اُردو مزاح نگاری کا ایک باب ختم

اُردو مزاح نگاری کا ایک باب ختم

  

اُردو مزاح نگاری کے قافلہ سالاروں میں نمایاں نام مشتاق احمد یوسفی 96سال کی عمر میں مختصر علالت کے بعد اس جہان فانی سے کوچ کرگئے۔ انہیں نمونیے کی شکایت پر ہسپتال داخل کرایا گیا، بدھ کی صبح ان کا انتقال ہوگیا۔ مزاحیہ نثرنگاری کے حوالے سے انہیں وطن عزیز کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر بھی شہرت حاصل ہوئی۔ اپنے منفرد اسلوب سے مشتاق احمد یوسفی نے مزاح نگاری کو نئی جہت دی۔ اُن کی مشہور کتابوں میں چراغ تلے، آبِ گم، زرگزشت، خاکم بدہن اور شامِ شہریاراں شامل ہیں۔ حکومت پاکستان کی طرف سے اُن کی منفرد ادبی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے پہلے ستارۂ امتیاز اور پھر ہلال امتیاز کے اعزازات سے نوازا۔ صاحبِ طرز نثر نگار کے طور پر انہیں تحریروں میں منفرد انداز سے نئے نئے مضامین کے برجستہ اور برمحل استعمال میں کمال حاصل تھا۔ مزاحیہ ادب کے حوالے سے غیر معموی شہرت پائی۔ انہیں یہ کمال بھی حاصل تھا کہ وہ اپنے مخصوص اور منفرد انداز میں نثر پڑھا کرتے، خود بے حد سنجیدہ رہتے جبکہ سننے والوں کو ہنسا ہنسا کر بے حال کردیتے تھے۔مشتاق احمد یوسفی اعلیٰ تعلیم یافتہ تھے۔ وہ بینکنگ کے شعبے میں اعلیٰ عہدوں پر فائز رہے۔ اپنی مصروفیات کے باوجود لکھنے کے لئے وقت نکال لیا کرتے تھے۔انہوں نے شاعری بھی کی لیکن مزاحیہ نثر کے میدان میں بہت آگے نکل گئے اور بے حد نام کمایا، ان کی فنی مہارت کا اعتراف تقریباً سبھی نامور اور مشہور ادیبوں نے کیا اور برملا کہا گیا کہ ہم ’’عہد یوسفی‘‘ میں زندگی بسر کررہے ہیں، جناب مشتاق احمد یوسفی نے اپنی تحریروں میں تہذیب و ثقافت اور اعلیٰ درجے کی شائستگی کا ہمیشہ خیال رکھا، فقرے بازی اور بذلہ سنجی سے کام لیتے ہوئے شگفتگی اور معنی خیزی سے بھرپور تحریریں ان کے معیاری فنِ تحریر کا ثبوت ہوا کرتی تھیں، تہذیبی اور ثقافتی رچاؤ جگہ جگہ نہایت خوبصورت انداز میں موجود رہتا، تنقیدی اور شعوری مضامین میں بھی انہوں نے مزاح کا عنصر نہایت کامیابی اور ہنر مندی سے شامل رکھا، ان کے فنی محاسن ہمیشہ عروج پر دکھائی دیا کرتے تھے، ان کے انتقال سے بلا شبہ اردو ادب میں طنز و مزاح کا ایک خوبصورت اور یادگار دور ختم ہوگیا، مشتاق احمد یوسفی اب ہم میں نہیں رہے لیکن ان کی مزاحیہ نثر نگاری کے خوبصورت نادر اور منفرد نمونے تادیر ادب و ثقافت کی دنیا میں جگمگاتے رہیں گے، ان کی زندگی میں کہا جاتا تھا کہ نئی جہت کے ساتھ منفرد نثر نگاری ان پر ختم ہے، ایسے لگتا ہے کہ موجودہ صدی میں شاید ہی ان کا خلاء پورا کیا جا سکے کہ ندرت خیال اور برجستگی کے وہ امام قرار دیئے جاتے تھے، مزاحیہ نثر نگاری کا سنہرا دور ختم ہونے کے بعد تجدید کا امکان بہت کم ہے، مشتاق احمد یوسفی کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ انہیں جوار رحمت میں جگہ دے کر لواحقین اور پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے۔(آمین)

مزید :

رائے -اداریہ -