آؤ عیش کرو

آؤ عیش کرو
آؤ عیش کرو

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

عیش و نشاط کے دلدادہ شوقین لوگوں کے لئے خوشخبری ہے کہ پاکستان میں بھی وہ سب کچھ میسر ہونے لگا ہے،جس کے لئے ہمارے لوگ تھائی لینڈ، ہانگ کانگ، چین ،یورپ یا ایسی دوسری جگہیں تلاش کرتے تھے،جہاں وہ سب کچھ مل سکے جو انہیں پاکستان میں بالکل بھی میسر نہیں تھا۔ آج پاکستان ترقی کی طرف گامزن ہے۔

نئی تہذیب کے شاندار جلووں کی ابتدا ہو چکی ہے۔ ایک عرصے سے یہ کام تھوڑا ڈھکے چھپے جاری تھا اور صرف اسلام آباد تک محدود تھا، مگر اب یہ سہولت لاہور سمیت پاکستان کے دیگر شہروں میں بھی میسر ہو گئی ہے دوسرا پہلے صرف الیٹ کلاس کے لوگوں کو یہ سہولتیں حاصل تھی، لیکن اب ایسی سہولتیں عوامی ہوتی جا رہی ہیں۔ ترقی کاوہ شاندار عمل عوام کے دروازے پر پہنچ چکا ہے۔

اب لوگوں کو تھائی لینڈ، ہانگ کانگ یا یورپ کے کسی ہیمبرگ جیسے شہر جانے کی ضرورت نہیں۔بس ایک فون کال اور ہر سہولت میسر۔ اس سے زیادہ ترقی کیا ہو سکتی ہے۔

میں جرمنی کے ساحلی شہر ہیمبرگ میں پھر رہا تھا۔ دوپہر کا وقت تھا۔وہاں کے ساحل کی دُنیا بھر میں دھوم ہے۔ مَیں ساحل کی سیر پر جا نکلا۔ ساحل پر ریت کے اوپر موج اور مستی کا وہ عالم تھا کہ الاماں۔ میرے لئے وہاں ٹھہرنا ممکن نہیں تھا۔ ہمارے یہاں پیسے دے کر بھی وہ مناظر نظر نہیں آ سکتے،جو وہاں سر عام نظر آ رہے تھے۔

مکمل مادر پدر آزادی، بہت سے لوگوں نے تکلفاً بھی کپڑے پہنے نہیں ہوئے تھے۔ ہر وہ کام جو اس ارض پاک میں خلوت میں بھی معیوب ہے وہاں جلوت میں بھی جاری تھا۔ میلوں تک یہی صورت حال تھی جس سے امان کی کوئی صورت نہیں تھی، میرے جیسے بندے کے لئے ایسا نظارہ چونکہ معیوب ہی نہیں، گناہ ہے سو میں ساحل کی خوبصورتی دیکھے بغیر ہی وہاں سے لوٹ آیا۔

چاہ شان ، چین کے صوبے گوا نگ ژو کی دسٹرکٹ چھن تاؤ (Shantou)کا ایک چھوٹا سا قصبہ ہے۔ اس چھوٹے سے قصبے میں ایک چار تارہ ہوٹل ہے ۔ اس پورے علاقے میں انڈسٹری کا جال ہے اور دُنیا بھر کے کاروباری افراد وہاں آتے ہیں۔ان کی رہائش کے لئے پورے علاقے میں یہ واحد معقول ہوٹل ہے۔

اِس لئے سب وہیں ٹھہرتے ہیں۔اس ہوٹل کااکلوتا اسسٹنٹ منیجر جسے انگریزی آتی تھی ، نئے مہمانوں کو لے کر اپنے ہوٹل کی میسر سہولتوں کے بارے بتا رہا تھا۔ہوٹل کاپورا تیسرا فلور جوا کھیلنے کے لئے مخصوص تھا۔

