میسی سے ملنے بھارتی شائق سائیکل پر روس روانہ

میسی سے ملنے بھارتی شائق سائیکل پر روس روانہ

  

نئی دہلی (این این آئی)میسی سے ملاقات کی خواہش میں ریاضی کے استاد کا سائیکل پر انڈیا سے روس کا سفرشروع کر دیا ۔میڈیا رپورٹ کے مطابق کلفین فرانسس انڈیا کی جنوبی ریاست کیرالہ میں اپنے گھر میں بیٹھے ہوئے تھے جب ان کے ایک دوست نے ان سے پوچھا کہ کیا وہ ورلڈ کپ کیلئے جا رہے ہیں؟بالکل ٗانھوں نے جواب دیا اور کہاکہ میں شاید عظیم الشان شو دیکھنے کیلئے روس کا سفر کروں۔فرانسس انڈیا میں ریاضی کے فری لانس استاد ہیں اور وہ ایک دن میں 40 امریکی ڈالر کماتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ میں نے محسوس کیا کہ میرے پاس اتنی رقم نہیں ہے جس سے میں روس کا سفر اور وہاں ایک ماہ قیام کر سکوں ٗپھر میں نے خود سے پوچھا کہ سفر کا سب سے سستا ذریعہ کیا ہو سکتا ہے؟ اس کا جواب بائیسکل تھا۔فرانسس نے رواں برس 23 فروری کو اپنے سفر کا آغاز کیا۔ انھوں نے کیرالہ سے دبئی کا فضائی سفر کیا پھر وہ دبئی سے فیری کے ذریعے ایران پہنچے جہاں سے سائیکل پر روس کا دارالحکومت اب بھی ہزاروں کلو میٹر دور تھا۔فرانسس نے بتایا کہ مجھے سائیکلنگ سے محبت ہے اور میں فٹبال کے بارے میں پاگل ہوں۔ میں نے اپنے دونوں جذبات کو اکھٹا کیا۔انھوں نے پاکستان کے ذریعے سفر کرنے کی منصوبہ بندی کی تھی تاہم انڈیا کے ساتھ کشیدگی کی وجہ سے انھیں یہ خیال ترک کرنا پڑا۔فرانسس نے بتایا کہ منصوبے میں تبدیلی مجھے بہت مہنگی پڑی ٗمیں اپنی سائیکل دبئی نہیں لے جا سکتا تھا اور وہاں مجھے نئی سائیکل خریدنی پڑتی جس کی قیمت 700 امریکی ڈالر تھی ٗیہ طویل فاصلے کے سفر کے لیے بہترین نہیں تھا لیکن یہ سب کچھ میں برداشت کر سکتا تھا۔انھوں نے بتایا کہ یہ دنیا کا خوبصورت ترین ملک ہے، یہاں کے لوگ بہت ملنسار ہیں، میں نے یہاں 45 دن گزارے لیکن میں یہاں ہوٹل میں صرف دو دن ٹھہرا۔فرانسس ہر روز صرف دس امریکی ڈالر خرچ کرتے تھے تاہم ان کا کہنا ہے کہ وہ ایران میں جہاں بھی گئے، لوگوں نے انھیں اپنے گھروں میں رہنے کیلئے مدعو کیا اور انھیں کھانا بھی دیا۔انہوں نے کہاکہ ایران کے بارے میں میرا خیال بدل گیا ٗ مجھے احساس ہوا کہ آپ کو کسی ملک کے بارے میں جیو پولیٹکس پر مبنی رائے نہیں بنانی چاہیے۔فرانسس کے بقول ایران کے خوبصورت دیہی علاقوں کی بدولت سائیکلنگ کم درد ناک ہو گیا تھا ٗمیں ضرور واپس جاؤں گا۔انھوں نے بتایا کہ ایران کے لوگوں نے مجھ سے وعدہ لیا کہ میں روس میں ایرانی ٹیم کی حوصلہ افزائی کروں ٗ ایرانی لوگ بولی وڈ سے بھی محبت کرتے ہیں اور اس چیز نے مجھے بہت سے مقامات پر لوگوں کے ساتھ بات چیت کرنے میں مدد کی۔فرانسس کا اگلا پڑاؤ آذربائیجان تھا جہاں کی سرحدی پولیس کو ان کے سفری دستاویزات کی تصدیق کرنے میں مشکل ہوئی کیونکہ مسلسل سائیکلنگ سے ان کا وزن بہت کم ہو گیا تھا۔انھوں نے بتایا کہ میں اپنے پاسپورٹ پر لگی ہوئی تصویر کی طرح نظر نہیں آیا۔ پولیس کو میری تفصیلات کی تصدیق کیلئے آٹھ گھنٹے سے زیادہ وقت لگا لیکن انھوں نے میرے ساتھ اچھا برتاؤ کیافرانسس آزربائیجان کے ہوٹلوں کا خرچ برداشت نہیں کر سکتے تھے اسی وجہ سے انھوں نے زیادہ تر پارکوں میں اپنا خیمہ لگایا۔ان کا کہنا تھا کہ آزربائیجان کے لوگ بھی اچھے تھے لیکن وہ ایک اجنبی کے ساتھ بے تکلف ہونے میں زیادہ وقت لگاتے تھے۔

مزید :

کھیل اور کھلاڑی -