’’کشمیریوں پر مظالم قابل مذمت ، حکومت عالمی برادری کو بھارت کا اصل چہرہ دکھائے ‘‘

’’کشمیریوں پر مظالم قابل مذمت ، حکومت عالمی برادری کو بھارت کا اصل چہرہ ...

  

لاہور (جنرل رپورٹر) مسئلہ کشمیر کسی گروہ یا جماعت کا نہیں بلکہ ایک قومی مسئلہ ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں گورنر راج کا نفاذ بھارتی حکومت کی طرف سے مقبوضہ وادی میں کشمیری عوام کے مقابلے میں پسپائی اور شکست تسلیم کرنے کے اعلان کے مترادف ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کی تشدد پسند حکومت نے کشمیری عوام کے جذبۂ حریت کو کچلنے کی خاطر وہاں گورنر راج نافذ کیا ۔ کشمیری عوام کی استقامت اور قربانیوں نے بھارت کے آرمی چیف کو بھی یہ کہنے پر مجبور کر دیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے مسائل کو عسکری انداز میں حل کرنے کی بجائے بات چیت کا راستہ اختیار کیا جائے۔ہم حکومت پاکستان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ بھارت کے ظالمانہ اقدامات کو ہر عالمی فورم پر اُٹھائے ۔اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن کی حالیہ رپورٹ کی روشنی میں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی کی طرف سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تحقیق کیلئے ایک انکوائری کمیشن کے قیام کی کوشش کی جائے ان خیالات کا اظہار مقررین نے ایوان کارکنان تحریک پاکستان ، لاہور میں منعقدہ فکری نشست بعنوان ’’مقبوضہ کشمیر میں گورنر راج ۔ بھارت کی ایک اور پسپائی‘‘کے دوران کیا۔ اس نشست کا اہتمام نظریۂ پاکستان ٹرسٹ نے تحریک پاکستان ورکرز ٹرسٹ کے اشتراک سے کیاتھا۔ نشست کی صدارت سابق چیف جسٹس وفاقی شرعی عدالت و چیئرمین تحریک پاکستان ورکرز ٹرسٹ چیف جسٹس(ر) میاں محبوب احمد نے کی جبکہ اس موقع پر تحریک پاکستان کے سرگرم کارکن اور وائس چیئرمین نظریۂ پاکستان ٹرسٹ پروفیسر ڈاکٹر رفیق احمد، چیف ایڈیٹر روزنامہ پاکستان مجیب الرحمن شامی، ڈپٹی ایڈیٹر روزنامہ نوائے وقت سعید آسی، گروپ ایگزیکٹو ایڈیٹر روزنامہ دنیا سلمان غنی ، دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل(ر) راحت لطیف، صدر نظریۂ پاکستان فورم آزاد کشمیر مولانا محمد شفیع جوش،کالم نگار ودانشور سلمان عابد، کشمیری رہنما غلام عباس میر، فاروق خان آزاد، پروفیسر محمد یوسف عرفان، حامد ولید سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے خواتین و حضرات بڑی تعداد میں موجود تھے۔شاہد کمال صدیقی نے تلاوتِ کلامِ پاک کی سعادت حاصل کی جبکہ الحاج اخترحسین قریشی نے بارگاہِ رسالت مآبؐ میں نذرانۂ عقیدت پیش کیا۔ نظامت کے فرائض نظریۂ پاکستان ٹرسٹ کے سیکرٹری شاہد رشید نے انجام دیے۔ تحریک پاکستان کے مخلص کارکن ‘سابق صدر اسلامی جمہوریہ پاکستان و چیئرمین نظریۂ پاکستان ٹرسٹ محمد رفیق تارڑ نے اپنے خصوصی پیغام میں کہا کہ بھارت کی طرف سے مقبوضہ کشمیر میں گورنر راج کے نفاذ کا فیصلہ پہلے سے طے شدہ ہے۔ دراصل مقبوضہ کشمیر میں تعینات7لاکھ سے زائد بھارتی فوج کا جبر و تشدد وہاں جاری آزادی کی لہر کو سرد کرنے میں بری طرح ناکام ہو چکا ہے۔ برہان وانی کی شہادت کے بعد اُٹھنے والی یہ لہر بھارتی فوج کے انسانیت سوز مظالم کے باوجودروز بروز توانا ہوتی جارہی ہے۔ ۔ اس صورتحال کے باعث خود بھارت کے اندر سے بھی مودی سرکار کی کشمیر پالیسی کو شدید تنقیدکا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اس پر مستزاد اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن کی طرف سے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے متعلق چند روز قبل جاری کردہ رپورٹ ہے جس نے برسہا برس سے خوابیدہ عالمی ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ گورنر راج کے اس اقدام کا مقصد اس کے سواکچھ نہیں کہ مقبوضہ کشمیر کے معاملات کو براہ راست نئی دہلی سے کنٹرول کیا جائے ۔ چیف جسٹس(ر) میاں محبوب احمد نے کہا کہ بھا رتی حکومت کے ظلم و ستم کے باوجود کشمیری مسلمانوں کا جذبۂ حریت روزبروز تقویت حاصل کررہا ہے۔ تحریک آزادئ کشمیر فیصلہ کن مرحلہ میں داخل ہو چکی ہے اور مجھے یقین ہے کہ کشمیر بہت جلد پاکستان کا حصہ بنے گا۔ پروفیسر ڈاکٹر رفیق احمد نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق حل کیا جائے ۔ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیریوں کو ان کا حق خودارادیت دیا جائے۔ مجیب الرحمن شامی نے کہا کہ پاکستان میں کشمیر کا مسئلہ کسی گروہ یا جماعت کا نہیں بلکہ ایک قومی مسئلہ ہے۔ قیام پاکستان سے لیکر آج تک مسئلہ کشمیر کوہر حکومت میں اولین ترجیح حاصل رہی ہے۔ہر حکومت نے اپنے اپنے انداز میں کشمیریوں اور ان کی جدوجہد آزادی کی حمایت کی ۔اس مسئلہ کو حل کرنے کیلئے مختلف تدابیر اختیار کی گئیں لیکن ابھی تک یہ تحریک کامیابی سے ہمکنار نہیں ہو سکی ۔ انہوں نے کہا پوری دنیا میں کوئی ایک بھی ایسا ملک نہیں جو کشمیر کو بھارت کا اٹوٹ انگ سمجھتا ہو ، ہر ایک اس کو متنازعہ علاقہ تصور کرتا ہے اور یہ ہماری بہت بڑی کامیابی ہے۔کشمیر کی اندرونی سیاست میں ایک طرف حریت قیادت ہے جنہوں نے ہمیشہ انتخابات کا بائیکاٹ کیا ہے، مگر جو جماعتیں الیکشن میں حصہ لیتی ہیں وہ بھی مسئلہ کشمیر کو مذکرات سے حل کرنے پر زور دیتی ہیں۔ مقبوضہ کشمیرمیں نام نہاد حکومت کے خاتمہ کے بعد وہاں گورنر راج نافذ کیا گیا ہے جس سے اب وہ براہ راست نئی دہلی کے کنٹرول میں چلا گیا ہے۔اس اقدام سے آئندہ آنیوالے دنوں میں وہاں بھارتی فوج کے مظالم میں شدت آنے کا امکان ہے اور اس کے نتیجہ میں تحریک آزادی میں بھی شدت آئے گی۔آج انڈیا سے بھی آوازیں اٹھ رہی ہیں کہ یہ مسئلہ مذاکرات سے حل کیا جائے۔کشمیری بھارت سے مکمل لا تعلقی کا اعلان کر رہے ہیں اور وہاں کوئی ایک جماعت بھی ایسی نہیں جو یہ کہے کہ ہم انڈیا کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں۔ جنگیں مسائل کا حل نہیں ہیں، ہمیں ڈپلومیٹک محاذ پر تیزی لاتے ہوئے کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کرنا اور ان کی تحریک کو آگے بڑھانا ہے۔انہوں نے کہا پاکستان میں موجود بعض طاقتیں آئندہ انتخابات میں اپنی مرضی کے نتائج حاصل کرنا چاہ رہی ہیں ، میں ان سے یہ کہنا چاہوں گا کہ وہ ہمارے اور کشمیریوں کے حال پر رحم کریں۔ایک مضبوط جمہوری حکومت کا قیام ہی کشمیریوں کی تحریک آزادی کیلئے معاون ثابت ہو گا۔ پاکستان میں ہر قیمت پر شفاف اور منصفانہ انتخابات منعقد کیے جائیں ، اگر ایسا نہ ہوا اور میڈیا کا گلہ دبا کر مرضی کے نتائج حاصل کرنے کی کوشش کی گئی تو ایسا کر نا کشمیرکی منزل کو بھی کھوٹی کرنے کے مترادف ہو گا۔مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے تمام سیاسی جماعتوں کو ایک پیج پر آنا چاہئے جبکہ آزاد کشمیر حکومت کو زیادہ سے زیادہ اختیارات دیے جائیں۔ سعید آسی نے کہا کہ اس وقت تحریک آزادئ کشمیر میں نوجوانوں کا جوش وجذبہ عروج پر ہے مگر افسوس کہ ہمارے ہاں حکومتی یا غیر حکومتی سطح پر ان کی بھرپور حمایت نہیں کی جا رہی ۔ نظریۂ پاکستان ٹرسٹ مبارکباد کا مستحق ہے کہ وہ کشمیریوں کی آواز کو ہر سطح پر بلند کر رہا ہے۔آج پوری دنیا یہ بات سمجھ چکی ہے کہ کشمیری اپنی آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں ۔ یہ بات یاد رکھیں کہ آزادی کی تحریکوں کو بزور طاقت نہیں دبایا جا سکتا ۔ میجر جنرل(ر) راحت لطیف نے کہا کہ تقسیم ہند سے لیکر آج تک کشمیریوں کا مقبول عام نعرہ ’’کشمیر بنے گا پاکستان‘‘ ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں گورنر راج لگا دیا گیا ہے اور اب وہاں گولیوں کی بجائے راکٹ چلنے کی خبریں آرہی ہیں۔ کشمیری گولیوں کا مقابلہ پتھروں سے کر رہے ہیں ۔ انڈین فوج پیلٹ گنوں کا استعمال کر کے کشمیریوں کو بینائی سے محروم کر رہی ہے۔مسئلہ کشمیر کو کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق حل کیا جائے۔سلمان عابد نے کہا بھارت کشمیریوں کے ساتھ جو ناروا سلوک کر رہا ہے اس کیخلاف بھارت کے سنجیدہ حلقوں میں شدید تشویش پائی جاتی ہے اور احتجاج بھی ہو رہا ہے۔انڈیا کی یونیورسٹیوں اور کالجوں میں کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کیلئے مظاہرے کیے جا رہے ہیں اور ان میں نہ صرف مسلمان بلکہ ہندو اوردیگر غیر مسلم بھی حصہ لے رہے ہیں۔ کشمیریوں کی نئی نسل نے تحریک آزادئ کشمیر کو جلا بخشی ہے ۔ مولانا محمد شفیع جوش نے کہا کہ علامہ محمد اقبالؒ کشمیریوں کے پشتیبان تھے۔ قائداعظم محمد علی جناحؒ آج بھی کشمیریوں کے بابائے قوم ہیں۔فاروق خان آزاد نے کہا کہ مجھے یقین ہے کہ بھارت اپنی انتہاپسندی کے بوجھ تلے دب کر خود ہی ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گا۔کشمیریوں کے حق خودارادیت کو دبانے کے تمام بھارتی حربے ناکام ہو چکے ہیں۔پروفیسر محمد یوسف عرفان نے کہا کہ مسئلہ کشمیر پاکستان کی موت وحیات کا مسئلہ ہے۔ اس خطہ میں یہودی لابی کام کر رہی ہے اور اگر مقبوضہ کشمیر کا پاکستان سے الحاق نہ ہوا تو منظر نامہ بڑا خطرناک ہو گا۔حامد ولید نے کہا کہ کشمیریوں پر ہونیوالے مظالم پر اقوام متحدہ کی رپورٹ پر ایک انکوائری کمیشن تشکیل دیا جائے۔شاہد رشید نے کہا کہ بھارتی فوج کشمیریوں پر مظالم کے پہاڑ توڑ رہی ہے لیکن کشمیریوں کے جذبات ماند نہیں پڑے ہیں۔ کشمیر کی فضائیں ’’پاکستان زندہ باد‘‘ اور ’’کشمیر بنے گا پاکستان‘‘ کے نعروں سے گونج رہی ہیں ۔اقوام متحدہ کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق نوے ہزار سے زائد کشمیر اپنی بینائی سے محروم اور لاکھوں کشمیری شہید ہو چکے ہیں ۔

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -