اسلام آ باد میں اجتماعات پر پابندی لگا دی گئی

اسلام آ باد میں اجتماعات پر پابندی لگا دی گئی

اسلام آباد،لاہور(سٹاف رپورٹر، اے این این) پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ علامہ ڈاکٹر طاہر القادری کینیڈا سے بذر یعہ لندن، دبئی کل صبح اسلام آباد پہنچ رہے ہیں جبکہ حکومت نے راولپنڈی ،اسلام آباد میں جلسوں پر پابندی عائد کردی ہے، ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا ہے کہ وہ ڈرنے والے نہیں اور سوموار کو ہر صورت میں اسلام آباد پہنچیں گے تاہم انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ حکومت اس طیارے کا رخ کسی اور ہوائی اڈے کی طرف سے موڑدے گی جس میں وہ آرہے تفصیل کے مطابق ڈاکٹر طاہر القادری کل صبح اسلام آباد ائیرپورٹ پر پہنچیں گے، کارکنوں نے ان کے استقبال کے لئے تیاریاں کرلی ہیں جبکہ مختلف شہروں سے کارکن اسلام آباد کی روانہ ہوگئے ہیں پنجاب سے قافلے آج روانہ ہونگے ۔ڈاکٹر طاہرالقادر ی کینیڈا سے گزشتہ روز لندن پہنچے جہاں وہ مختصر سے قیام کے بعد پاکستان واپسی کے لئے روانہ ہوئے اور کل صبح (سوموار)اسلام آباد ائیرپورٹ پہنچیں گے ان کا استقبال عوامی تحریک کے کارکنوں کے علاوہ مسلم لیگ (ق) اور عوامی مسلم لیگ کے کارکن بھی کریں گے ۔اس حوالے سے مسلم لیگ( ق) اور عوامی مسلم لیگ نے بھی کارکنوں کو اسلام آباد ائیرپورٹ پہنچنے کی ہدایت کردی ہے، ان کے زیادہ تر کارکن جہلم ،لالہ موسی ،کھاریاں اور راولپنڈی سے جائیں گے ۔ڈاکٹر طاہر القادری کی آمد کے سلسلے میں شہر شہر جگہ جگہ بینر لگادیئے گئے ہیں اور ان کے استقبال کے لئے عوام کو شرکت کے لئے دعوت دینا شروع کردی گئی ہے ۔بتایا گیا ہے کہ پنجاب بھر سے قافلے آج روانہ ہونگے جبکہ اندرون سندھ سے قافلوں کی شکل میں کارکن روانہ ہوچکے ہیں۔اور اس بات کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ ڈاکٹر طاہر القادری کے استقبال کے لئے 50ہزار سے زائد افراد کو اکٹھا کیا جائے گا اور ڈاکٹر طاہرالقادری کوقافلے کی شکل میں اسلام آباد سے لاہور لایا جائے گا۔وزیر داخلہ چودھری نثارعلی خان کی صدارت میں اعلی سطح کا اجلاس ہوا۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ موجودہ صورت حال معمول سے بڑھ کر اقدامات کی متقاضی ہے۔ انہوں نے کمشنر اسلام آباد کو شہر میں تمام جلسوں، جلوسوں پر پابندی عائد کرنے کی ہدایت کردی۔ چودھری نثار علی خان نے کہا کہ موجودہ آپریشن کے تناظر میں سیکورٹی ادارے عوام اورحساس مقامات کا تحفظ یقینی بنائیں۔ اسلام آباد کے داخلی و خارجی راستوں کو ہائی الرٹ پر رکھا جائے، جبکہ راولپنڈی اسلام آباد کے ملحقہ علاقوں میں سرچ آپریشن کیا جائے۔کینیڈا سے لندن روانگی سے قبل نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر طاہر القاردی نے کہا کہ وطن واپسی پر پولیس کی جانب سے گرفتاری کی کوشش ناکام بنا دوں گا لیکن فوج کے سامنے مزاحمت نہیں کریں گے ۔ میری گرفتاری کے لئے حکومت کو پاس کوئی جواز نہیں ہے ، میں نے کوئی جرم نہیں کیا اور نہ ہی میرے خلاف کوئی سنگین مقدمہ درج ہے کہ حکومت گرفتار کرنا واجب سمجھے اگر ایسا کیا جاتا ہے تو یہ سراسرآئین و قانون کیخلاف ہو گا ، مجھے گرفتار کرکے حکومت خود مجرم بن جائے گی ۔اگر مجھے گرفتار کرنے کی کوشش کی گئی تو ہم ایسا نہیں کرنے دینگے ۔ اگر میری گرفتاری کیلئے پاک فوج سمجھنے آ جاتی ہے تو کسی قسم کی مزاحمت نہیں کرینگے لیکن اللہ نہ کرے پاک فوج ایسا کبھی کرے کیونکہ اس کا کسی معاملے سے تعلق نہیں ہے ۔انہوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ حکومت اس طیارے کا رخ اسلام آباد کی بجائے کسی اور شہر کی طرف موڑناچاہتی ہے۔