’سانحہ ماڈل ٹاﺅن کے اثرات، فارورڈ بلاک کی باتیں!

’سانحہ ماڈل ٹاﺅن کے اثرات، فارورڈ بلاک کی باتیں!
’سانحہ ماڈل ٹاﺅن کے اثرات، فارورڈ بلاک کی باتیں!

  


تجزیہ:- چودھری خادم حسین

’ظالمو!“ اب قادری واقعی آ رہا ہے“ پاکستان عوامی تحریک کی طرف سے ڈاکٹر طاہر القادری کی آمد اور ان کے استقبال کے لئے باقاعدہ تشہیری مہم شروع کر دی گئی ہے۔ فطری طور پر اس کے لئے 17جون کے سانحہ ہی کو بنیاد بھی بنایا جا رہا ہے ۔ ڈاکٹر طاہر القادری نے 22کو روانہ ہو کر 23جون کو اسلام آباد لینڈ کرنا ہے۔ پاکستان عوامی تحریک نے اس کے لئے ملک بھر سے کارکنوں کو 22جون کی شب دس بجے اسلام آباد ائیرپورٹ پہنچنے کے لئے کہا ہے ، یوں جہاز کی آمد سے کافی دیر قبل اسلام آباد ہوائی اڈے کے راستوں پر عوامی تحریک والوں کی گاڑیاں ہوں گی۔ سانحہ ماڈل ٹاﺅن اور اس کی بے پناہ تشہیر سے پاکستان عوامی تحریک کو جو فائدہ ہوا اس کا بھی علم ہو جائے گا، حکومت کی طرف سے یہ اطلاع ہے کہ طاہر القادری کی آمد اور استقبال کے لئے فری ہینڈ دیا جائے گا اور وزیر اعظم نے یہی ہدایت کی ہے ویسے بھی سانحہ ماڈل ٹاﺅن اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے حالات کی وجہ سے ملازمین اس ہدایت ہی کو بہتر جانیں گے اور کوئی تعرض نہیں کریں گے بلکہ جہاں جہاں سے مظاہرین یا کارکن امن سے گذر جائیں گے وہاں موجود ملازمین شکر بجا لائیں گے۔

ویسے یہ فری ہینڈ اور پھر پر زور اور پرجوش استقبال والی بات سمجھ میں نہیں آئی۔ قارئین کو یاد ہو گا کہ کراچی کے ہوائی اڈے پر دہشتگردی کے بعد یہ فیصلہ اعلیٰ سطح پر ہوا کہ ہوائی اڈوں کے حفاظتی انتظامات سخت کر دیئے جائیں ، اے ایس ایف کے ساتھ رینجرز تعینات کئے گئے اور ان کی مدد کے لئے فوج کے بھی چند جوان موجود ہوتے ہیں۔ اس کے بعد انہی حفاظتی انتظامات کے تحت مسافروں کے لئے قلی نظام ختم کر دیا گیا۔ گاڑیاں سروس ایریا تک لانے کی ممانعت کر دی گئی اور لوگوں کو زیادہ تعداد میں آنے سے روکا بھی جاتا ہے، اب اگر استقبال کے لئے فری ہینڈ دیا جاتا ہے تو پھر کارکنوں کو ہوائی اڈے میں جانے سے کیسے منع کیا جا سکے گا اور اگر یہ کارکن پہنچ گئے تو حفاظتی انتظامات کی صورت کیا ہو گی؟ یہ ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔

پاکستان عوامی تحریک نے تو یہ بھی اعلان کیا ہے کہ ڈاکٹر طاہر القادری کو اسلام آباد ائیرپورٹ ہی سے لاہور کی طرف روانہ کر دیا جائے گا اور وہ ایک جلوس کی شکل میں لاہور آئیں گے کہ راولپنڈی سے لاہور کا سفر جی ٹی روڈ کے راستے ہو گا۔ اس کے بعد کے بارے میں قارئین خود ہی سوچ لیں اور اندازہ لگائیں کہ صورتحال کیا ہو گی۔

