مشتاق احمد یوسفی بھی رخصت ہوئے!

مشتاق احمد یوسفی بھی رخصت ہوئے!
مشتاق احمد یوسفی بھی رخصت ہوئے!

  

مشتاق احمد یوسفی ایک بھرپور زندگی گزارنے کے بعد جہانِ فانی سے رخصت ہو گئے۔ ان کی وفات پر جس طرح ہر طبقۂ فکر میں دکھ کا اظہار کیا گیا ہے، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ انہوں نے اپنی تحریروں کے ذریعے ہر خاص و عام کو متاثر کیا۔ وہ راجستھان میں پیدا ہوئے تھے۔

راجستھان آج بھی بھارت کا پسماندہ علاقہ سمجھا جاتا ہے، لیکن مشتاق احمد یوسفی وہاں سے اُٹھ کر بھارت کی بڑی یونیورسٹیوں میں اعلیٰ تعلیم کے لئے گئے۔

انہوں نے آگرہ یونیورسٹی سے فلسفے میں ایم اے، علی گڑھ یونیورسٹی سے ایل ایل بی کیا تقسیم ہند کے بعد وہ کراچی آ گئے اور بینک کی ملازمت سے اپنی عملی زندگی کا آغاز کیا۔

جب ان کی عمر 38 سال تھی تو ان کی پہلی کتاب ’’چراغ تلے‘‘ شائع ہوئی۔ دیکھتے ہی دیکھتے اس کتاب نے اردو کے نثری ادب میں ایک ارتعاش پیدا کر دیا۔ مزاح کے پردے میں معاشرتی برائیوں کی نشاندہی اور شستہ و نپے تلے جملوں کی وجہ سے قاری کو ایک نئے ذائقے سے متعارف ہونے کا موقع ملا۔ مشتاق احمد یوسفی ایک کامیاب بینکار تھے۔ وہ یونائیٹڈ بینک کے صدر اور پاکستان بنکنگ کونسل کے چیئرمین جیسے بڑے عہدوں پر فائز رہے، لیکن اس دوران انہوں نے کبھی بھی قلم و کاغذ سے اپنا رشتہ ٹوٹنے نہ دیا۔

انہوں نے شاید قدرت اللہ شہاب کی یہ بات پلے باندھ رکھی تھی کہ دنیاوی مناصب سب وقت کے ساتھ ساتھ ختم ہو جاتے ہیں، لیکن جو قلم و قرطاس کا رشتہ ہے وہ مرتے دم تک انسان کے ساتھ جاتا ہے اور وہی تخلیق کار کو زندہ رکھتاہے، اس کے عہدے صرف چند روزہ ہوتے ہیں۔ عموماً شاعروں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ عوامی مقبولیت حاصل کر لیتے ہیں ،کیونکہ ان کے اشعار زبانِ زد عام ہو جاتے ہیں، لیکن مشتاق احمد یوسفی کے معاملے میں قصہ الٹ ہے۔

ان کے جملے ضرب المثل بنے اور لوگ اپنی روزمرہ گفتگو میں ان کا حوالہ دیتے رہے۔ ممتاز نقاد اور عاشقِ یوسفی پروفیسر نعیم اشرف کہتے ہیں کہ یوسفی نے اپنی تحریروں سے پاکستانی معاشرے پر گہرے اثرات مرتب کئے۔ انہوں نے صرف مزاح ہی کو اپنا ہدف نہیں بنایا، بلکہ تاریخ و تہذیب کے تناظر میں وہ بصیرت افروز گفتگو کی جو ہمارے اندر جنم لینے والی تمام کثافتوں کو ایک طرف بے نقاب کرتی ہے تو دوسری طرف اصلاح کا ذریعہ بھی بنتی ہے۔

میں سمجھتا ہوں مشتاق احمد یوسفی کو صرف مزاح نگار کہنا بہت بڑی زیادتی ہو گی۔ طنزو مزاح ایک مقبول صنف ہے، لیکن مشتاق احمد یوسفی کی تحریریں اس سے بہت مختلف ہیں۔ وہ بیک وقت ہنسانے اور رلانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان کا مقصد یہ نہیں ہوتا کہ وہ کوئی ایسا چٹکلا چھوڑیں جو قاری کو ایک بڑا قہقہہ لگانے پر مجبور کر دے۔

وہ کامیڈین نہیں بلکہ معاشرتی زندگی کے ایک ڈاکٹر نظر آتے ہیں۔ وہ ہمارے رویوں، عادتوں اور دل و دماغ میں آ جانے والی آلائشوں کو نکال باہر کرنے کا ہنر جانتے ہیں، وہ ہمیں ہنسنے پر نہیں، بلکہ زہر خند ہنسی ہنسنے پر مجبور کرتے ہیں۔ ان کا ایک ایک جملہ نپا تلا اور مقصدیت کا حامل ہوتا ہے۔ وہ فقرہ ضائع نہیں کرتے بلکہ ہر لفظ کو اس کے مقام پر رکھ کر لکھتے ہیں۔

ان کے جملوں کی کاٹ کچھ دیر بعد چبھتی ہوئی محسوس ہوتی ہے اور پھر دائمی اثر چھوڑ جاتی ہے۔ مثلاً ان کا یہ فقرہ دیکھئے: ’’ہمارے حکمران، انتقالِ اقتدار کو اپنا دائمی انتقال سمجھتے ہیں‘‘۔

اس ایک جملے میں ہماری سیاسی تاریخ، سیاسی رویوں اور سیاست دانوں کی سوچ کو آشکار کر دیا گیا ہے۔ یہ بات کوئی اور کرتا تو ہرگز اس انداز مں نہ کر سکتا، مگر یوسفی ایک ایسا نشتر چلاتے ہیں جو تکلیف بھی دیتا ہے اور راحت بھی پہنچاتا ہے۔

مشتاق احمد یوسفی کی نثر نے ارتقاء کا سفر بڑی خوبی سے طے کیا ہے۔ ’’چراغ تلے‘‘ کے بعد ان کی ہر نئی کتاب اس ارتقائی عمل کا پتہ دیتی ہے۔

’’چراغ تلے‘‘ میں جہاں وہ خالصتاً مزاح پر مائل نظر آتے ہیں تو خاکم بدہن، زرگزشت، آب گم اور شام شہریاراں۔۔۔ میں وہ تہذیبی، تاریخی اور سماجی تناظر میں زندگی کے راز سمجھاتے دکھائی دیتے ہیں۔

ان کی تحریروں میں تاریخ کا گہرا شعور نظر آتا ہے، وہ پھکٹر پن کا تو کبھی بھی شکار نہیں ہوئے، لیکن ان کے مزاح میں بھی ایک تہذیبی رچاؤ ہمہ وقت موجود رہا ہے۔

یہ کہنا مناسب ہوگا کہ انہوں نے سنجیدہ موضوعات کو بھی شگفتہ پیرائے میں بیان کرنے کا اسلوب ایجاد کیا انہوں نے زندگی کا کوئی شعبہ نہیں چھوڑا جس پر طبع آزمائی نہ کی ہو، ان کی تحریروں میں ہر نوع کا کردار نظر آتا ہے اور اس کردار کے ذریعے وہ زندگی کی تلخ سچائیوں کو بھی میٹھے انداز میں آشکار کر دیتے ہیں۔

مشتاق احمد یوسفی کی قادر الکلامی، اسلوب، لب و لہجے اور نستعلیقی انداز کی کوئی پیروی نہیں کر سکا۔ کہا یہ جاتا ہے کہ انہوں نے راجستھانی اردو کی آبیاری کی اور اس خوبصورتی سے کی کہ یو پی، سی پی والے بھی پیچھے رہ گئے۔

اُن کے ہاں لفظوں کا جو شکوہ نظر آتا ہے وہ ان کے ایک خاص پس منظر کی نشاندہی کرتا ہے۔ انہوں نے شعوری طور پر مروجہ اندازِ تحریر و اسلوب سے ہٹ کر راستہ اختیار کیا، ان کا استعارہ سب سے مختلف ہے، ان کی باتیں بین السطور ایک ایسی کاٹ رکھتی ہیں، جسے صاحبِ فکر ہی سمجھ سکتا ہے ان کی اردو اس لئے بہت نکھری نکھری، تر و تازہ اور پُر تاثر نظر آتی ہے کہ وہ لفظوں کی جگالی نہیں کرتے، بلکہ ان کے بطن میں اتر کر بامعنی بنا دیتے ہیں۔

یہ کہنا غلط نہیں کہ مشتاق احمد یوسفی نے اردو کی شگفتہ نثر کو اتنے بلند مقام پر پہنچا دیا ہے کہ اب ان سے بہتر لکھنا ایک کرشمہ ہی نظر آتا ہے۔ یہ جو کہا جاتا ہے کہ ہم یوسفی کے عہد میں زندہ ہیں، تو یہ عین سچ ہے۔ ایک لکھاری جب انسانوں کی زندگی میں ایک ناگزیر حوالے کے طور پر داخل ہو جائے تو اسے زندگی سے خارج کیسے کیا جا سکتا ہے۔

