دنیا کی پہلی خوشبودار ای میل پیرس سے نیو یارک پہنچ گئی

دنیا کی پہلی خوشبودار ای میل پیرس سے نیو یارک پہنچ گئی
 دنیا کی پہلی خوشبودار ای میل پیرس سے نیو یارک پہنچ گئی

  



پیرس(نیوز ڈیسک) موبائل فون کے ذریعے ہم کسی کی آواز سن سکتے ہیں اور جدید ٹیکنالوجی کے زریعے بولنے والی کی تصویر بھی دیکھ سکتے ہیں لیکن ایک حیرت انگیز ایجاد کے نتیجے میں اب ہم موبائل فون کے زریعے آواز اور تصویر کے علاوہ خشبو?ں کا تبادلہ بھی کر سکیں گے اور یہ محض کوئی آئیڈیا یا خواب نہیں ہے بلکہ دنیا کے سب سے پہلے خوشبودار میسج کو امریکہ سے فرانس پہنچنے کا کامیاب تجربہ ہوچکا ہے۔ یہ ٹیکنالوجی ہاورڈ یونیوسٹی کے پروفیسر ڈیوڈ اور ان کے ساتھ سائنسدانوں نے ایجاد کی ہے انہوں نے بتایا کہ نیویارک سے بھیجے گئے خوشبودار میسج کو جب پیرس میں کھولا گیا تو بھیجی گئی خوشبو نے انہیں مسحور کر دیا۔اس ٹیکنالوجی میں آئی فون کے ایک سافٹ وئیر اوسنیپ(Osnap) کے زریعے خوشبو?ں کا انتخاب کیا جاتا ہے۔ اس انتخاب کو ایک تصویر کی صورت میں ظاہر کیا جاتا ہے۔تصویر کو ایک تمام میسج کی طرح دوسرے موبائل فون پر بھیج دیا جاتا ہے جہاں اسے کھولنے پر اوفون(Ophone) نامی آلے کے زریعے بھیجی گئی خوشبو کو پیدا کیا جاتا ہے اور او فون میں بنیادی طور پر 32عدد بنیادی خوشبوئیں ہوتی ہیں جنہیں مختلف تناسب میں ملا کر تین لاکھ مختلف اقسام کی خوشبوئیں پیدا کی جاسکتی ہیں۔ میسج کھولنے والا ان خوشبو?ں سے دس سیکنڈ تک لطف اندوز ہوسکتا ہے۔خوشبو پیدا کرنے کیلئے ضروری آلہ او فون 149ڈالر کی قیمت پر فروخت کیلئے پیش کیا جاچکا ہے

مزید : علاقائی


loading...