معروف ٹی وی اداکارہ نایاب خان زندگی اور موت کی کشمکش میں

معروف ٹی وی اداکارہ نایاب خان زندگی اور موت کی کشمکش میں
معروف ٹی وی اداکارہ نایاب خان زندگی اور موت کی کشمکش میں

  

لاہور(فلم رپورٹر)اسلام آباد ٹی وی کے ڈراموں سے شہرت حاصل کرنے والی 21 سالہ اداکارہ نایاب خان زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا اور پمز کے برن کیئر سنٹر میں زیر علاج ہیں جنہیں ان کے شوہر نے گھریلو جھگڑے پر آگ لگادی تھی۔ نایاب خان کے جسم کا 40 فیصد حصہ جھلس چکا ہے۔ نایاب خان کا کہنا ہے کہ 19 مئی کی رات ان کے شوہر رشید مغل نے پہلے سگریٹ سلگائی جس کے بعد میرے کپڑوں کو آگ لگادی۔اداکارہ کو بی سی سی لایا گیا جہاں ڈاکٹرز نے سرتوڑ کوششوں کے بعد اس کی زندگی بچالی لیکن اسے اس وقت تک ہسپتال میں ہی داخل رکھا جب تک کہ اس کے زخم ٹھیک نہیں ہوگئے۔تفصیلات کے مطابق21 سالہ نایاب خان ایک درجن سے زائد ٹی وی ڈراموں میں کام کرچکی ہیں ، وہ اپنا کیریئر بنانے میں مصروف تھیں کہ اسی دوران اس کی ٹیکسلا سے تعلق رکھنے والے صحافی رشید مغل سے ملاقات ہوگئی۔ نایاب خان نے پولیس کو ریکارڈ کرائے گئے اپنے بیان میں کہا ہے کہ رواں سال جنوری میں دونوں کی ٹیکسلا میں ایک پارٹی کے دوران ملاقات ہوئی جس کے بعد رشید مغل نے اس کا پیچھا کرنا اور بار بار رابطہ کرکے شادی کیلئے دباؤ ڈالنا شروع کردیا۔شروع کے کچھ دن تو نایاب اپنی والدہ کے گھر رہی لیکن شادی کے 2 ماہ بعد اس نے رشید سے مطالبہ کیا کہ وہ شادی کا اعلان کرکے اسے اپنے گھر لے جائے۔رشید اس مطالبے سے پہلو تہی کرتا رہا اور کہتا رہا کہ اس کے مالی معاملات اسے دوسرے گھر کی اجازت نہیں دیتے، لیکن بالآخر نایاب اسے اس شرط پر مکان کرائے پر لینے پر راضی کرنے میں کامیاب ہوگئی کہ گھر کے اخراجات وہ خود اٹھائے گی۔نایاب خان نے اپنے بیان میں مزید بتایا کہ 19 مئی کی رات اس کا شوہر اپنے کزن محمد حفیظ کے ساتھ گھر پر آیا۔ رشید نے مجھے نظر انداز کرتے ہوئے سگریٹ سلگایا میں نے احتجاج کیا تو جھگڑا شروع ہوگیا، جس پر رشید نے ماچس اٹھائی اور میرے کپڑوں کو آگ لگادی ، چند ہی منٹوں میں میرا پورا جسم جل رہا تھا۔واقعہ کے بعد نایاب کو واہ کے مقامی ہسپتال لے جایا گیا تاہم ڈاکٹرز نے مریضہ کی تشویشناک حالت کے پیش نظر اسے پاکستان آرڈیننس فیکٹری ہسپتال کے برن یونٹ ریفر کردیا۔

نایاب کی تشویشناک حالت کے باوجود رشید اسے ہسپتال کی بجائے اپنی پہلی بیوی کے گھر لے گیا، جہاں اس کی ٹھیک سے دیکھ بھال بھی نہیں کی گئی جبکہ اس کی والدہ جمشید بی بی کو بھی واقعے سے متعلق 6 روز بعد آگاہ کیا گیا،والدہ جب اپنی بیٹی کا پتا کرنے آئی تو اس نے دیکھا کہ زخموں میں کیڑے پڑ چکے ہیں۔اہلخانہ کے دباؤ پر رشید مغل نے نایاب کو اس کی ماں کے ساتھ بی سی سی شفٹ کیا اور فرار ہوگیا۔ پولیس کو دیئے گئے بیان میں نایاب نے مطالبہ کیا ہے کہ رشید مغل کو گرفتار کیا جائے۔

مزید :

کلچر -