ایک ایسے زمانے میں، جب ہمارے پاس بات کہنے کا سلیقہ بھی نہیں رہا اور نہ ہی برداشت کا عنصر باقی رہ گیا ہے، مشتاق احمد یوسفی ایک بہت بڑا حوالہ ہیں، جن سے ہم سیکھ سکتے ہیں کہ بات کیسے کی جاتی ہے اور سخت سے سخت جملے کو بھی کیسے قابل قبول اور پر اثر بنایا جا سکتا ہے۔ وہ خود کہتے ہیں: ’’لفظوں کی جنگ میں فتح کسی کی بھی ہو، شہید ہمیشہ سچائی ہوتی ہے‘‘۔۔۔ سو اصل کام یہ ہے کہ سچائی کو نہ مرنے دیا جائے۔ جو لوگ مزاح کے نام پر مضحکہ اڑاتے ہیں، دوسرے کی شخصیت کو نقصان پہنچاتے ہیں، وہ یوسفی کے قبیلے سے نہیں ہو سکتے۔

یہ کہنے کی بات نہیں، بلکہ مسلمہ حقیقت ہے کہ اس وقت اردو ادب کے منظر نامے پر کوئی دوسرا یوسفی نظر نہیں آتا، جو تہذیبی شعور مشتاق احمد یوسفی کی نثر میں فراواں نظر آتا ہے وہ کسی دوسرے لکھنے والے کے پاس موجود نہیں، مَیں تو یہ تک کہنے کو تیار ہوں کہ مشتاق احمد یوسفی کی شخصیت میں بیک وقت ایک فلسفی، ایک نکتہ ور، ایک تاریخ دان، ایک ماہر نفسیات، ایک سماجی مفکر اور ایک انسان دوست موجود تھا۔ ان سب اوصاف کو انہوں نے اس طرح اپنی تحریروں کے لئے استعمال کیا کہ وہ سماجی علوم کا گلدستہ بن گئیں، اس پر مستزاد ان کا شاندار انداز تحریر اور شبنم سے دھلی زبان، یہ سب کچھ کہاں ایک تخلیق کار کے ہاں جمع ہوتا ہے یہ تو مشتاق احمد یوسفی کا نصیب تھا جسے انہوں نے اپنی محنت و لگن سے امر کر دیا ہے۔

مشتاق احمد یوسفی کی کئی ایسی باتیں ضرب المثل کا درجہ اختیار کر چکی ہیں جو انہوں نے اپنی تحریروں میں بیان کیں۔ سادہ پیرائے میں بیان کی گئی باتوں میں ایک ایسا گہرا سچ چھپا ہوتا ہے کہ پڑھنے والا عش عش کئے بغیر نہیں رہ سکتا۔

مثلاً ان کا یہ فقرہ دیکھئے: ’’پاکستان میں افواہوں کی سب سے بڑی خرابی یہ ہے کہ وہ اکثر سچ نکلتی ہیں‘‘۔۔۔ اب اس فقرے کو لے کر اگر آپ پاکستان کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو لگے گا جیسے اس سے بڑا سچ کوئی نہیں جو مشتاق احمد یوسفی نے بیان کیا ہے۔ ایک اور فقرہ ملاحظہ کیجئے: ’’یوں میرا دادا بڑا جلالی تھا اس نے چھ خون کئے اور چھ ہی جج کئے، پھر توبہ کر لی۔

کہتا تھا اب میں بوڑھا ہو گیا ہوں، اب مجھ سے بار بار جج نہیں ہوتا‘‘۔۔۔ اب یہ تلخ حقیقت دیکھئے کیسے آسانی سے بیان کی ہے: ’’کچھ لوگ اتنے مذہبی ہوتے ہیں کہ جوتا پسند کرنے کے لئے بھی مسجد کا رخ کرتے ہیں‘‘۔۔۔ ایک اور جگہ لکھتے ہیں: ’’اندرون لاہور کی بعض گلیاں اس قدر تنگ ہیں کہ اگر ایک طرف سے عورت آ رہی ہو اور دوسری جانب مرد، تو درمیان میں صرف نکاح کی گنجائش ہی بچتی ہے‘‘۔۔۔ اور اب آخر میں مشتاق احمد یوسفی کی وہ بات جس پر وہ خود بھی ساری زندگی عمل کرتے رہے: ’’الفاظ سے بات سمجھ میں آتی ہے، لہجے سے دل میں اتر جاتی ہے، جادو الفاظ میں نہیں لہجے میں ہوتا ہے‘‘۔۔۔ ہم عہدِ مشتاق یوسفی میں زندہ تھے۔

انہوں نے نثر خوانی کی روایت کا آغاز کیا اور شاعروں سے زیادہ داد پائی، انہوں نے مزاح کو پھکڑپن سے نکال کر ایک تہذیبی صنف بنا دیا۔ ان کی وفات واقعی اردو ادب کا ایک ناقابل تلافی نقصان ہے۔ بہر حال جب تک اردو ہے، وہ زندہ رہیں گے اور ان کی زندہ تحریریں روشنی اور شگفتگی کے اسباب فراہم کرتی رہیں گی۔

مزید :

رائے -کالم -