یہ دولت مند سیاست دان

یہ دولت مند سیاست دان
یہ دولت مند سیاست دان

  

واہ کیا بات ہے پاکستان کے سیاست دانوں اور سیاست کی۔ غریب عوام کے بیدار مغز دولت مند رہنماء۔ پاکستان میں عوام کی بہت بھاری اکثریت غربت کے بین الاقوامی معنی اور تصور میں آتی ہے۔ جن کے پاس دوسرے روز کی روٹی اور پہلے روز کے علاج کا خرچہ بھی موجود نہیں ہوتا۔ ان کی غربت یا تنگ دستی کے پیش نظر انہیں قریبی لوگ بھی قرضہ دینے پر رضا مند نہیں ہوتے ہیں۔ بہت محتاط اندازے کے مطابق پاکستان کی آبادی کے 98 فیصد عوام خوشحال نہیں کہے جا سکتے ہیں۔ یہی حال کم و بیش ووٹروں کا ہے۔

جو لوگ ایک لاکھ روپے ماہانہ کی آمدنی رکھتے ہیں ان کا شمار دو فیصد میں کیا جانا چاہئے۔ اب دیکھ لیں کہ اس صورت حال میں لاہور ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے فیصلوں کی روشنی میں لاچار ہوکر الیکشن کمیشن نے جس حلف نامہ کو رائج کیا ، اس میں امیدواروں کو اپنے اثاثے بھی ظاہر کرنے ہیں۔

الیکشن کمیشن نے تو سابقہ قومی اسمبلی کی انتخابی اصلاحات کمیٹی کی سفارش کو آنکھ بند کر کے منظور کر لیا تھا اور امیدواروں کے بارے میں مکمل معلومات کے حصول کے عمل کو ہی روک دیا تھا۔

در اصل الیکشن کمیشن بھی تو اراکین اسمبلی اور ملک کے اقتدار پر قابض ٹولوں کی طرح پاکستان میں اسٹیٹس کو ( جوں کی توں صورت حال )کا حامی ہے وہ کیوں چاہے گا کہ لوگوں کو اپنے امیدواروں کے بارے میں حقیقت سے آگاہی حاصل ہو۔

بلاول زرداری، آصف علی زرداری اور مریم نواز کے جو اثاثہ جات ان کے اپنے حلف نامے کے مطابق سامنے آئے ہیں، وہ چشم کشا ہیں۔ غریب عوام کی نمائندگی کا دم بھرنے والے رہنماؤں کے اثاثہ دیکھ کر افسوس ناک حیرانی ہوتی ہے ۔

جو ملک عالمی قرضوں میں جکڑا ہوا ہو، اس کے سیاست دانوں کے پاس دولت کے انبار ہوں ، یہ نہایت افسوس ناک پہلو ہے جو پاکستانی جمہوریت اور سیاست کا ہی خاصہ ہے۔ کوئی ان سیاست دانوں سے سوال تو کرے کہ دنیا بھر میں جو بھی انقلاب آئے ہیں، وہاں کے دولت مند افراد اپنی دولت سے ہی نہیں ، اپنی جانوں سے بھی محروم ہوئے ہیں۔

حالیہ واقعات جو مصر، لیبیا، یمن، عرا ق میں رونما ہوئے ان میں کیا ہوا تھا۔ افغانستان میں کیسے کیسے دولت مند افراد کوڑیوں کے محتاج ہو گئے۔ایران کے انقلاب میں تو دولت بھی گئی تھی اور جان کے خاتمے پر صرف ہونے والی آتشی گولیوں کی قیمت کی ادائیگی پر رشتہ دار لاشیں اٹھا سکے تھے۔ پاکستانی سیاست داں سبق حاصل کرنے پر آمادہ نہیں ہیں۔

دولت کے یہ انبار ان کے کام کیوں آنے لگے؟ ان لوگوں کی حالت تو یہ ہے کہ انہیں ہر حال میں اقتدار سے جڑا ہونے کی خواہش ہوتی ہے تاکہ یہ اپنی دولت میں مزید اضافہ کر سکیں۔ اپنے پیسوں سے تو پانی کی ایک سبیل اور نلکا لگانا بھی ان لوگوں کو مہنگا سودا لگتا ہے۔

بلاول زرداری نے اپنے جن اثاثوں کو ظاہر کیا ہے ان کی موجودہ مالیت کسی بھی لحاظ سے کھربوں سے کم نہیں ہو گی۔ سابق وزیراعظم نواز شریف کی ایک صاحبزادی مریم نواز نے اپنے جو اثاثے داخل کئے ہیں ، وہ بھی کھربوں میں ہیں۔

کروڑوں کی مالیت کے تحائف، زیورات، مختلف صنعتی اداروں میں حصص اور زرعی اراضی شامل ہیں۔ آصف زرداری کے اثاثوں کی صورت حال بھی ان کے مطابق کروڑوں میں ہے، حالانکہ ان اثاثوں کی بازار کی قیمت کے لحاظ سے مالیت کھربوں میں ہو گی۔اکثر سیاست دانوں اور نمائندگی کی خواہش رکھنے والوں کی صورت حال کسی طرح بھی مختلف نہیں ہے البتہ معدودے چند ضرور مثتثنی ہیں۔

عمران خان کے اثاثوں اور ٹیکس گوشواروں کی تفصیلات بھی عام ہوئی ہیں ۔ دستاویزات کے مطابق عمران خان نے اپنی آمدن پر صرف 1 لاکھ 3 ہزار 763 روپے ٹیکس ادا کیا۔ وہ 168 ایکڑزرعی زمین کے مالک ہیں،پاکستان میں مختلف مقامات پر ان کی جائیدادیں بھی ہیں۔

