بینظیر کو یقین تھا دہشتگردی کی لعنت سے تمام دنیا متاثر ہوگی، فرحت اللّٰہ بابر

بینظیر کو یقین تھا دہشتگردی کی لعنت سے تمام دنیا متاثر ہوگی، فرحت اللّٰہ بابر

اسلام آباد)خصوصی رپورٹ (سابق وزیراعظم شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے ترجمان سینیٹر فرحت اللہ بابر نے کراچی یونیورسٹی کی بینظیر چیئر اور انسٹی ٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن کی جانب سے مشترکہ طور پر منعقد کروائی جانے والی کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے بطور وزیراعظم اہم فیصلے کئے اور اسٹیبلشمنٹ کی تجاویز پر واضح طور پر "نہیں" کہہ دیا کیونکہ وہ سمجھتی تھیں کہ یہ تجاویز طویل المدتی طور پر ملک اور معاشرے کے لئے خطرناک ثابت ہو سکتی ہیں۔ انہوں نے 1990ءمیں مجاہدین کی جانب سے ان کے اسٹیبلشمنٹ میں موجود سرپرستوں ک جانب سے اس تجویز کا انکار کر دیا بلکہ فوج اور آئی ایس آئی کو یہ بات یقینی بنانے کے لئے کہا کہ افغان مجاہدین لائن آف کنٹرول کے پار نہیں جا سکتے۔ شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے اس تجویز کا بھی انکار کر دیا کہ انٹیلی جنس ایجنسیوں کا دائرہ وسیع کرکے تمام سینئر حکام کی ترقیوںکو آئی ایس آئی کی جانب سے کلیئرنس سے مشروط کر دیا جائے کیونکہ وہ سمجھتی تھیں کہ یہ ریاست کے اندر ریات قائم کرنا ہوگا۔ شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے اس تجویز سے بھی انکار کر دیا کہ افغانستان کی عبوری حکومت کی حمایت کے لئے پاکستانی فوجی دستوں کو اجازت دے دی جائے جب کابل پر قبضہ کی جنگ جاری تھی۔ سینیٹر فرحت اللہ بابر نے کہا کہ جب شہید محترمہ بینظیر بھٹو پید ہوئیں تو ان کی شناخت پاکستان تھا اور جب وہ 2007ءمیں شہید کی گئیں تو وہ قوم کی شناخت بن چکی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ محترمہ بینظیر بھٹو کو جو تین سب سے بڑے چیلنج درپیش تھے ان میں سے ایک یہ تھا کہ ان کے عورت ہونے پر ان کے خلاف نفرت انگیز مہم چلائی گئی جس میں ملکی اور بین الاقوامی مذہبی لیڈروں کی جانب سے فتوے بھی شامل تھے۔ دوسرا چیلنج یکم نومبر 1989ءمیں عدم اعتماد کی تحریک تھی جس کی پشت پناہی اسٹیبلشمنٹ اور عسکریت پسند کر رہے تھے لیکن اس تحریک کو 12ووٹوں سے شکست ہوئی تھی اور تیسرا چیلنج ستمبر 1995ءمیں درپیش ہوا جب اتفاقی طور پر ان کی حکومت کا تختہ الٹانے کی ساز ش پکڑی گئی جب چند فوجی افسر اسلحہ اسلام آباد منتقل کر رہے تھے جو جہادیوں کو دیا جانا تھا جس کے بعد وہ جی ایچ کیو پر قبضہ کرکے محترمہ بینظیر بھٹو کو قتل کرنا چاہتے تھے۔ سینیٹر فرحت اللہ بابر نے ان کے اہم کارناموں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے خواتین کو حقوق دئیے جو اب واپس نہیں لئے جا سکتے، خطے میں امن کے لئے فریم ورک جس میں پہلی مرتبہ نیوکلیئر امور پر جنوبی ایشیا میں اعتماد سازی کے اقدامات تھے سارک ممالک کے درمیان ججوں اور پارلیمنٹیرینز کے لئے ویزے کے بغیر سفر کو ممکن بنایا۔ وہ پہلی لیڈر تھیں جنہوں نے عسکریت پسندوں کی جانب سے پاکستان کے وجود کو درپیش خطرات سے آگاہی دی تھی۔ اس لئے انہوں نے دہشتگردوں اور انتہاپسندوںکے خلاف اعلانِ جنگ کیا اور اپنی جان کا نذرانہ پیش کر دیا۔ شہید محترمہ بینظیر بھٹو کو یقین تھا کہ دہشتگردی ایک لعنت ہے جس سے تمام دنیا کے لوگ متاثر ہوں گے اور پوری دنیا کو مل کر اس لعنت کو ختم کرنا ہوگا وہ دہشتگردی کے خلاف جنگ کو بنیادی سچ قراردیتی تھیں اور انہوں نے اس کو ختم کرنے کے لئے ہماری امیدیں بڑھائیں۔ ذاتی طور پر محترمہ بینظیر بھٹو کے لئے بہت بڑی خوشی اور کامیابی کا دن وہ تھا جب انہوں نے غلام اسحاق خان سے وزیراعظم کے عہدے کا حلف اٹھایا اور اس وقت پورا ہال جئے بھٹو کے نعروں سے گونج رہا تھا۔ حلف اٹھانے کے بعد واپسی پر انہوں نے شیخ رفیق کے کان میں سرگوشی کی اور کہا کہ آج انہوں نے اپنے والد کے قتل کا بدلہ لے لیا ہے۔

مزید : علاقائی


loading...