مختلف تھانوں میں درجنوں ”گلو بٹ“ کاراج

مختلف تھانوں میں درجنوں ”گلو بٹ“ کاراج
مختلف تھانوں میں درجنوں ”گلو بٹ“ کاراج

  


لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) لاہور کے 50 سے زائد تھانوں میں ٹاﺅٹ مافیا کا راج ہے اور کئی ”گلو بٹ“ تو ان پولیس سٹیشنوں میں کئی تھانیداروں سے بھی زیادہ بااثر ہوچکے ہیں، اکثر تھانوں میں ایس ایچ اوز نے اپنے اپنے ساتھ ٹاﺅٹ رکھ کر تھانے ان کے حوالے کردئیے۔ تفصیلات کے مطابق لاہور کے تھانوں میں 400 سے زائد ایسے ٹاﺅٹ موجود ہیں جنہیں ایس ایچ او کا کار خاص کہا جاتا ہے، ان کا پولیس کی نوکری سے دور دور تک تعلق نہیں مگر یہ کئی تھانیداروں سے طاقتور ہیںاور اکثر تفتیش اور مقدمات میں ان کی مشاورت شامل ہوتی ہے۔ تھانہ لاری اڈہ میں منیراکلٹی، تھانہ نولکھا میں بلا، تھانہ شاہدرہ میں شکیل، تھانہ شادباغ میں حاجی مقصود مرغیوں والا اور آصف بٹ، تھانہ شفیق آباد میں حمید بٹ عرف ٹیڈی بٹ جو کہ واپڈا اور پولیس دونوں کا ٹاﺅٹ ہے، سبزہ زار میں ذوالفقار جو خود پولیس ملازم ہے مگر اس نے تین پرائیویٹ بندے ساتھ رکھے ہوئے ہیں۔ تھانہ ہربنس پورہ میں حنیف اور عبدالجبار، تھانہ شمالی چھاﺅنی لیاقت اور جاوید، تھانہ گلبرگ میں تین ٹاﺅٹ فہد، شہزاد بٹ اور صداقت، تھانہ مغل پورہ میں منظور احمد، تھانہ شالیمار میں جاوید، تھانہ گجر پورہ میں فیاض بھٹی اور بھولا چنے والا، تھانہ مزنگ میں اویس، تھانہ اقبال ٹاﺅن میں فیصل بٹ، تھانہ جوہر ٹاﺅن میں تین کار خاص ہیں جن میں مظہر، ثاقب اور مظفرشا مل ہیں ۔ تھانہ فیصل ٹاﺅن میں قمر، تھانہ غالب مارکیٹ میں ارشد، تھانہ شادمان میں ارشد گجر، تھانہ شاہدرہ ٹاﺅن میں عرفان سلہری، تھانہ باٹا پور میں بشیر، تھانہ ستوکتلہ میں رشید پراپرٹی ڈیلر اور جاوید بٹ شامل ہیں۔ ان ٹاﺅٹس کے ذریعے تھانوں میں آنے والوں کے ساتھ مک مکا کیا جاتا ہے، مختلف تھانیداروں کو ان کی بیٹس تک ان ٹاﺅنوں کے کہنے پر ملتی ہیںاور تھانوں کی ماہانہ منتھلی اکٹھی کرنا بھی انہی کا کام ہوتا ہے، بہت سے ایس ایچ او تو ایسے بھی ہیں جو تعیناتی یا تبادلے کی صورت میں اپنے کار خاصوں کو ساتھ ہی لے کر آتے ہیں۔ پولیس اہلکار ان ٹاﺅٹس اور کار خاص کو سیکنڈ صاحب کہہ کر پکارتے ہیںاورکئی اہلکار اپنی چھٹیاں بھی انہی کے ذریعے منظور کرواتے ہیں جبکہ تھانوں کے اندر لوگوں کے ریمانڈ تک کا کام ان سے لیا جاتا ہے۔ لاہور کے مختلف تھانوں میں کئی ایسے گلو بٹ بھی موجود ہیں جو رہتے بھی تھانوں میں ہیں اور وارداتیں تک کرتے ہیں۔

مزید : لاہور


loading...