نظر کے چشمے قصہِ پارینہ بننے والے ہیں

نظر کے چشمے قصہِ پارینہ بننے والے ہیں
نظر کے چشمے قصہِ پارینہ بننے والے ہیں

  


لندن (بیورونیوز ) حال ہی میں ہونے والی ایک انقلابی پیش رفت جلد ہی لاکھوں لوگوں کو عینک سے نجات دلا سکے گی۔ ایک بار پھر بعید نظری کے مرض کا مستقل حل ایک پلاسٹک لینز کی صورت میں پیش کیا گیا ہے جو کہ سرجری کے ذریعے ہی آنکھ میں نصب کیا جائے گا۔ ماہرین کے مطابق یہ لینز مریض کو فطری بصارت لوٹانے میں کامیاب ہو جائے گا۔ اب تک سرجری کے ذریعے نصب کیا جانے والا کوئی بھی لینز انسان کی فطری بصارت نہیں لوٹا سکا تھا، تاہم حالیہ ایجاد اس ضمن میں ایک بڑا سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے۔ پلاسٹک سے بنائے جانے والے اس طویل عمر لینز کا نام ”سمفنی“ رکھا گیا ہے۔ ماضی میں بصارت کے مسائل کو حل کرنے کے لیے انسانی آنکھ میں صرف مونو فوکل لینز نصب کیئے جاتے رہے ہیں جو عینک کی ضرورت کو مکمل طور پر ختم نہیں کر پاتے۔ بعد ازاں ملٹی فوکل لینز بھی استعمال کیے گئے مگر معمولی دھندلاہٹ کو مکمل طور پر کبھی ختم نہیں کیا جا سکا۔ کیونکہ لینز نصب کرنے سے آنکھ کے ”ڈیلے“ (بال) کی ساخت میں کچھ نہ کچھ تبدیلی واقع ہو جاتی تھی۔ ”سمفنی“ نے بڑی کامیابی سے اس مسئلے پر قابو پایا ہے۔ یہ لینز اپنی تنصیب کے کم و بیش چھتیس گھنٹے میں مکمل طور پر کارگر ہو جائے گا۔ تاہم ایک آنکھ کے آپریشن پر 3,900 پاﺅنڈ قطعاََ سستا علاج نہیں ہے۔ امید ہے کے مستقبل قریب میں یہ علاج عام آدمی کی پہنچ میں بھی آجائے گا۔

مزید : تعلیم و صحت


loading...