آئی ایس آئی ایس کے خلاف ایک اور فوج میدان میں آگئی

آئی ایس آئی ایس کے خلاف ایک اور فوج میدان میں آگئی
آئی ایس آئی ایس کے خلاف ایک اور فوج میدان میں آگئی

  


بغداد (نیوز ڈیسک) عراق میں ISIS کی بغداد کی جانب پیش قدمی جاری ہے۔ اب تک عراقی فوج داعش (ISIS) کے مقابلے میں محض ریت کا ڈھیر ثابت ہوئی ہے۔ تاہم ممکن ہے کہ پیش قدمی کی یہ رفتار اب قائم نہیں رہے گی کیونکہ عراق کے طاقتور ترین شیعہ رہنما ”مقتد الصدر“ بھی اپنی نجی فوج لے کر ISIS کے مقابلے میں کود پڑے ہیں۔ ”مقتد الصدر“ عراق کے انتہا پسند شیعہ رہنما ہیں اور صدامر حسین کو ہٹائے جانے کے بعد ان کے جنگجوﺅں کی فوج نے مغربی افواج کو ٹارگٹ بنالیا تھا۔ بغداد کے ایک حصے پر قبضہ کرکے اس کا نام صدامر سٹی سے تبدیل کرکے صدر سٹی رکھ دیا گیا تھا۔ شہر کے اس حصے میں عراقی اہلکاروں اور اتحادی افواج کا داخلہ ممنوع ہے۔ گزشتہ برس مقتد الصدر نے اعلان کیا تھا کہ وہ نورالمالکی حکومت کی کرپشن سے دلبرداشتہ ہوکر سیاست سے کنارہ کشی کررہا ہے۔ ساتھ ہی ہتھیار ڈالنے کا اعلان بھی کیا گیا تھا۔ لیکن اب محض دو ہفتوں میں ہزاروں افراد پر مشتمل فوج اکٹھی کرلی گئی ہے اور اس طاقت کا مظاہرہ گزشتہ روز بغداد کی سڑکوں پر کیا گیا۔ اس لشکر میں لڑاکوں سمیت خود کش بمباروں کا بھی ایک دستہ شامل تھا۔ یہ اعلان بھی کیا گیا کہ سب ہماری طاقت دیکھ لیں، حکومت ناکام ہوچکی ہے لیکن عوام خوفزدہ نہ ہوں، ہم یہ جنگ آپ کے لئے جیت کردکھائیں گے۔

مزید : بین الاقوامی


loading...