حکومت کا تاریخی فیصلہ: قرآن مجیدکی طباعت کے لئے درآمدی پیپرڈیوٹی فری کردیاگیا ( 2)

حکومت کا تاریخی فیصلہ: قرآن مجیدکی طباعت کے لئے درآمدی پیپرڈیوٹی فری ...
حکومت کا تاریخی فیصلہ: قرآن مجیدکی طباعت کے لئے درآمدی پیپرڈیوٹی فری کردیاگیا ( 2)

  



ایک طرف علماہیں جوقرآن مجیدکے فضائل ومسائل بیان کرتے ہیں،دوسری طرف قرأکرام ہیں جو لاکھوں بچوں کو قرآن مجید حفظ کرواتے اور تجویدوقرات کے علوم سکھا رہے ہیں،اسی طرح بہت سے لوگ اپنے اپنے وسائل اوراستعدادکے مطابق شہیدقرآنی اوراق کی حفاظت کاکام کررہے ہیں، لیکن قرآن مجیدکی خدمت اور حفاظت کاجوکام اللہ تعالی لاہورسے تعلق رکھنے والے ایک بزرگ حاجی ناظم الدین سے لے رہے ہیں، اس کی سعادت کسی دوسرے شخص کو نصیب نہیں ہوسکی ۔

حاجی ناظم الدین نے ایک طرف شہید قرآنی اوراق کی حفاظت کا بیڑا اٹھایا تو دوسری طرف قرآن مجیدکے طباعتی معیار کو بہتر اور خوبصورت بنانے کے لئے پاکستان میں مختلف اوقات میں برسراقتدارآنے والی حکومتوں کے ساتھ آئینی اورقانونی جنگ بھی لڑی ہے

۔ایوان صدر،وزیراعظم ہاؤس،پارلیمنٹ اورعدلیہ سمیت ہرجگہ انہوں نے دستک دی،صوبوں سے لے کروفاق تک ہرجگہ آوازاٹھائی ان کی کوششوں سے پنجاب قرآن بورڈ بنا، قرآن کمپیلکس تعمیر ہوا، قرآن مجیدکی طباعت واشاعت کے معیار کو بہتر بنانے کے لئے قانون سازی ہوئی۔قرآن مجیدکی طباعت واشاعت کے معیارکوبہتربنانے کے لئے ایک اہم مرحلہ یہ تھاکہ اس کی طباعت امپورٹیڈ پیپرپرکی جائے،جبکہ امپورٹیڈ پیپر پر ٹیکسوں کی بھرمارہے، اس لئے اکثر ناشران قرآن مجید امپورٹیڈ پیپر پر طباعت کے متحمل نہیں ہوسکتے، مزیدیہ کہ امپورٹیڈ پیپرپرطباعت کی وجہ سے قرآن مجیدکاہدیہ بھی بڑھ جاتاہے۔یہ تمام مسائل اپنی جگہ مگردوسری طرف پنجاب قرآن بورڈکے چئیرمین مولاناغلام محمدسیالوی، سیکرٹری اوقاف ومذہبی امور،حاجی ناظم الدین اورپنجاب قرآن بورڈ کے دیگرممبران ایک عرصہ سے کوشش کررہے تھے کہ قرآن مجیدکی طباعت واشاعت کے معیار کو بہتربنانے کے لئے ڈیوٹی فری کیا جائے۔

یہ نہایت ہی مشکل کام تھاراستے میں بیوروکریسی کی شکل میں مشکلات کے پہاڑکھڑے تھے،پھرمحکمہ خزانہ اورسی بی آروالے تھے، جن کاموقف تھاکہ قرآن مجیدکی طباعت واشاعت کے لئے اگر امپورٹیڈ پیپر کو ڈیوٹی فری کر دیا گیا تو خزانے کوہرسال اربوں روپے کانقصان ہوگا، لیکن کہتے ہیں کہ لمبے سفرکی ابتدا بھی پہلے قدم سے ہوتی ہے،جب نیت خالص ہو اور ارادے نیک ہوں توکامیابی قدم چومتی ہے یہی کچھ قرآن مجیدکے درآمدی پیپرکے سلسلے میں ہوا۔

کسی بھی کام کوپایہ تکمیل تک پہنچانے اورکسی بھی معرکہ کولڑنے والے دوطرح کے ہوتے ہیں، ایک وہ جوفرنٹ پرہوتے ہیں اوردوسرے وہ جو پس پردہ ہوتے ہیں۔ دونوں کا اپنا اپنا کردار ہوتا ہے، لیکن عام طورپرکریڈٹ انہی کوملتاہے جو فرنٹ پرہوں، جبکہ پس پردہ لوگوں کی مثال ستائش کی تمناہے نہ صلے کی پرواوالی ہوتی ہے۔قرآن مجیدکے پیپرکوڈیوٹی فری کروانے کے معرکہ میں محمد ناظم الدین کی کوششوں سے انکارممکن نہیں ہے، اسی طرح اس ضمن میں سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف، سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈارکی دلچسپی ورغبت سے بھی انکارممکن نہیں، اس معرکہ میں ایک شخص ایسا ہے کہ بظاہر اس کا کہیں ذکر نہیں، تذکرہ نہیں، نام نہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اگراس شخص کی ذاتی دلچسپی شامل نہ ہوتی تو قرآن مجید کے پیپر کو ڈیوٹی فری کرنا ممکن نہ ہوتا۔

