اسرائیل نے انٹرنیٹ کے ذریعے پراپیگنڈہ کا بھرپور نظام تیار کرلیا

اسرائیل نے انٹرنیٹ کے ذریعے پراپیگنڈہ کا بھرپور نظام تیار کرلیا
 اسرائیل نے انٹرنیٹ کے ذریعے پراپیگنڈہ کا بھرپور نظام تیار کرلیا

  


تل ابیب (مانیٹرنگ ڈیسک) دنیا پر اثر انداز ہونے کیلئے اسرائیل کس مہارت اور مکاری سے کام کررہا ہے اس کی ایک تازہ مثال خود مغربی صحافیوں کی ایک تحقیق میں سامنے آئی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیل نے انٹرنیٹ کے ذریعے پراپیگنڈہ کرنے کا ایک باقاعدہ اور بھرپور نظام تیار کررکھا ہے اور اس نظریے اور نظام کو حسبارہ (Hasbara) کا نام دیا جاتا ہے۔ صحافی جیمز نارتھ کا کہنا ہے کہ دنیا کو لفظ ”حسبارہ“ کا اصل مطلب جاننے کی ضرورت ہے تاکہ اسرائیلی پراپیگنڈے کی گہرائی کو سمجھا جاسکے۔ حال ہی میں اسرائیلیوں نے اپنے تین گمشدہ لڑکوں کے معاملے کو اٹھانے کیلئے انٹرنیٹ پر Bring Back Our Boys نامی مہم کا آغاز کیا ہے۔ مغربی ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ یہ مہم اسرائیل کی یونیورسٹی آف صیفا کے تربیت یافتہ لوگوں نے شروع کی ہے جو کہ اسرائیل کیلئے دنیا بھر میں پراپیگنڈہ کرنے کیلئے تیار کئے جاتے ہیں۔ اس یونیورسٹی نے ایمبیسڈرز آن لائن نامی ایک تعلیمی پروگرام شروع کررکھا ہے جس میں اسرائیلیوں کو دنیا میں اپنا پراپیگنڈہ عام کرنے کا ماہر بنایا جاتا ہے۔ اس پراپیگنڈہ کیلئے لفظ ”حسبارہ“ استعمال کیا جاتا ہے جس کا مطلب ہے کہ جب بھی کوئی فلسطین کی حمایت میں بات کرے یا اسرائیل کے خلاف بات کرے تو اس پر سوشل میڈیا، انٹرنیٹ، ٹی وی، ریڈیو، اخبارات غرضیکہ ہر ممکن ذریعے سے حملوں کی بھرمار کردی جائے اور اسرائیل کے مفادات کیلئے اسقدر پراپیگنڈہ کیاجائے کہ دنیا کہہ اٹھے کہ اسرائیل ہی سچ کہہ رہا ہے اور اس کا کو اسقدر مہارت سے کیا جاتا ہے کہ کسی کو شک بھی نہ گزرے۔ صحافت کے شعبے کے ماہرین نے اس بات پر زور دیا ہے کہ اس لفظ کو انگریزی زبان کا حصہ بنایا جائے ناکہ لوگوں کو اس کی اصل حقیقت کا علم ہوسکے۔

مزید : بین الاقوامی


loading...