شہباز شریف کا صرف 1کروڑ 14لاکھ بینک بیلنس ، حمزہ کی ذاتی گاڑی تک نہیں

شہباز شریف کا صرف 1کروڑ 14لاکھ بینک بیلنس ، حمزہ کی ذاتی گاڑی تک نہیں

  

لاہور (نامہ نگار، جنرل رپورٹر)صدر مسلم لیگ ن ،سابق وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف ، مسلم لیگ ن کے مرکزی ر ہنما حمزہ شہباز ، سابق وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق ،مریم نواز، سابق وزیر قانون پنجاب رانا ثناء اللہ کے کاغذات نامزدگی اور اثاثہ جات کی تفصیلات منظر عام پر آگئیں ،شہباز شریف نے اپنے اثا ثہ جات کی کل مالیت 15کروڑ ، اہلیہ نصرت شہباز 22کروڑ 56لاکھ ،دوسری اہلیہ تہمینہ درانی 57 لاکھ روپے کی مالک جبکہ بیٹے حمزہ شہباز کے اثاثوں کی کل مالیت 59لاکھ ہے۔سابق وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے کاغذات نامزدگی او ر اثاثہ جات کی تفصیلات کے مطابق مری ہال روڈ پر ایک کنال 9مرلے کے گھر 53سی کی قیمت 34ہزارروپے بیان کی ہے جبکہ مری ہال روڈ پر بنگلہ نمبر 54سی کی قیمت صرف 27ہزار روپے بیان کی ہے۔ شہباز شریف نے شیخوپورہ میں88کنال اراضی والد اور لاہور سٹی میں 568کنال پر مشتمل پانچ الگ الگ جائیدادیں ماں کی طرف سے تحفہ بیان کی ہیں۔ لندن میں 3الگ الگ جائیدادوں کی مجموعی قیمت 12 کروڑ 61لاکھ بیان کی ہے۔شہباز شریف نے حدیبیہ انجینئرنگ ملز، حمزہ سپننگ ملزاور حدیبیہ پیپر ملز میں شیئرز ظاہر کئے ہیں، حبیب بینک کے تین اور بینک الفلاح کے ایک اکاونٹ میں مجموعی طورپر ایک کروڑ14لاکھ روپے موجود ہیں،شہباز شریف نے اپنی دوبیویاں نصر ت شہباز اور تہمینہ درانی کاغذات میں بیان کی ہیں۔ اہلیہ نصرت شہباز شوہر سے زیادہ امیر ہیں،نصرت شہباز نے ماڈل ٹاؤن میں 10کنا ل کے گھر کی مالیت 12کروڑ 87لاکھ روپے بیان کی ہے۔ مری ڈونگا کلی میں سوا 9کنال کے نشاط لاج کی مالیت 5کروڑ 78لاکھ بیان کی ہے جبکہ میں 809کنال اراضی پر مشتمل 9 الگ الگ جائیدادوں کے شیئرز کی مالک ہیں جن کی مجموعی مالیت 26لاکھ روپے بیان کی گئی ہے۔نصرت شہباز رمضان شوگر ملز، حمزہ سپننگ ملز، سمیت دیگر10ملز میں شیئر ہولڈر ہیں جن کی مجموعی مالیت 87لاکھ روپے بیان کی گئی ہے ۔نصرت شہباز نے 17لاکھ روپے کی جیولری بیان کی ہے جبکہ پانچ مختلف بینکوں میں قائم اکاونٹس میں ایک کروڑ89 لاکھ روپے کا بیلنس بیان کیا ہے ۔نصرت شہباز نے مجموعی طورپر 22کروڑ 56لاکھ روپے کے اثاثے بیان کئے ہیں۔