یہ محکمہ سی بی آرکے چیئرمین جناب طارق پاشا ہیں۔ طارق پاشا کچھ سال پہلے پنجاب حکومت کے محکمہ مذہبی امور میں بطور سیکرٹری خدمات انجام دے چکے ہیں۔ سیکرٹری مذہبی امورکی حیثیت سے بھی انہوں خدمت قرآن کے لئے بیشمارکام کئے۔

2013ء میں وفاقی حکومت نے پنجاب حکومت سے طارق پاشاکی خدمات طلب کیں اور وہ ایڈیشنل سکیرٹری فنانس بن کراسلام آباد چلے گئے۔ طارق پاشاکی کوششوں سے 15،2014ء کے بجٹ میں قرآن مجیدکے امپورٹیڈ پیپرکو ڈیوٹی فری کرنے کا فیصلہ کیا گیا، تاہم ساتھ ہی یہ شرط بھی لگا دی گئی کہ یہ پیپر وفاقی حکومت یا صوبائی حکومتیں ہی منگواسکیں گی، مزید یہ کہ ساتھ واٹرمارک کی شرط لگا دی گئی تھی، یہ اگرچہ اچھافیصلہ تھاتاہم ساتھ ہی اس فیصلے میں کچھ قباحتیں بھی تھیں۔

واٹرمارک کی شرط کے ساتھ کاغذکاریٹ مزید بڑھ جانا تھا، اس لئے 16، 2015ء کے بجٹ میں طارق پاشا کی کوششوں سے واٹرمارک کی شرط ختم کر دی گئی، لیکن پیپر منگوانے کا اختیار بدستور وفاقی اورصوبائی حکومتوں کے پاس ہی رہا۔حالیہ بجٹ میں یہ تبدیلی کی گئی کہ قرآن مجیدکے لئے پیپرمنگوانے کا اختیار ان ناشران کو دے دیا گیا ہے، جو چاروں صوبوں میں محکمہ اوقاف میں رجسٹرڈ ہوں گے۔

2014ء سے لے کر 2018ء تک قرآن مجیدکے درآمدی پیپرمیں ریلیف دینے کے لئے جو کوششیں کی گئیں، بلاشبہ اس کا کریڈٹ سابق وزیراعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف، سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو جاتا ہے، اگرنوازشریف اوراسحاق ڈارنہ چاہتے تویہ فیصلے کبھی نہ ہوتے، حالانکہ بیورکریسی اس معاملے میں کئی قسم کے خدشات ظاہرکررہی تھی، مگر پہلے میاں نواز شریف نے اور پھر سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے تمام خدشات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے، قرآن مجیدکے طباعتی معیار کو بہتر بنانے کے لئے امپورٹیڈ پیپر کو ڈیوٹی فری کر نے کافیصلہ کیا۔

اس فیصلے کی تاریخی حیثیت ذوالفقار علی بھٹو کے مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کے فیصلے سے کسی طرح بھی کم نہیں، لیکن مسلم لیگی وزرا کی نالائقی تھی کہ وہ اس تاریخی فیصلے کو میڈیا میں مشتہر نہیں کرسکے۔

یہی وجہ ہے کہ دینی، عوامی، تجارتی اور سماجی حلقوں میں اس فیصلے کاکوئی چرچا نہیں، ضرورت اس امرکی تھی کہ اس تاریخی فیصلے کو میڈیا میں کماحقہ مشتہر کیا جاتا، تاکہ اس کے مثبت پہلو لوگوں کے سامنے آتے۔ پاکستان میں معیاری اور خوبصورت قرآن طبع کرنے والی ’’قرآن کوالٹی پبلشرز ایسواسی ایشن‘‘ کے صدر عکاشہ مجاہد اور جنرل سیکرٹری قدرت اللہ، المصباح ناشران قرآن کے طارق خورشید صوفی نے حکومت کے اس فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا امپورٹیڈ پیپر کو ڈیوٹی فری کرنا بلاشبہ حکومت کا ایک بہت ہی اچھا فیصلہ ہے، اس فیصلے سے جہاں قرآن مجید کی طباعت کا میعار بہتر ہوگا، وہاں ارزاں ہدیہ پر لوگوں کو خوبصورت اور معیاری کاغذ پر چھپے ہوئے قرآن مجید، سیپارے اور قاعدے بھی دستیاب ہوں گے، مزیدیہ کہ قرآن مجید، سیپاروں اور قاعدوں کی شہادت میں بھی خاطر خواہ کمی واقع ہوگی، قرآن مجیداللہ کی کتاب ہے، اسے جتناعام کیاجائے، لوگوں تک پہنچایا جائے پڑھا جائے اوراس پرعمل کیا جائے، پاکستان میں اتناہی امن وامان ہوگا، اس لئے کہ قرآن مجیدکی تعلیمات میں امن ہی امن، سلامتی اور خیروبرکت ہے۔

مزید : رائے /کالم