آئی ڈی پیز کی کیمپوں میں منتقلی جاری ،پاک افغان بارڈر سیل نہیں کیا ،عبدالقادر بلوچ

آئی ڈی پیز کی کیمپوں میں منتقلی جاری ،پاک افغان بارڈر سیل نہیں کیا ...

                                    اسلام آباد(آئی این پی) وفاقی وزیر برائے ریاستی و سرحدی امور و شمالی وزیرستان میں جاری آپریشن ضرب عضب کے آئی ڈی پیز کیمپوں کے انچارج جنرل (ر) عبدالقادر بلوچ نے کہا ہے کہ شمالی وزیرستان میں جاری آپریشن کے ”آئی ڈی پیز“ کی کیمپوں میں منتقلی تیزی سے جاری ہے‘ افغانستان میں آئی ڈی پیز نہیں جارہے‘ تیس سے چالیس خاندانوں کی افعانستان منتقلی کی غیر تصدیق شدہ رپورٹس ہیں‘ آپریشن ضرب عضب کے دوران پاک افغان بارڈر کو سیل نہیں کیا جاسکتا،بنوں میں لگائے گئے کیمپ میں 55 فیصد 3 لاکھ افراد منتقل ہوچکے ہیں‘ کرک‘ لکی مروت‘ ڈیرہ اسماعیل خان اور ٹانک میں بھی متاثرین کیلئے کیمپ لگائے گئے ہیں‘ آئی ڈی پیز کو خوراک‘ میڈیکل اور بجلی سمیت فی خاندان 15 ہزار روپے ماہانہ دئیے جائیں گے۔ وہ ہفتہ کو پارلیمنٹ ہاﺅس کے باہر میڈیا کو شمالی وزیرستان میں آپریشن متاثرین کی مشکلات کے خاتمہ اور بحالی کےلئے انتظامات بارے بریفنگ دے رہے تھے ۔انہوں نے کہا کہ شمالی وزیرستان میں جاری آپریشن کی وجہ سے اب تک تین لاکھ آئی ڈی پیز باہرآگئے ہیں جس میں پچیاسی فیصد لوگ بنوں کے راستے سے آئے ہیں جن کیلئے بنوں میں سات سو خیموں پر مشتمل کیمپ لگایا گیا ہے جہاں پر تمام سہولیات وفاقی حکومت فراہم کررہی ہے اس کے علاوہ ٹانک ‘ ڈیرہ اسماعیل خان‘ کرک میں بھی خیموں کے کیمپ لگائے گئے ہیں اور وہاں پر بھی تمام سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئی ڈی پیز کی ہر فیملی کو پندرہ ہزار روپے دئے جارہے ہیں، جن میں سے جو خاندان کہیں اور رہنا چاہے تو انہیںکرایہ کی مد میںتین ہزار روپے ،پانچ ہزار روپے روز مرہ کی اشیاءکیلئے جبکہ سات ہزار روپے گزارہ الاوئنس دیا جائیگا، اس کے علاوہ ورلڈ فوڈ آرگنائزیشن والوں نے پچیس گاڑیاں ہفتہ کو بنوں پہنچا دی ہیں جو کہ آئی ڈی پیز میں تقسیم کی جائیں گی جبکہ کیش رقم بھی گزشتہ روز سے ملنا شروع ہوگئے ہیں جو کہ پندرہ ہزار روپے ہر فیملی کو دیئے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کی پاک آرمی کے حکام سے ملاقات ہوئی جس میں ایک میجر جنرل کو آئی ڈی پیز کے ساتھ کوآرڈینیشن کیلئے مقررکیا گیا ہے، جو ان کو ہر قسم کی سہولیات اور شکایات پر بروقت کارروائی کریں گے۔

مزید : علاقائی


loading...