لوگوں کی بھلائی کے لئے جیلر خود ’قیدی‘ بن گیا

لوگوں کی بھلائی کے لئے جیلر خود ’قیدی‘ بن گیا
لوگوں کی بھلائی کے لئے جیلر خود ’قیدی‘ بن گیا

  


میکسیکو (نیوزڈیسک ) جیلوں میں اصلاحات کے لئے میکسیکو کے اصلاحی سیکرٹری نے مجرم کی حیثیت سے 48گھنٹے جیل میں گزارے۔ قیدیوں کے مخصوص لباس میں ملبوس گریگ مارکینٹل سانٹا فی جیل کے 12x7فٹ سیل میں خطرناک ڈکیت کی حیثیت سے گئے۔ گریگ ریاست کی جیلوں میں اصلاحات متعارف کروانے کے لئے آج کل سرگرم ہیں اوران کے خیال میں ایسا تب ہی ممکن ہے جب وہ خود وہاں جا کر وقت گزاریں۔ امریکی نشریاتی ادارے اے بی سی نیوز سے بات کرتے ہوئے گریگ کا کہنا تھا کہ اگر آپ تبدیلی لانا چاہتے ہیں تو سب سے پہلے آپ کو خود قیدخانوں کے نظام کا جائزہ لینا ہوگا اور وہ تب ہی ممکن ہے جب میں خود قیدی بن کر دیکھوں۔ 1980ءمیں نیومیکسیکو کی ایک جیل میں قیدیوں کی فساد نے اسے تاریخ کی بدترین جیل بنا دیا تھا اور اس وقت یہ پالیسی آئی کہ حکم عدولی یا سرکشی کرنے والے قیدیوں کو الگ الگ سیلوں میں رکھا جائے۔ 1980ءمیں ہونے والے فساد کے باعث ایک ہی سیل میں رہنے والے 33 قیدی ہلاک جبکہ 2 سو سے زائد زخمی ہو گئے تھے۔ لیکن جیلوں کے نئے اصلاحی سیکرٹری گریک اس پالیسی سے متفق نہیں، ان کا کہنا ہے کہ صرف خطرناک ترین مجرموں کو ہی الگ سیل میں رکھا جائے، کیوں ایسا نہ کرنے کی صورت میں ایک طرف ریاست پر مالی بوجھ بڑھ رہا ہے تو دوسری طرف یہ لوگ معاشرے سے بھی کٹ کر رہ جائیں گے۔

مزید : جرم و انصاف


loading...