شہبازشریف کی دوسری اہلیہ تہمینہ درانی پہلی بیوی اور شوہر سے بھی کم مالدار نکلیں۔ تہمینہ درانی نے ڈی ایچ اے لاہور میں 10مرلے کا ایک گھر اور ہری پور میں چار الگ الگ جائیدادوں گفٹ ظاہر کی ہیں۔تہمینہ درانی نے گوادر میں چار کنال کے پلاٹ میں شیئر ز ظاہر کئے ہیں جبکہ 5بینکوں میں مجموعی طورپر 5لاکھ روپے کا بیلنس بیان کیا ہے۔تہمینہ درانی پانچ لاکھ روپے کی ایک سوزوکی آلٹو کی مالک ہیں اوران کے پاس 15لاکھ روپے کے زیورات ہیں ۔تہمینہ درانی کے اثاثہ جات کی مجموعی مالیت 57لاکھ روپے بیان کی گئی ہے۔شہباز شریف کے بیٹے حمزہ شہباز کے کل اثاثوں کی مالیت 59 لاکھ روپے ہے ، مسلم لیگ (ن )کے حمزہ شہباز کے نام 155 کنال اراضی جبکہ ذاتی کوئی گاڑی نہیں ہے جبکہ حمزہ شہباز کے رمضا ن شوگر ملز سمیت 21 نجی ملز میں شیئر زہیں ،حمزہ شہباز کا 43 لاکھ 70 ہزار 2سو 43 بینک بیلنس ہے جبکہ ازدواج میں ایک اہلیہ کا نام رابعہ اکرم جبکہ دوسری کا نام مہرو النساء ہے ،حمزہ شہباز کے 16 لاکھ 88 ہزار 4 سو 18 کے کیش پرائز بانڈ بھی ہیں ،جبکہ سابق وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق کل 17 کروڑ 84 لاکھ روپے کے اثاثہ جات کے مالک ہیں،خواجہ سعد رفیق کے پاس ایک کروڑ 15 لاکھ روپے کا بینک بیلنس ہے۔ خو ا جہ سعد رفیق نے کاغذات نامزدگی میں پراپرٹی بھی واضح کردی ہے۔ کاغذات نامزدگی میں خواجہ سعد رفیق نے لوہاری گیٹ لاہور میں اپنی اوربھائی سلمان رفیق کی ملکیت دو عدد وارثتی گھروں کی مالیت ایک لاکھ 25ہزار روپے ظاہر کی ہے۔ ڈی ایچ اے فیز ٹو میں واقع گھر کی مالیت 4کروڑ 82لاکھ ،موضع پھر و ا ن لاہور کینٹ میں 16کنال اراضی کی مالیت 3کروڑ 46لاکھ ، موضع پھلروان لاہور کینٹ میں ہی واقع مزید 16کنال اراضی کی قیمت 3کروڑ 45لاکھ، سعدین ایسوی ایٹس (مارکیٹنگ اینڈ کنسٹینسی) کی مالیت 2کروڑ 98لاکھ رو پے بیان کی ہے جبکہ ایک کروڑ40 لا کھ روپے کا کیش اور پرائز بانڈ، 25لاکھ کا فرنیچر اور ایک کروڑ15لاکھ روپے کا بینک بیلنس ظاہر کئے ہیں ۔خواجہ سعد رفیق نے حلف نامے میں دو بیویاں ،دوبیٹیاں اور ایک بیٹا ظاہر بیان کیا ہے، ایک اہلیہ کا نام غزالہ سعد رفیق جبکہ دوسری کا نام شفق حرا ہے۔خواجہ سعد رفیق نے 2015ء میں 2کروڑ26لاکھ روپے آمد نی اور 29لاکھ روپے انکم ٹیکس ،جبکہ 2016میں 2کرو ڑ 99لاکھ آمدنی پر 39لاکھ کا انکم ٹیکس، 2017ء میں 3کروڑ 89لاکھ کی آمدنی پر 52لاکھ روپے کا انکم ٹیکس ادا کیاجبکہ تین برسوں میں زرعی انکم ٹیکس بالکل بھی ادا نہ کیااور نہ ہی زرعی انکم بیان کی ہے،خواجہ سعد رفیق نے ایک کروڑ15لاکھ روپے کے شیئر ز ظاہر کئے ہیں جبکہ اپنے اثا ثہ جات کی کل مالیت 17کر وڑ 84لاکھ روپے ظاہر کی ہے،انہوں نے اپنے کز ن سے 2کروڑ 95لاکھ روپے بلا سود قرض بھی لے رکھا ہے۔