نگران وزیراعظم ناصرالملک کے نام پر جو اثاثے موجود ہیں ، مختلف بینکوں میں 10 کروڑ25 لاکھ سے زائد کی رقم موجود ہے۔ ان کے اہل خانہ کے نام پر بیرون ملک بھی جائیدادیں ہیں۔

میں ان کے پیسوں کے بارے میں کوئی تبصرہ کرنا نہیں چاہتا ہوں ۔( پاکستان کے لئے یہ ہی زہر قاتل ہے کہ اس ملک کے لوگوں کی جائیدادیں بیرون ملک ہیں جس کی وجہ سے ان کی پاکستان کے مقابلے میں ان ممالک سے زیادہ ہی محبت ہوتی ہے ) ۔

سپریم کورٹ یا حکومت کیوں نہیں قانون سازی کرتی کہ پاکستان میں سیاست میں حصہ لینے والوں اور ملازمت کرنے والوں کی بیرون ملک کوئی جائیدادیں اور اثاثہ نہیں ہوں گے۔ اسی صورت میں توقع کی جاسکتی ہے کہ ان کی حب الوطنی کے باعث پاکستان کو قرضوں سے نجات مل سکے گی۔ پاکستان کے یہ دولت مند لوگ ہی ملک کی تباہی کے اصل ذمہ دار ہیں ۔

الیکشن کمیشن نے تو بحالت مجبوری یہ اعلان کیا ہے کہ امیدواروں کی معلومات عام ہوں گی، کاغذات نامزدگی میں ظاہر کئے گئے اثاثوں اور حلف ناموں کی تفصیلات الیکشن کمیشن کی طرف سے اپنی سرکاری ویب سائٹ پر رکھا جائے گا۔

دیگر لوگوں کی طرح راقم نے بھی اپنے ایک تازہ کالم میں احتجاج کیا تھا کہ یہ معلومات کیوں نہیں عام کی جائیں ۔ کیا یہ شفافیت اور احتساب کو یقینی بنانے کا تقاضہ نہیں ہے۔

سوشل میڈیا کا کمال ہے کہ اس نے لوگوں کو زبان دے دی ہے۔ سابق صدر پاکستان فاروق لغاری کے بیٹے ، ڈیرہ غازی خان سے ن لیگی امیدوار سردار جمال خان لغاری کو اپنے حلقے میں دورے کے دوران جس طرح کی مختلف صورتِ حال کا سامنا کرنا پڑا ، اس کی وجہ سے سردار صاحب کے دانتوں میں پسینہ تو آہی گیا ہو گا۔ نوجوانوں نے جمال لغاری کی گاڑی رکواکر شکوے گلے کئے اور کہا کہ پانچ سال بعد آپ کا نورانی چہرہ دیکھ رہے ہیں۔

اس موقع پر ن لیگی امیدوار نے کہا کہ وہ ووٹ لینے نہیں تعزیت کرنے آئے ہیں جس پر لوگ بولے برسوں پہلے مرنے والوں کی تعزیت اب کیوں یاد آئی ؟جمال لغاری نے ویڈیو بنانے والے سے کہا کہ وہ یہ بند کردیں تاکہ آرام سے بات ہوسکے اور ساتھ ہی یہ بھی کہہ دیا کہ ایک ووٹ کی پرچی پر اتنا ناز؟ نوجوان نے کہا کہ کچھ گلے شکوے کرنا ہے صرف پانچ منٹ مانگ رہے ہیں جس پر جمال لغاری نے کہا کہ بات میں بعد میں کروں گا ووٹ لینے نہیں افسوس کرنے آیا ہوں۔نوجوان نے ن لیگی رہنما سے استفسار کیا کہ پانچ سال پہلے لوگ مرے تھے اور اب افسوس کرنے آئے ہیں؟ یہ ہے سوشل میڈیا کا اثر۔

اس تماش گاہ میں یہ خبریں بھی موجود ہیں۔ پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر انتہائی گراوٹ کا شکار قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ سال ڈیڑھ سے مزید بڑھانامشکل ہو گا۔ دنیا بھر میں معیشت کا جائزہ لینے والے ادارے موڈیر نے پاکستان کی معاشی درجہ بندی کو انتہائی منفی قرار دیتے ہوئے آئی ایم ایف سے مزید قرضے لینے کی تجویز دے دی ہے۔

کسی ملک کی معیشت جب تنزلی کا شکار ہو تو اس کے پہلے متاثریں غریب عوام ہی ہوا کرتے ہیں۔ پاکستان کیوں کر محفوظ رہ سکتا ہے۔ ماہراقتصادیات ڈاکٹراشفاق نے کہاہے کہ حالات خراب کئے جا رہے ہیں تاکہ پاکستان کو آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑے۔ ملک میں قرضے ادا کرنے کیلئے پیسے نہیں ہیں،ستمبر تک پاکستان کی معیشت مزید زوال پذیر ہو جائے گی۔

ان کا کہنا ہے کہ کمزور معیشت کے ساتھ کیا ہوتا ہے اس لئے روس کی معیشت کی مثا ل کو سامنے رکھا جائے۔ اس وقت ضرورت اس بات کی ہے کہ ڈالر کی قیمت میں کمی کی کوشش کی جائے۔

انہوں نے کہاکہ دیکھنا یہ ہے کہ پاکستان کے عوام کے ساتھ مستقبل میں کیا ہوگا۔ یہ بات ذہن میں آتی ہے کہ ملک کی بقا کے لئے سیاست اہمیت رکھتی ہے یا معیشت؟

مزید :

رائے -کالم -