جمہوریت بہترین انتقام ہے، بے نظیر بھٹو!

جمہوریت بہترین انتقام ہے، بے نظیر بھٹو!
جمہوریت بہترین انتقام ہے، بے نظیر بھٹو!

  

پاکستان کی سیاسی تاریخ میں پیپلزپارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو اور ان کی صاحبزادی محترمہ بے نظیر بھٹو کی شخصیات بھی ایسی ہیں جو اب تک سیاسی تاریخ پر اثر انداز ہو رہی ہیں، یہ کتنے غور اور مشاہدے کی بات ہے کہ آج جب سیاسی محاذ آرائی زوروں پر ہے، بانئ پیپلزپارٹی کی جماعت اور ان دونوں باپ بیٹی کی صلاحیتوں اور سیاست کا بھی ذکر ہوتا ہے،بلکہ اب تو بے نظیر بھٹو کا ذکر ایسے حضرات بھی مثبت انداز میں کرتے ہیں جن کے زمانۂ سیاست میں ان(محترمہ) کی کردار کشی بھی ہوتی رہی۔

بہرحال محترمہ کی شخصیت کرشمہ ساز تھی اور ان کی شہادت نے ان کو مزید امر کر دیا ہے،ان کی جمہوریت کے لئے کاوش اور جدوجہد کو بھی سراہا جاتا ہے،بلکہ اب تو بطور ’’سٹیٹس ویمن‘‘ ان کے کردار کا بھی ذکر ہوتا ہے، کہیں کہیں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ بی بی زندہ ہوتیں تو؟

محترمہ بے نظیر بھٹو کی زندگی اور ان کی جدوجہد کے ساتھ شہادت ایک ایسا المیہ ہے جو بہت ہی افسوسناک ہے، آج سیاسی جدوجہد میں قربانیوں کا ذکر کیا جاتا ہے ان میں قید و بند اور پریشانیوں کا بھی ذکر ہوتا ہے،لیکن یہ بات بھی پاکستانی سیاست کی تاریخ سے ثابت ہے کہ جس قدر مصائب اور مشکلات کا سامنا بے نظیر بھٹو اور اُن کی والدہ نے کیا شاید ہی کسی اور سیاست دان نے کیا ہو۔

پاکستان پیپلزپارٹی آج محترمہ بے نظیر بھٹو کی 65ویں سالگرہ منا رہی ہے۔ آج وہ زندہ ہوتیں تو اس عمر کو پہنچ چکی ہوتیں،لیکن ان کو تو 27دسمبر 2007ء کو برسر بازار اس تاریخی باغ کے باہر شہید کیا گیا جہاں پاکستان کے پہلے وزیراعظم کو گولی مار کر شہید کیا گیا اور وہ پاکستانی سیاسی تاریخ کے پہلے شہید تھے، بے نظیر بھٹو جب خود ساختہ جلاوطنی کے بعد اکتوبر2007ء میں واپس پاکستان آئیں تو جہاں ان کا استقبال بے مثل تھا وہاں اس استقبالیہ جلوس میں خود کش دھماکہ ہوا اور سینکڑوں جیالے عدم آباد کو روانہ ہو گئے تھے، اس کے بعد ان کو بہت کہا گیا کہ وہ جلسے جلوسوں سے گریز کریں،لیکن انہوں نے پرواہ نہ کی اور ’’جمہوریت بہترین انتقام ہے‘‘ کا نعرہ لے کر میدان میں رہیں، ایجنسیوں اور پارٹی رہنماؤں نے بھی ان کو لیاقت باغ کے جلسہ میں جانے سے روکنے کی بھرپور کوشش کی، لیکن وہ یہ کہہ کر جلسہ گاہ آ گئیں ’’ موت کا ایک دن معین ہے‘‘ اور یوں وہی دن ان کا آخری دن ثابت ہوا۔

محترمہ بے نظیر بھٹو کی زندگی کے بھی بہت سے پہلو ہیں، ہم نے ان کے والد کے سوا ان کے ساتھ بھی صحافیانہ فرائض سرانجام دیئے اور بہت سے واقعات کے عینی شاہد بھی ہیں،لیکن آج کل سیاست میں جیل، قید و بند اور سختیوں کا زیادہ ذکر ہوتا ہے اِس لئے ہم نے محترمہ کی اپنی آپ بیتی ’’دخترمشرق‘‘ سے استفادہ کی کوشش کی کہ کچھ واقعات کا اعادہ ہو سکے،محترمہ بے نظیر بھٹو نے جہاں ایک بڑے جاگیردار گھرانے میں جنم لیا اور بہت ناز و نعم کی زندگی گزاری، وہاں اُن کے والد کی ملکی معاملات میں گہری وابستگی اور عمل کی وجہ سے بہت سخت اور بدترین دن بھی دیکھے۔

