صنعتوں کی بقا کیلئے کالاباغ ڈیم کی تعمیر ضروری ہے‘ اپٹپما

صنعتوں کی بقا کیلئے کالاباغ ڈیم کی تعمیر ضروری ہے‘ اپٹپما

  

فیصل آباد(بیورورپورٹ ) پنجاب کی ٹیکسٹائل انڈسٹری کی بقاء کے لئے انرجی کا سٹ میں نمایا کمی ناگزیر ہے جس کے لئے طویل عرصہ سے رکے ہوئے ہائیڈرل پراجیکٹ کالا باغ ڈیم کی جلد تعمیر نہایت ضروری ہے ۔ کالا باغ ڈیم پاکستان کی معاشی ترقی کے لئے تریاق کی اہمیت رکھتا ہے کیونکہ کالا باغ ڈیم سے پیدا ہونے والی بجلی کی لاگت تقریباً 1.55 روپے ہے اور اس ڈیم کی مجموعی پیداوار ی صلاحیت 36000 میگا واٹ ہے ۔کالا باغ ڈیم سے پیدا ہونے والی بجلی کے انڈسٹریل استعمال سے ٹیکسٹائل مصنوعات کی پیداواری لاگت میں بھی کمی آئے گی جس سے پاکستان کی ٹیکسٹائل مصنوعات کو عالمی منڈی میں انڈیا اور بنگلہ دیش جیسے ممالک کی نسبت سستے داموں بیچا جا سکے گا اس سے پاکستان کی ٹیکسٹائل مصنوعات بیچنے کے لئے عالمی منڈی میں کھویا ہؤامقام واپس پاکستان کو مل جائے گا اور پاکستان GSP پلس کے ٹارگٹس کو بھی حاصل کر کے نہ صرف ٹیکسٹائل مصنوعات کی ایکسپورٹ میں اضافہ کر پائے گا بلکہ پاکستان کو معاشی استحکام بھی حاصل ہو گا ۔ اِن خیالات کا اظہار شیخ خالد حبیب چیئرمین آل پاکستان ٹیکسٹائل پروسیسنگ ملز ایسوسی ایشن ’’اپٹپما‘‘ فیصل آباد ریجن نے ویلیو ایڈڈ ٹیکسٹائل پروسیسنگ انڈسٹری کے جنرل باڈی اجلاس میں کیا ۔

انہوں نے کہا کہ اب بھی وقت ہے کہ ہم پاکستان کے ہر صوبے میں پانی کے بڑے بڑے ذخائر بنائیں جو کہ سارا سال نہ صرف پینے کے لئے بلکہ زرعی کاشت میں استعمال میں لا کر زرعی پیداوار میں بھی اضا فہ کیا جا سکے گا اس طرح پاکستان کے صحرا اور تھر کے علاقے بھی زرعی فصلو ں سے لہلہا سکتے ہیں ۔ انہوں نے مزید کہا کہ کالا باغ ڈیم کی تعمیر میں جو شخص بھی رکاوٹ کا باعث ہے وہ محب وطن نہیں ہے اور پاکستان ملک دشمن عناصر کے ہاتھوں میں کھیل رہا ہے ۔شیخ خالد حبیب نے مزید کہا کہ ہمیں انڈسٹریلائزیشن کو فروغ دینے کے لئے بجلی کی ہائیڈرل پیداوار میں بہت جلد اضافہ کرنا ہو گا جس کے لئے کالا باغ ڈیم ایک اہم سنگِ میل ہے ۔ اجلاس میں اپٹپما کے سینیئر وائس چیئرمین میاں آفتاب احمد، سابقہ چیئرمین شیخ محمد امجد اور شیخ محمد سعید نے بھی پاکستان کی ٹیکسٹائل انڈسٹری کی تنزلی کی اہم وجہ انرجی کاسٹ میں اضافہ قرار دیتے ہوئے انرجی کاسٹ میں نہایت کمی کی اپیل کی ہے جس کے لئے بجلی کی قیمت میں کمی کے لئے ہائیڈرل بجلی کی پیداوار میں کثیر اضافہ جلد کیا جائے اور پنجاب میں RLNG 1350/= روپے فی ایم ایم بی ٹی یو جبکہ کراچی میں گیس استعمال صرف 488/=روپے فی ایم ایم بی ٹی یو کے فرق سے پنجاب کی تباہ ہونے والی ٹیکسٹائل انڈسٹری کی بقاء کے لئے ملک بھرمیں RLNG اور گیس کی Weighted Average قیمت کو یکساں طور پر لاگو کر کے ملکی ٹیکسٹائل انڈسٹری کو قائم رکھا جا سکتا ہے۔

مزید :

کامرس -