پاکستان اور امریکہ کی افواج کے درمیان غلط فہمیوں کا ازالہ

پاکستان اور امریکہ کی افواج کے درمیان غلط فہمیوں کا ازالہ

واشنگٹن(اظہر زمان، بیورو چیف) پینٹاگون ذرائع نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اس رائٹر کو اعتماد میں لیتے ہوئے بتایا ہے کہ 2007ء کے بعد کسی پاکستانی چیئرمین جائنٹ چیفس آف آرمڈ فورسز کی اپنے امریکی ہم منصب سے پہلی ملاقات میں حساس معاملات پر گفتگو ہوئی جس کی بناء پر ان کے درمیان رابطے کا اعلان نہیں کیا گیا۔ جنرل راشد محمود امریکہ کے سرکاری دورے پر ہیں لیکن پینٹاگون نے خلاف معمول ان کی امریکی جنرلوں سے ملاقات اور ہیڈ کوارٹر پہنچنے کے بارے میں کوئی اعلان جاری نہیں کیا۔پینٹاگون ذرائع کے مطابق ان رابطوں میں عمومی طور پر افغانستان سے انخلاء کے موضوع پر بات چیت ہوئی جس کے دوران خاص طور پر پاکستان اور افغانستان کی سرزمین کے آس پاس دہشتگردوں کے ٹھکانوں کے خلاف کارروائی کے سلسلے میں امریکہ اور پاکستان کی افواہوں کے درمیان غلط فہمیوں کا معاملہ زیر بحث آیا جن کا خاصی حد تک ازالہ ہو گیا ہے۔ پاکستانی جنرل نے بتایا شمالی وزیرستان میں پاکستانی فوج کا آپریشن ’’ضرب عضب‘‘ کامیابی سے جاری ہے۔ ہمیں اپنی کارروائیوں میں مدد کیلئے امریکی ڈرون حملوں کی ضرورت نہیں ہے بلکہ اس سے مسائل ہو سکتے ہیں۔دونوں جنرلوں کے درمیان رابطوں کی جو مزید تفصیلات حاصل ہوئی ہیں ان کے مطابق پاکستانی جنرل نے امریکہ کی طرف سے فراہم کردہ پاک افغان سرحد کے قریب دہشتگردوں کی نقل و حرکت کے بارے میں معلومات پر اطمینان کا اظہار کیا اور امید ظاہر کی کہ یہ سلسلہ آئندہ بھی جاری رہے گا۔پاکستانی جنرل نے امریکی کمانڈر سے گفتگو میں کہا کہ وہ اتحادیوں اور افغانستان سے مل کر سرحد پر کنٹرول کو موثر بنانے میں پاکستان کی مدد کریں، تاکہ شمالی وزیرستان سے دہشتگرد افغانستان میں داخل نہ ہو سکیں۔پینٹاگون ذرائع نے انکشاف کیا کہ دونوں چیئرمینوں کے درمیان ان اہم رابطوں کے بعد کوشش کی جا رہی ہے کہ امریکی جنرل ڈیمپسے کی آرمی چیف جنرل راحیل شریف سے بھی عنقریب ملاقات ہو جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کی افواج کے درمیان تعلقات کی تعمیر نو کے لئے پہلا قدم اٹھا لیا گیا ہے جو تکمیل کی سمت جاری رہنا چاہئے۔

خفیہ ملاقات

مزید : صفحہ آخر


loading...