چھوٹے چھوٹے کمرے کہ اگر آپ پانچ چھ لوگ آپس میں جوا کھیلنا چاہتے ہوں تو تمام سہولتوں کے ساتھ وہ کمرے موجود ہیں۔بڑے بڑے کمرے کہ جہاں عجیب عجیب مشینیں آپ کی سہولت کے لئے موجود ہیں۔ ایک مخصوص رنگ،جو اس فلور کے لئے مخصوص تھا،کا لباس پہنے اچھلتی کودتی تھرکتی نوجوان لڑکیاں آپ کی خدمت کو موجود ۔

کھانا بھی کھائیں اور جوا بھی کھیلیں۔ اب ہم چوتھے فلور پر تھے۔ ایک بڑا سا ہال تھا۔ اس میں ساٹھ ستر لڑکیاں یوں بیٹھی تھیں جیسے بکریوں کا ریوڑ ہو۔ نیم عریاں لباس میں بیٹھی کوئی سوئیٹر بُن رہی تھی ، کوئی کتاب پڑھ رہی تھی، ہر ایک کچھ نہ کچھ کر رہی تھی۔

ہمیں دیکھ کر سب نے کام چھوڑ دیا اور مسکرا مسکرا کر ہمیں دیکھنے لگی۔ اسسٹنٹ منیجر صاحب نے تعارف کرایا کہ یہ لڑکیاں آپ کی خدمت کے لئے ہیں۔ آپ جب چاہیں اور جس کو چاہیں پسند کرکے اپنے ساتھ لے جا سکتے ہیں۔ اس بڑے ہال کے باہر ریٹ لسٹ درج تھی کہ کتنے گھنٹے کا کتنا معاوضہ ہے۔

ہوٹل میں آپ کے اپنے کمرے کے علاوہ وہاں اس فلور پر بہت سے کمرے تھے۔ ہر کمرے کے باہراس کا کرایہ درج تھا اور اندر جتنا گند ڈالنے کا زیادہ سامان تھا، کرایہ اتنا ہی زیادہ تھا۔کھلی دعوت تھی کہ آپ جس حد تک گر سکتے ہیں گر جائیں ۔ عزت، غیرت اور ایمان کے علاوہ پیسے بھی اتنے ہی زیادہ گنوانے ہوتے ہیں۔

تھائی لینڈ کے شہر بنکاک میں سالم روڈ پر ایک ہوٹل میں میرا قیام تھا۔ہوٹل کے گراؤنڈ فلور پر کچھ دکانیں بھی تھیں۔ ان دکانداروں میں اگر آپ کا کوئی واقف ہے تو روم ریٹ میں اس کے حوالے سے آپ کو خاص رعایت مل جاتی ہے۔یہ رعایت بعض اوقات پچاس فیصد تک ہو جاتی ہے۔کراچی کے کریم بھائی بھی انہی دکانداروں میں شامل تھے۔

میں ہوٹل پہنچ کرسیدھا انہی کے پاس جاتا وہ رعایتی قیمت پر ہوٹل میں کمرہ لے دیتے۔ ویسے بھی بنکاک کے بارے کریم بھائی کوسب علم ہونے کے سبب کہ کہاں جانا کاروباری لحاظ سے سود مند ہے میرے لئے بہتر تھا،کریم بھائی مجھے گائیڈ کر دیتے تھے۔ یہ چار تارہ ہوٹل تھا۔ ہوٹل سے ملحقہ عمارت میں ایک مساج سنٹر تھا۔

سنٹر کے آگے ایک بڑا سا بورڈ لگا تھا،مساج سنٹر، نوجوان، خوبصورت خواتین سے مساج کروائیں، چھوٹا سا نوٹ بھی تھا، ہم صرف مساج کرتے ہیں، کوئی دوسری بات نہ کریں۔