اسی طرح مسلم لیگ ( ن ) کے رہنما و سابق وزیر قانون پنجاب رانا ثنااللہ نے کاغذات نامزدگی میں اپنے اثاثے اور جائیدادا ظاہر کر تے ہوئے بیان کیا ہے کہ وہ 7 کروڑ ساڑھے 84 لاکھ 52ہزارروپے کے اثا ثوں کے مالک ہیں جن میں تین گھر، 10 ایکڑ زرعی اراضی ، 9دکانیں ، 2 پلازے بھی شامل ہیں۔ 5برسوں میں اثاثے 3کروڑ 56لاکھ روپے بڑھ گئے۔ سابق وزیر قانون پنجاب کے پانچ مختلف بینک اکاؤنٹس میں 60 لاکھ 74 ہزار موجود ہیں جبکہ وہ 2 کروڑ 90 لاکھ 50 ہزار کے مقروض بھی ہیں، انہوں نے اپنے زیر استعمال گاڑی کی ملکیت 75 لاکھ روپے ظاہر کی ہے۔ سابق وزیراعظم نوازشریف کی بیٹی مریم نواز نے کاغذات نامزدگی میں اپنے جائیداد اور اثاثہ جات کیساتھ ساتھ جو رقم گفٹ میں بھی ملی وہ بھی واضح کردی۔ مریم نواز کو 4 کروڑ 92 لاکھ 2 ہزار روپے کی رقم گفٹ کے طور پر ملی۔مریم نواز نے بیان حلفی میں اقرار کیاہے کہ نیب کورٹ میں ان کیخلاف کیس زیر سماعت ہے ۔ د ستا و یز ا ت کے مطابق مریم نواز پاکستان میں 84کروڑ روپے سے زائد کی مالکن ہیں،ان کے پاس ٹیکسٹائل ملز اور شوگر ملز میں 14لاکھ84ہزار 125شیئرز ہیں۔ حمزہ سپننگ ملز لمیٹڈ میں ان کے پاس ایک لاکھ 64ہزار شیئر ہیں ، محمد بخش ٹیکسٹائل ملز لمیٹڈ میں ان کے 4لاکھ82ہزار شیئرز ہیں ،حدیبیہ پیپرز ملز میں میں ان کے 4لاکھ 24ہزار شیئرز ہیں ، حد یبیہ انجینئرنگ پرائیویٹ لمیٹڈ میں12ہزار270شیئرز ہیں۔ بیان حلفی کے مطابق انہوں نے سوفٹ انرجی پرائیویٹ کو70لاکھ روپے کا قرضہ دے رکھا ہے جبکہ 2015میں چوہدری شوگر ملز کو قرضہ د ے رکھا تھا جبکہ مریم نواز کے مطابق حمزہ سپننگ ملز اور حدیبیہ پیپر ملز بند پڑے ہیں جبکہ انہوں نے زیر تعمیر اپنی فیملی کی فلور ملز میں 34لاکھ 62 ہزار 500کی سرمایہ کاری کر رکھی ہے ۔ مریم نواز کے پاس 1506کنال ایک مرلہ زرعی زمین ہے اور تین برسوں میں ان کی زرعی زمین میں 548کنال کا اضافہ ہو ا ہے ۔ مالی سال 2015میں مریم نواز کے پا س 958کنال زمین تھی جو 2016میں 1430کنال اور 2017میں 1506کنال ایک مرلہ تک پہنچ گئی۔مریم نواز کے پاس موضع سلطان پور میں 1092کنال 6مرلہ، موضع مال میں ان کے پاس 337کنال 12مرلہ ،موضع بدو کی ثانی میں 62کنال دو مرلہ، موضع آصل لکھووالہ میں 14کنال ایک مرلہ کی پراپرٹی ہے ۔ یو ں مریم نواز کے پاس 84کروڑ 22لاکھ رو پے مالیت کی زرعی زمین ہے۔ 300ارب روپے ریفنڈ کا رونا رونے والے تاجروں کو تو ر یفنڈ نہیں ملا لیکن مریم نواز کو 6 برسوں کے دورا ن 17لاکھ85ہزار روپے کا انکم ٹیکس ریفنڈ دیا گیا ہے۔مریم نواز نے تین برسوں میں 94 لاکھ84ہزار مالیت کے غیر ملکی ٹورز کئے ہیں ۔ 2017میں 7لاکھ، 2016 میں 37لاکھ26ہزار اور سال 2015میں 20لاکھ 58 ہز ار کے بیرون ممالک دورے کئے۔مریم نواز کی آمدنی میں ایک سال کے دو ر ا ن 4کروڑ 41لاکھ روپے سے زائد کا اضافہ ہوا ہے۔جبکہ سابق وزیر مملکت عابد شیر علی نے کل اثاثہ جات کی مالیت 9 کروڑ 4 لاکھ اور بینک اکاؤنٹ میں ایک کروڑ 45 لاکھ روپے ظاہر کیے ہیں ۔جن میں اسلام آبادمیں قائم کوٹھی کی مالیت صرف7لاکھ 75ہزارروپے ظاہرکی جبکہ آمدن میں صرف تنخواہ،پلاٹس کی مکمل تفصیل بھی جمع نہیں کروائی اور 2016کے غیر ملکی سفر کی معلومات بھی درج نہیں کی گئی۔عابدشیرعلی کے ذمے5کروڑ10 لاکھ کاقرض واجب الادا ہے، 2 پلاٹس خریدنے کیلئے 98 لاکھ 65 ہزارروپے ادا کیے ہوئے جبکہ اسلام آباد میں ایک پلاٹ کے آدھے مالک بھی ہیں ۔ ان کے ایک بینک اکاؤنٹ میں ایک کروڑ80 لاکھ،دوسرے میں 11لاکھ 79 ہزا ر موجود ہیں ۔دوسر ی جانب عابد شیر علی کی اہلیہ بینک بیلنس سمیت دو کروڑ 30 لاکھ 54 ہزار کی مالک ہیں اور ان کے پاس 200 تولے سونا بھی ہے ۔ عابدشیرکی اہلیہ فاطمہ عابدکی ایل ڈی اے سٹی میں 2کنال اراضی کی قیمت74لاکھ ظاہرکی گئی ہے ۔

شہباز اثاثے

کراچی، اسلام آباد (سٹاف رپورٹرز) پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما سابق وزیراطلاعات سندھ شر جیل انعام میمن ،ایم کیو ایم پاکستان کے سابق سربراہ فاروق ستار اورسا بق صدر پرویز مشرف کے کاغذات نامزدگی اور اثاثہ جات کی تفصیلات منظر عام پر آگئیں، پیپلز پارٹی کے ر ہنما، سابق وزیراطلاعات سندھ شرجیل انعام میمن نے صوبائی اسمبلی کی نشست پی ایس 63 حید ر آ باد کیلئے جمع کرائے گئے کا غذ ا ت نامزدگی میں کروڑوں روپے کے اثاثے ظاہر کیے ہیں۔ دستاویزات کے مطابق شرجیل میمن دبئی میں 5 کروڑ روپے مالیت کے فلیٹ کے مالک ہیں اور دبئی میں ہی 9 کروڑ 89 لاکھ روپے کا فلیٹ ان کی اہلیہ کے نام پر بھی ہے۔ شرجیل میمن 3 کروڑ 95 لاکھ 70 ہزار کی 3 قیمتی گا ڑ یوں کے مالک ہیں اور انہوں نے 8 کروڑ 7 لاکھ، 91 ہزار 389 کے نقدی اور پرائز بانڈ ظاہر کئے ہیں۔ ڈی ایچ اے کراچی میں 44 لاکھ روپے مالیت کے بنگلے کے مالک ہیں اور انہوں نے ڈی ایچ اے 28 اسٹریٹ پر 97 لاکھ روپے کی جائیداد بھی ظاہر کی ہے۔شرجیل میمن کی اہلیہ کے اکاونٹس میں 2 کروڑ 29 لاکھ 79 ہزار روپے ظاہر کئے گئے جبکہ فرنیچر کی مد میں انہوں نے 25 لاکھ روپے ظاہر کیے ۔ د ستا و یز ا ت کے مطابق شرجیل میمن تھر پارکر میں ایک کروڑ 50 لاکھ 80 ہزار روپے مالیت کی جائیداد کے مالک ہیں اور انٹرنیشنل گلف گروپ میں ا ن کی اہلیہ 30 لاکھ روپے کی شراکت دار ہیں۔ادھرایم کیو ایم پاکستان کے سابق سربراہ فاروق ستار مقروض نکل آئے ہیں۔متحدہ قومی مو منٹ پاکستان کے سابق کنوینئر فاروق ستار کا ذرائع آمدنی صرف اسمبلی کی تنخواہ ہے۔ پتنگ والے ڈاکٹر فاروق ستار نے زندگی سیاست میں گزار دی مگرالیکشن کمیشن میں جمع کرائے گئے گوشوارے کے مطابق فاروق ستار کے نام پر کوئی گھر فلیٹ یا بنگلہ نہیں ہے اور نہ ہی ان کا کوئی کاروبار ہے نہ کہیں پر کوئی انویسٹمنٹ کررکھی ہے۔ ڈاکٹر فاروق ستار کی بیگم کے نام پر ایک فلیٹ ہے جس کی قیمت صرف 8 لاکھ روپے ہے۔ ڈاکٹر فاروق ستاردوبیگمات والدہ اور دوبیٹیوں کے واحد کفیل ہیں۔ فاروق ستار کے پاس نقدی صرف 8 ہزار روپے اور بہن کے مقروض بھی ہیں۔جبکہ سابق صدر پرویز مشرف کی الیکشن کمیشن میں جمع کرائی گئی تفصیلات کے مطابق پرویز مشرف کی اہلیہ صہبا مشرف زیا د ہ امیر نکلیں ۔ پاکستان میں تمام جائیداد اہلیہ کے نام پر ہیں جبکہ چک شہزاد فارم کی قیمت 2 کروڑ 37 لاکھ روپے ظاہرکی گئی ہے ۔پرویز مشرف نے ڈی ایچ اے کراچی میں مکان کی قیمت 50 لاکھ روپے اور ڈاون ٹاؤن دبئی میں اپارٹمنٹ کی قیمت 9 کروڑ روپے ظاہر کی ہے ۔پرویز مشرف کے مجموعی اثاثے 3 کروڑ 43 لاکھ روپے ظاہر کئے گئے جبکہ اندرون و بیرون ملک 2 کروڑ 60 لاکھ کی گاڑیاں رکھی ہوئی ہیں ساتھ ہی مختلف بینک اکاؤنٹس میں 2 کروڑ 12 لاکھ روپے بھی موجود ہے ۔واضح رہے پرویز مشرف نااہلی کیس میں سپریم کور ٹ نے بڑا حکم دیتے ہوئے کاغذات نامزدگی جمع کرانے کی مشروط اجازت دیدی تھی تاہم وطن واپس نہ آنے پر عدالت نے سابق صدر کے کاغذات نامزدگی جمع کرانے کا حکم واپس لے لیا تھا۔گزشتہ روز سابق صدر پرویز مشرف کے این اے 1 چترال سے کاغذات نامزدگی مسترد کردیئے گئے ہیں جہاں ریٹرننگ افسر محمد خان نے ان کے کاغذات مسترد کیے۔اس کے علاوہ کراچی کے حلقہ این اے 247 سے سابق صدر پرویز مشرف کے کاغذات نامزدگی خود واپس لے لیے گئے ہیں۔

مزید :

صفحہ اول -