سندھ حکومت نے فوٹوگرافر کی تصویریں چرالیں

سندھ حکومت نے فوٹوگرافر کی تصویریں چرالیں
سندھ حکومت نے فوٹوگرافر کی تصویریں چرالیں

  


کراچی (نیوزڈیسک ) حال ہی میں سندھ ٹوورازم ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے ” سندھ ٹورسٹ گائیڈ“ کے نام سے ایک کتاب شائع کی ہے۔ خوبصورت تصاویر اور پرکشش ڈیزائیننگ سے مزین یہ کتاب سندھ کے تفریحی مقامات سے متعلق کافی معلومات فراہم کرتی ہے۔ تاہم اس کتاب میں استعمال ہونے والی متعد تصاویر پر ایک معروف فوٹوگرافر دانیال شاہ نے چوری کا الزام لگایا ہے۔ دانیال شاہ نے ایک کھلے خط کے ذریعے متعلقہ حکام کو خاصے طنزیہ انداز میں آگاہ کیا ہے کہ مذکورہ بالا کتاب میں شامل کئی ایک تصاویر دراصل انہوں نے کھینچی ہیں۔ ان کے بقول ایسی پروفیشنل تصاویر کھینچنے پر کافی سخت محنت اور استعمال ہونے والے آلات پر دو لاکھ سے زیادہ کی لاگت آئی ہے۔ متعلقہ ادارے نے یہ تمام تصاویر ان کی اجازت کے بغیر کتاب میں شامل کی ہیں، جو نہ صرف کاپی رائٹ ایکٹ کی کھلی خلاف ورزی ہے بلکہ اخلاقی طور پر بھی ایک غلط حرکت ہے۔ دانیال شاہ اپنے اس کھلے خط میں لکھتے ہیں کہ اگرچہ یہ کتاب کافی خوبصورت تصاویر سے مزین ہے مگر اس کتاب کی تقریباََ تمام تصاویر چرائی ہوئی ہیں۔ جن میں ان کی تصاویر کے علاوہ ملک کے دیگر فوٹوگرافرز مثلاً آغا وسیم، امیر حمزہ، زاہد علی خان، علی رضا کھتری، اقبال خان کھتری اور دیگر کی تصاویر شامل ہیں۔ وہ لکھتے ہیں کہ گوگل سرچ میں سامنے آنے والی کسی بھی تصویر کا یہ مطلب نہیں کہ وہ آپ کی ملکیت ہے۔ اسے فوٹوگرفر کی اجازت کے بغیر استعمال کرنا پلےجرزم (ادبی سرقہ) کہلاتا ہے جو اخلاقی اور قانونی طور پر ایک غلط حرکت ہے۔ وہ اس معاملے پر عدالتی کارروائی کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ان کے پاس اس قدر وسائل نہیں کہ وہ عدالت میں کرپشن کے ایسے شہنشاہوں کے خلاف مقدمات لڑ سکیں ۔ اور یہ کہ جہاں ہزاروں کی تعداد میں عدالتی کیس سالوں سے ان کرپٹ جاگیرداروں کی اجارہ داری کے باعث لٹکے ہوئے وہاں وہ انصاف کی توقع کیسے کر سکتے ہیں ؟ وہ مزید لکھتے ہیں کہ اس کتاب کی قیمت 800 روپے ہے۔ اس کی پبلشر کو بھی اسے شایع کرنے کی کافی قیمت ادا کی گئی ہوگی۔اس صورت میں اصل کام کرنے والوںکو بھی ان کے حقوق ملنے چاہئےں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ ایک محب وطن پاکستانی ہیں اور وہ اپنی تصاویر کے ذریعے پاکستانی ثقافت کے فروغ کو ہمیشہ پسند کریں گے۔ لیکن اگر کوئی ان تصاویر سے کاروباری مقاصد حاصل کرے گا تو یہ استحصال کے زمرے میں آئے گا۔

تصاویر:دانیال شاہ

مزید : کراچی


loading...