میں کریم بھائی کے پاس بیٹھا تھا کہ ایک پاکستانی تشریف لائے اور پوچھا،’’کریم بھائی، ساتھ والے مساج سنٹر میں بھی آپ کا رقعہ چلتا ہے کہ نہیں، آج جانے کا موڈ ہے‘‘۔یک دم کریم بھائی جوش میں آ گئے اور بولے،’’ میں یہاں کاروبار کرتا ہوں۔ حلال کھاتا ہوں، حلال کام کرتا ہوں۔ سیدھا سادہ مسلمان ہوں ۔اگر آپ کی بھائی سمجھ کر خدمت کرتا ہوں تو اتنا مت گرو۔ بے غیرت آدمی، مجھے دلال سمجھا ہے۔

مساج کے نام پر در پردہ گند ڈالنے آ جاتے ہو ۔ نہ اپنی عزت کا خیال اور نہ مُلک کی‘‘۔ ان کی اتنی سخت گفتگو سننے کے باوجود وہ صاحب ہنستے ہوئے وہاں سے چلے گئے۔کریم بھائی مجھے بتانے لگے کہ سارے مساج سنٹر فراڈ ہیں۔

باہر لکھتے کچھ ہیں، مگر اندر گند ڈالنے کے سوا کچھ نہیں۔ اندر جانے کے شوقین حضرات سب جانتے ہیں اسی لئے اتنی دور سے اس حرام زدگی کے لئے آتے ہیں۔ اﷲ محفوظ رکھے کہ مجھ بوڑھے آدمی سے کوئی اس کام میں مدد کی توقع رکھے۔

یہ سارے واقعات مجھے یوں یاد آئے کہ مجھے کسی لڑکی کی طرف سے ایک پیغام ملا ہے کہ ان کے پاس خوبصورت اور پروفیشنل خواتین مساج کرنے کے لئے موجود ہیں۔ اگر آپ شوقین ہیں تو ان سے رابطہ کریں اور خوب عیش کریں، فون نمبر بھی دیا تھا جو حذف کر دیا ہے۔

مَیں بوڑھا آدمی۔ پھر اﷲ کا احسان ہے کہ ایسا شوق بھی کبھی نہیں رہا۔ مَیں یہ پیغام پبلک کر رہا ہوں اِس لئے کہ پاکستان بڑی زرخیز زمین ہے،یہاں مساج کے شوقین بھی ہیں اور اینٹی شوقین بھی۔

یہاں بے حس بھی ہیں اور باحس بھی۔ کہنے کو بہت کچھ کہا جا سکتا ہے، مگر یہ شاید گالیوں کے ضمن میں آ جائے،جو مجھے زیب نہیں دیتا،جو میری ذمہ داری ہے وہ میں نے لکھ کر پوری کر دی ہے۔ آگے جو اصل ذمہ دار ہیں ان کو غیرت آ جائے تو ان شا اللہ بہتری کی صورت نکل آئے گی۔

پاکستان میں ایک مخصوص طبقہ مادر پدر آزادی کا خواہاں ہے۔وہ پاکتان میں رہتے یہاں یورپ سے بھی بدتر ماحول کے دلدادہ ہیں۔ان کا اپنی ماؤں اور بہنوں کے بارے کیا نظریہ ہے یہ تو میں نہیں جانتا، مگر وہ تمام دوسرے لوگوں کی ماؤں اور بہنوں کو تھر تھراتے اور ناچتے گاتے دیکھنا بہت پسند کرتے ہیں۔

حیا جس چیز کا نام ہے ان کے گھروں میں تو شاید موروثی طور پر کچھ نہ کچھ ہو، مگر ان کے ذہنوں سے کہیں دور بھٹک چکی ہے۔

یہ وہ لوگ ہیں جو گناہ میں لذت محسوس کرتے ہیں۔بات تو تلخ ہے، مگر سچ ہے کہ انہیں احساس ہی نہیں کہ وہ چیز جس کو وہ اپنے گھروں سے دور جانتے ہوئے اس کے پیچھے بھا گتے ہیں وہ کسی نہ کسی شکل میں دیمک کی طرح ان کے گھروں میں گھس کر ہر چیز کو چاٹ جائے گی۔

مزید : رائے /کالم