پپانی کا بحران اور سپر یم کورٹ کا کردار

پپانی کا بحران اور سپر یم کورٹ کا کردار
پپانی کا بحران اور سپر یم کورٹ کا کردار

  

نی کے بحران نے خطرے کی ایک اور گھنٹی بجا دی ،ملک میں پانی کا بحران مزید شدید ہو گیا۔ پینے کے صاف پانی کی جگہ مضرصحت پانی نے خطرے کی گھنٹی بجا دی۔ناکافی ڈیم، زیر زمین پانی کی کمی، شہریوں کو مضر صحت پانی کی فراہمی، ملک میں پانی کا بحران شدید ترین ہو گیا۔

مسلم لیگ (ن) کے حکومت کا دعویٰ تھا کہ مشترکہ مفادات کونسل میں قومی واٹر پالیسی منظور کرالی جائے گی، حقیقت یہ ہے کہ صوبے واٹر پالیسی سے متفق ہی نہیں۔نیشنل واٹر پالیسی کے ڈرافٹ کے مطابق زیر زمین پانی کی دستیابی فی کس 800 سے 940 کیوبک میٹر سالانہ رہ گئی ہے۔

بحران سے نمٹنے کے لئے بھارت سے واٹر شیئر مینجمنٹ سے معاہدے کی تجویز بھی پیش کی گئی۔ واٹر پالیسی میں پانی چوری اور ضیاع کو روکنے کے لئے میٹر سسٹم کی سفارش، کسانوں سے آبیانے کی رقم بڑھانے، دیہی علاقوں میں بھی پانی کے نرخ مقرر کرنے کا بھی کہا گیا۔ شہروں میں مضر صحت پانی پر جہاں تشویش کا اظہار کیا گیا وہیں،پانی کو آلودہ کرنے پر صنعتوں کو بھاری جرمانوں کی بھی سفارش کی گئی۔

دریاؤں کے کناروں پر تجاوزات، سیلاب کی روک تھام، بیراجوں کے ڈیزائن میں تبدیلی اورنیا ٹیلی میٹری سسٹم متعارف کرانے، واٹر پالیسی میں چھوٹے، درمیانے اور بڑے ڈیم ہنگامی بنیادوں پر تعمیراور نیشنل واٹر کمیشن کے قیام پر بھی زور دیا گیا۔

چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے کالا باغ ڈیم بنانے سے متعلق درخواست کی سماعت کے دوران ریمارکس دئیے کہ اب سپریم کورٹ ڈیم بنانے سے متعلق آگے بڑھے گی اور اپنا کردار ادا کرے گی۔سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں لارجر بینچ نے کالا باغ ڈیم بنانے سے متعلق بیرسٹر ظفر اللہ خان کی جانب سے دائر درخواست پر سماعت کی۔

دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ اس وقت پاکستان میں بحث کالا باغ ڈیم کی نہیں کر رہے، ہم یہ دیکھ رہے ہیں کہ پانی کی قلت کیسے ختم ہوگی؟جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ معلوم ہے آئندہ وقتوں میں پانی کی اہمیت کیا ہوگی، لیکن 4 بھائی جس پر متفق نہیں تو پھر متبادل کیا ہے؟چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ ہم نے پانی کی قلت کے خاتمے کا تہیہ کر لیا ہے، اب سپریم کورٹ ڈیم بنانے سے متعلق آگے بڑھے گی اور کردار ادا کرے گی، عید کے بعد سپریم کورٹ کا لاء اینڈ جسٹس ڈیپارٹمنٹ سیمینار کرائے گا، ماہرین تجاویز دیں اور بیٹھ کر ایس او پیز بنائیں گے۔چیف جسٹس نے کہا کہ ہم ایک ٹیم بنا دیتے ہیں، جس میں اعتزاز احسن اور دیگر ماہرین کی خدمات لیں گے۔چیف جسٹس نے کہا کہ بتایا جائے، ملک میں ڈیم کس طرح بنائے جائیں، آپ سفارشات دیں، ہم پارلیمنٹ سے سفارش کریں گے۔

جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ قانون بنانے کی صلاحیت ملک میں ختم ہو چکی ہے، لاء اینڈ جسٹس کمیشن کے ذریعے قانون بنا کر پارلیمنٹ کو سفارش کی جاسکتی ہے، قوم اختیار دے تو سپریم کورٹ اپنا کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ہمیں خود نمائی کرنے والے لوگ نہیں چاہئیں، سیمینار کے ذریعے پہلا قدم اٹھائیں گے، جس کا آغاز کراچی اور سندھ سے کریں گے۔

کالا باغ ڈیم بنانے پر لوگوں کو مکمل آگاہی نہیں، دوران سماعت سابق چیئرمین واپڈا ظفر محمودسے چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آپ بتائیں پانی کی قلت کیسے پوری کریں؟ جس پر انہوں نے کہا کہ کالا باغ ڈیم بنانے پر لوگوں کو مکمل آگاہی نہیں اور اسی تنازع کے بعد واپڈا کی چیئرمین شپ سے استعفا دیا تھا۔

ظفر محمود نے کمرۂ عدالت میں پروجیکٹر کے ذریعے کالا باغ ڈیم پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ماحولیات کی تبدیلی پر پاکستان میں سیلاب آنا شروع ہوئے، گلیشیر تیزی سے پگھلنا شروع ہو چکے ہیں۔بھارت نے راوی، ستلج اور بیاس کے پانی پر قبضہ کرلیا ہے اور انڈس واٹر معاہدے سے بھی خطرات پیداہو چکے ہیں، جب سیلاب آتا ہے تو بھارت پانی چھوڑ سکتا ہے، جبکہ بھارت کے ڈیموں میں تکنیکی طور پر زیادہ پانی ذخیرہ کیا جاسکتا ہے۔مزید ڈیم بنانے سے متعلق ہم نے کوتاہی کی، جس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا حکومتوں کو ان کا ادراک نہیں رہا؟ جس پر ظفر محمود کا کہنا تھا کہ تمام حکومتیں ہی اس مجرمانہ غفلت کی ذمے دار ہیں۔

بھارت تسلسل کے ساتھ پانی بند کرنے کی کوشش کرے گا اور وہ اس حوالے سے ہمیں مزید تنگ کرے گا۔چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ زندگی کے لئے سب سے زیادہ پانی کی اہمیت ہے، یہ بتائیں عدالت اس میں کیا کردار ادا کر سکتی ہے؟سابق چیئرمین واپڈا نے کہا کہ کوئٹہ کا پانی اتنا نیچے جا چکا کہ بحالی میں 200 سال لگیں گے، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ 10 سال بعد تو کوئٹہ میں پینے کا پانی نہیں ہوگا تو لوگوں کو وہاں سے ہجرت کرنا پڑے گی۔

ظفر محمود نے کہا کہ لوگوں کو پانی کے استعمال اور بچت پر آگاہی دینے کی ضرورت ہے، صنعتی ماحول سے زیر زمین پانی بھی خراب ہو رہا ہے، صنعتوں سے متعلق کوئی مربوط پالیسی نہیں، جس پر چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ معلوم ہے صنعتیں فضلہ صاف کرنے کے بجائے نالوں میں پھینک رہی ہیں، لاکھوں گیلن گندا پانی سمندر میں جا رہا ہے، جس پر ظفر محمود نے کہا کہ اس کا حل یہ ہے کہ صنعتی فضلے کے لئے ٹریٹمنٹ پلانٹ بنائے جائیں۔

پانی کا بحران ملک میں شدت اختیار کرچکا ہے، اس پر قیام پاکستان کے بعدکسی بھی حکومت نے توجہ نہیں دی، جس کے سبب پانی کا بحران دوملکوں کی جنگوں سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔

صوبوں کو ملکی مفادات کی خاطرپانی کے بحران پر متحدہوجانا چاہئے، تاکہ آئندہ نسل کو پانی کے بحران سے بچایا جاسکے۔ سپریم کورٹ نے پانی کے بحران پر نوٹس لے کر عوام کے دل جیت لئے ہیں اوراس مسئلے کو پاکستان میں اہم قراردے کراپنا آئینی حق اداکردیا ہے۔

مزید :

رائے -کالم -