بے نظیر بھٹو کو خود ذوالفقار علی بھٹو نے سیاسی تربیت دی تھی اور والد کے بعد انہوں نے اس کا حق بھی ادا کیا اور ثابت کیا کہ ان پر درست اعتماد کیا گیا تھا۔

بے نظیر بھٹو نے اپنی کتاب میں 4-5 جولائی 1977ء کا بھی ذکر کیا اور پھر ذوالفقار علی بھٹو کی گرفتاری ، مقدمہ قتل، ان کی سزا اور اس پر عمل درآمد کا بھی تفصیل سے جائزہ لیا۔

اپریل1979ء سے قبل ہی دونوں ماں بیٹی کو سہالہ میں نظر بند کر دیا گیا اور ان کے بیرونی دُنیا سے رابطے قطعی منقطع کر دیئے گئے تھے اور اسی نظر بندی کے دوران ہی آخری ملاقات اور پھر بھٹو کی پھانسی کا سانحہ پیش آیا، اور ماں بیٹی کو بھٹو کی میت اور ان کا چہرہ بھی دیکھنے نہ دیا گیا، خود نوشت کے مطابق اس کے بعد مصائب کا ایک نا ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوا، سہالہ سے کراچی پہنچا کر نظر بندی بظاہر ختم کی گئی، لیکن نگرانی کا سلسلہ جاری رہا۔1979ء میں جنرل ضیاء الحق نے بلدیاتی انتخابات کرائے تو پیپلزپارٹی ان غیر جماعتی انتخابات میں ’’عوام دوست‘‘ جیسے نعرہ کے ساتھ جیت گئی۔ محترمہ کے مطابق جنرل ضیاء الحق نے1977ء کے بعد ایک مرتبہ پھر عام انتخابات کا اعلان کیا تھا،جو اکتوبر 79ء میں ہونا تھے۔

ے نظیر بھٹو کے مطابق ان انتخابات میں حصہ لینے کے حوالے سے جنرل ضیاء نے انتخابی قوانین میں بھی تبدیلی کی،پارٹیوں کی رجسٹریشن کا حکم جاری ہوا،پارٹی نے رجسٹریشن نہ کرانے کا فیصلہ کیا، کہ اس طرح حکومت تسلیم کرنا شمار کیا جاتا، چنانچہ پارٹی کے بڑوں نے 70کلفٹن میں ایک اجلاس بُلا کر بحث کی۔ یہاں بائیکاٹ، بائیکاٹ کی آواز آئی۔

محترمہ کے مطابق انہوں نے بھرپور مخالفت کی اور کہا کہ تمام تر شرائط اور سختیوں کے باوجود پیپلزپارٹی جیتے گی، چنانچہ اصرار پر فیصلہ ہو گیا تاہم جنرل ضیاء نے یہ انتخابات 16اکتوبر 1979ء کو منسوخ کر دیئے۔

محترمہ اور ان کی والدہ کو حراست میں لے لیا گیا۔پھر ایک طویل سلسلہ قید کا شروع ہو گیا،ان کو کئی ماہ تک المرتضیٰ لاڑکانہ میں نظر بند رکھا گیا جہاں کسی سے ملاقات اور فون تک کی اجازت نہیں تھی، یہاں سے بیگم نصرت بھٹو کو کراچی جیل اور بے نظیر کو سکھر جیل میں قیدِ تنہائی برداشت کرنا پڑی۔اس کے بعد ان کو پھر کراچی جیل کی کوٹھڑی میں رہنا پڑا۔

یوں یہ سب تواتر سے ہوا تاوقتیکہ1988ء کا وہ دن نہ آ گیا جب طیارے کا حادثہ ہوا اس سے پہلے ان کو جلاوطنی پر مجبور کیا گیا اور وہ 1986ء میں واپس آئی تھیں۔لاہور میں ان کا استقبال بھی تاریخ میں رقم ہے، کہ یہ بہت بڑی مثال ہے۔

بہرحال یہ اس طرح ممکن ہوا کہ جنرل ضیاء الحق کے ہوتے ہوئے بھی جمہوریت تھی، وفاق میں محمد خان جونیجو وزیراعظم اور پنجاب میں محمد نواز شریف وزیراعلیٰ تھے، کالم میں گنجائش نہیں، واقعات تو ختم ہونے کا نام نہیں لیتے، بے نظیر کہتی تھیں،’’جمہوریت بہترین انتقام ہے‘‘۔

مزید :

رائے -کالم -