانے والی ایک فیکٹری پر قبضہ کر لیا ہے جس پر امریکہ نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے دوبارہ عراق میں گھسنے کے بہانے ڈھونڈنے شروع کر دیئے ہیں اگرچہ امریکی صدر اوبامہ یہ کہہ چکے ہیں کہ امریکی فوج دوباہ عراق نہیں جائےگی لیکن فوجی مشیروں کی آڑ میں تقریباً300 اعلیٰ تربیت یافتہ فوجیوں کو عراق بھیجنے کا ارادہ ظاہر کردیا ہے امریکی حکومت نے ایک بیان میں کہا کہ انہیں معلوم ہے کہ داعش نے کیمیکل ہتھیار بنانے والے المنھانہ کمپلیکس پر قبضہ کر لیا ہے اور ہمیں اس پر تشویش ہے لیکن خو د امریکی حکومت کے بیان کے مطابق اب سا فیکٹری میں کیمیکل ہتھیار بنانے کی سہولت موجود نہیں ہے ۔صدر اوبامہ کہ کہنا ہے کہ امریکہ عراق میں محدود پیمانے پر محضوص جگہوں کو نشانہ بنا سکتا ہے عراقی وزیر اعظم نوری المالکی کی فرقہ وارانہ پالیسیوں کو بھی عراق کے حالیہ عدم استحکام کا ذمہ دار قرار دیا جا رہا ہے اور ماہرین کا خیال ہے کہ نا اہل عراقی قیادت کی وجہ سے شدت پسند کامیاب ہو رہے ہیں اور امریکہ جیسی بیرونی طاقتوں کو عراق میں مداخلت کا موفع میسر آ گیا ہے ۔

مزید : بین الاقوامی


loading...