شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن عارضی طور پربند کیا جائے:عمران خان

شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن عارضی طور پربند کیا جائے:عمران خان
 شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن عارضی طور پربند کیا جائے:عمران خان

  


اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان نے کہا کہ سانحہ ماڈل ٹاﺅن پر رانا ثناءاللہ کا استعفیٰ کافی نہیں ہے انہیں گرفتار کرکے جیل میں ڈالا جائے اور شہباز شریف بھی مستعفی ہوں ، شمالی وزیرستان میں لوگ پھنسے ہوئے ہیں فوجی آپریشن عارضی طور پر بند کیاجائے۔ عمران خان نے کہا کہ سانحہ ماڈل ٹاﺅن میں 83لوگوں کو گولیاں لگیں جن میں سے 12جاں بحق ہوگئے جبکہ متعدد کارکن ابھی تک لاپتہ ہیں ، پولیس نے نہتے لوگوں پرفائرنگ کی ، کسی ڈکٹیٹر شپ میں بھی ایسا نہیں ہوا جوجمہوری دور میں کیا گیا ۔انہوں نے کہا کہ شریف برادران ہمیشہ پولیس کے ذریعے سیاسی انتقامی کارروائیاں لیتے ہیں ، پولیس کا مورال خود حکومت نے گرایا اور ملک کو پولیس سٹیٹ بنادیا ہے ، 1992میں پنجاب کے آئی جی عباس خان نے لاہو رہائیکورٹ کو بتایا کہ نواز شریف کے دور میں کئی مجرموں پر مشتمل 25ہزار لوگوں کوپولیس میں بھرتی کیا گیا ، پنجاب حکومت نے 2013کے الیکشن اور ضمنی انتخابات میں بھی پولیس کو استعمال کیا ۔چیئر مین تحریک انصاف نے کہا کہ چار حلقوں میں ووٹوں کی تصدیق کے لئے اب تک صرف جلسے کئے لیکن حکومت حرکت میں نہیں آئی ، بہاولپور میں جلسے کے بعد حکومت کو ٹائم فریم دیں گے اگر مطالبات نہ مانے گئے توآئند ہ کا لائحہ عمل طے کریں گے جس کی ذمہ دارحکومت ہوگی ۔عمران خان نے بنی گالا میں تحریک انصاف کی کور کمیٹی کی صدارت کرنے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ آج بنوں کا دورہ کیا ہے ،شمالی وزیرستان میں آپریشن کے باعث اب تک ساڑھے تین لاکھ لوگ نقل مکانی کر چکے ہیں اور 6لاکھ کے قریب آئی ڈیز پیز کے آنے کا امکان ہے جبکہ نقل مکانی کرنے والے زیادہ تر بنوں میں آر رہے ہیں ۔عمران خان نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ متاثرین کے لئے فوری طور پر کم از کم 6ارب روپے جاری کئے جائیں ،حکومت کوبیرون ملک سے فنڈز کی مد میں 75ارب روپے سالانہ ملتے ہیں ۔انہو ں نے کہا کہ حکومت نے طے کیا ہے نقل مکانی کرنے والے ہر خاندان کو 7ہزار روپے دیئے جائیں اتنے پیسوں میں ایک پورے خاندان کا گزاراکیسے ہوگا؟ کم از کم فی خاندان کو21ہزار روپے ماہانہ دیئے جائیں ، انہوں نے انکشاف کیا کہ شمالی وزیرستان میں آپریشن کے بعد افغانستان جانے والے متاثرین کے ہر خاندان کو 33ہزار روپے دیئے جار ہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ سندھ اور پنجاب نے متاثرین کے لئے راستے روکے لئے ہیں اور نقل مکانی کرنے والوں کو داخل نہیں ہونے دے رہے ان کو اپنے رشتہ داروں کے پاس جانے دیا جائے ،خیبر پختونخوا کا ہر شہر متاثرین کے لئے کھلا ہے،تحریک انصاف کے رضاکاروں کو بنوں میں مدد کے لئے بھیج رہے ہیں۔

مزید : اسلام آباد /اہم خبریں


loading...