لندن میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے علامہ ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا ہے کہ موجودہ حکمرانوں نے انسانی قدروں کو ہمیشہ روندا ہے۔ میں ڈرنے والا نہیں، 23 جون کو ضرور پاکستان آؤں گا، میں پاکستان کے 20 کروڑ عوام کیلئے جنگ لڑوں گا۔ میرا ایجنڈا جمہوری اور قانونی ہے لیکن حکومت میری آمد سے بوکھلاہٹ کا شکار ہو گئی ہے۔ مجھے پاکستان آمد سے روکنے کا حکومت کو قانونی جواز دینا ہوگا۔ میرے کارکنوں نے پاکستان کیلئے اپنی جانیں قربان کیں۔ میں موت سے ڈرنے والا نہیں ہوں۔ اپنی جان بھی پاکستان پر قربان کرنے کیلئے تیار ہوں۔ چاہے کچھ بھی ہو جائے میں 23 جون کو اسلام آباد ائر پورٹ پہنچ رہا ہوں۔ ڈاکٹر طاہر القادری کا کہنا تھا کہ کارکنوں نے اپنے خون سے انقلاب کا آغاز کر دیا ہے۔ سابق وزیر قانون پنجاب رانا ثناء اللہ ہی سانحہ ماڈل ٹاؤن کے ذمہ دار نہیں ہیں۔ رانا ثناء اللہ نے تو صرف احکامات پر عمل درآمد کروایا۔ بنیادی سوال یہ ہے کہ گولیاں چلانے کا حکم کس نے دیا؟۔ اگر ہمارے پاس اسلحہ تھا تو اسے میڈیا کے سامنے دکھا کے ہمیں بے نقاب کیا جاتا۔ ان کا کہنا تھا کہ آج پورے ملک میں خاندانی بادشاہت ہے، جمہوریت صرف نام کی ہے۔ ملک میں کرپشن کا نظام قائم کر دیا گیا ہے، پاکستان میں کرپشن کا گراف تیزی سے اوپر جا رہا ہے، پورا ملک کرپشن کی لپیٹ میں ہے، ہر قومی ادارے کو اپنی لوٹ مار کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے۔ موجودہ حکمرانوں نے ہر ملکی ادارے کو کرپٹ کر دیا ہے۔ قومی اداروں کو اتفاق فاؤنڈری کی طرح استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس سے قبل کینیڈا سے لندن پہنچنے پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے طاہر القادری نے کہا مجھے معلوم ہے کہ پہلے دن سے ہی مشکلات پیدا کی جائیں گی لیکن حق کی آواز کو کبھی دبایا نہیں جا سکتا۔ میں پاکستانی ہوں، کسی کے پاس بھی مجھے پاکستا ن جانے سے روکنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔اطلاعات کے مطابق 7سو کے قریب مختلف ممالک کے تنظیمی عہدیداران مختلف ممالک سے چارٹرڈ طیاروں میں انٹرنیشنل میڈیا کے ساتھ آرہے ہیں عوامی تحریک اسلام آباد ائیر پورٹ کے کارگو کے سامنے سٹیج لگا کر اپنے قائد کا استقبال کرنے چاہتے ہیں جبکہ ضلعی انتظامیہ نے چار کلومیٹر دور استقبالیہ کیمپ لگانے کا کہہ دیا ہے،آج مذاکرات مزید ہوں گے علامہ طاہر القادری کی گرفتاری کسی صورت نہیں کی جائے گی،ریلی براستہ جی ٹی روڈ لاہور جانے کا پروگرام تشکیل دے دیا ہے، علامہ طاہر القادری کے استقبال کیلئے پاکستان عوامی تحریک نے ہر یونین کونسل سے 5سو سے لیکر7سو تک کارکنوں کو بذریعہ ٹیلی فون اسلام آباد ائیر پورٹ پر پہنچے کی ہدایات جاری کر دی ہیں، ضلعی انتظامیہ نے عوامی تحریک کو ائیر پورٹ سے دور ڈھوک حافظ کے قریب سٹیج لگانے کا کہا ہے تاحال مذاکرات جاری ہیں۔اسلام آباد کے کئی علاقوں میں استقبالیہ بینرز ،پوسٹرز اور بڑے سائز کے پینافلیکس آویزاں کر دیئے گئے ہیں۔عوامی تحریک یوتھ ونگ اور منہاج القرآن یوتھ لیگ کے نوجوان اہم چوراہوں اور بازاروں میں دعوتی پمفلٹس تقسیم کرتے دکھائی دیتے ہیں۔مصطفوی سٹوڈنٹس موومنٹ کے کارکن تعلیمی اداروں میں دعوت کا سلسلہ کاری رکھے ہوئے ہیں۔حکومت کی طرف سے راستے بند ہونے کے ڈرسے راولپنڈی ڈویژن سے ہزاروں کارکن پہلے ہی راولپنڈی پہنچادیئے گئے ہیں۔دوسرے شہروں سے بھی اپنے طور پر کارکنوں کی آمد کا سلسلہ جاری ہے۔سیکورٹی پر معمور ایک ہزار افرادعوامی تحریک کی طرف سے کارڈز جاری کر دیئے گئے ہیں اور وہ سیکورٹی پلان کے مطابق تیاریوں میں مصروف ہیں۔

مزید : صفحہ اول


loading...