ڈاکٹر طاہر القادری نے انقلاب کو جو اسرار کے پردے میں چھپا ہوا تھا اس کو تھوڑا سا ہٹا دیا ہے وہ سیانے بندے ہیں اس لئے آئین کی خلاف ورزی کے الزام کو رد کرنے کا ذریعہ بنا لیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ان کا انقلاب آئینی ہے کہ آئین کے تحت بھوکے کو روٹی ، ننگے کو پکڑا، بے گھر کو رہائش، جاہل کو تعلیم اور بیمار کو علاج مہیا کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے اور ان کے انقلاب کے نتیجے میںیہی سب ہو گا اور کرپشن کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے گا، اختیارات کی مرکزیت ختم کر کے یہ اختیارات نچلی سطح تک تقسیم کر دیئے جائیں گے۔ اس کے باوجود وہ یہ نہیں بتا پائے کہ یہ سب کیسے ہو گا کہ وہ تو کہتے ہیں کہ ان کی آمد اور عوام کے باہر آتے ہی یہ حکومتیں اور نظام ختم ہو جائے گا۔ پھر کیا ہو گا؟ اور نظام ریاست کیسے چلے گا یہ پھر بھی راز ہی ہے کہ اگر ان کے آنے ہی سے حکومت نے ختم ہونا ہے تو نظم و نسق کا کیا ہو گا؟ کون حکومت سنبھالے گا؟ کیا یہاں بھی ایران کی مثال ہو گی؟

بہرحال ڈاکٹر طاہر القادری نے روایتی ہوشیاری سے سانحہ ماڈل ٹاﺅن کو استعمال کیا اور ملک کی قریباً تمام سیاسی جماعتوں کی حمایت حاصل کر لی اس سے ان کو یہ فائدہ ہو گا کہ اب اگر کوئی جماعت ان کے ساتھ نہیں آتی تو پھر بھی وہ اکیلے نہیں ہوں گے۔ مسلم لیگ (ق) معاہدہ کر چکی۔ تحریک انصاف اتحاد میں شامل نہیں ہو گی تو تعاون سے بھی گریز نہیں کرے گی۔ ایسی ہی صورتحال ایم کیو ایم کی ہے جو تشدد اور پولیس کی کارروائی کی مذمت اور عوامی تحریک کے کارکنوں کی اموات پر دکھ کا اظہار کرتی ہے تو کہا جا سکتا ہے کہ یہ مخالف بھی نہیں ہے۔ایسی صورت میں یہ لازم ہو گیا ہے کہ نہ صرف حکومت بلکہ خود سیاسی قائدین اپنے نوجوانوں کو حوصلے اور صبر کی تلقین کریں۔

سانحہ ماڈل ٹاﺅن نے مسلم لیگ (ن) کو چکرا کر رکھ دیا ہے۔ اتنا بڑا سیاسی بحران ان کے سامنے کبھی نہیں آیا اور یہ پہلی مرتبہ ہے کہ ان کو اتنے سخت حالات سے مقابلہ کرنا پڑ رہا ہے اور اس میدان میں بھی میاں محمد شہباز شریف ہی سرگرم ہیں، ڈاکٹر طاہر القادری نے تو پاکستان میں قیام کے بارے میں کچھ نہیں بتایا وہ صرف آ رہے ہیں اور انقلاب ساتھ لے کر آ رہے ہیں، انقلاب آئے گا۔ جہاں تک پنجاب حکومت کا تعلق ہے تو ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ حالات کی روشنی میں اسے کیا کرنا چاہئے۔ بار بار فری ہینڈ اور تحقیقات کی بات کی جاتی ہے یہی بنیادی خیال ہے۔

ادھر رانا ثناءاللہ کے استعفیٰ کے بعد مسلم لیگ (ن) کے اراکین اسمبلی دو حصوں میں بٹے نظر آئے ایک طبقہ خوش، دوسرے ناخوش ہیں ان کے خیال میں دفاعی حکمت عملی کمزوری کا تاثر دے رہی ہے جبکہ عوام آج بھی مسلم لیگ کے ساتھ ہیں۔ تاہم وزیر اعلیٰ کا کہنا ہے کہ یہ سب انصاف کے لئے ہے لیکن ان کو خبردار رہنا ہو گا کہ اب کسی فارورڈ بلاک کی بھی بات کی جا رہی ہے اور اس مرتبہ حکمرانوں کے اندر ہی یہ کھیر پک رہی ہے جلد ہی ظاہر ہو جائے گی۔

مزید : تجزیہ


loading...