آپریشن ضرب عضب کے متاثرین کو خیبر پختونخوا تک محدود رکھنے کا فیصلہ

آپریشن ضرب عضب کے متاثرین کو خیبر پختونخوا تک محدود رکھنے کا فیصلہ
آپریشن ضرب عضب کے متاثرین کو خیبر پختونخوا تک محدود رکھنے کا فیصلہ

  


اسلام آباد، کندیاں (مانیٹرنگ ڈیسک) شمالی وزیرستان آپریشن کے متاثرین کو صوبہ خیبر پختونخوا تک محدود رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، پنجاب اور سندھ حکومتوں نے دروازے بند کرلئے۔ تفصیلات کے مطا بق پنجاب اور سندھ حکومت نے خیبرپختونخوا سے آنے والے تمام راستوں اور شاہراہوں پر نئے ناکے اور چیک پوسٹیں قائم کردی ہیں، یہ اینٹری پوائنٹس شمالی وزیرستان میں جاری آپریشن کے باعث نقل مکانی کرنے والے متاثرین کی آمد کو روکنے کے لئے لگائے گئے ہیں۔ پنجاب میں اٹک، حسن ابدال، ڈی آئی خان اور مظفر گڑھ کے قریب ناکے لگائے گئے ہیں۔ سندھ میں کشمور اور اوباڑوں کے قریب سندھ پولسی نے ناکے لگادئیے ہیں۔ پنجاب اور سندھ حکومت کا کہنا ہے کہ آئی ڈی پیز ایک ہی صوبے میں رہیں جہاں ان کی رجسٹریشن آسان ہو اور انہیں ساری سہولتیں ایک ہی جگہ آسانی سے فراہم کی جاسکتی ہیں۔ شمالی وزیرستان آپریشن کے پیش نظر کسی بھی ممکنہ خطرہ سے نمٹنے کے لئے ڈی پی او میانوالی نے کندیاں کے جنگلات کے قریب کندیاں پپلاں لنک پل جھال والا پر نئی پولیس چیک پوسٹ قائم کردی ہے جس کا مقصد چشمہ کے حساس پراجیکٹس کی سیکیورٹی اور آئی ڈی پیز کی نقل و حمل کی وجہ سے مشکوک افراد کی نگرانی یقینی بنانا ہے، وہاں پولیس کا ایک اے ایس آئی، چار اہلکار اور پی اے ای سی کے دو سیکیورٹی گارڈ اپنے فرائض سرانجام دیں گے۔

مزید : دفاع وطن


loading...