پنجاب کے 10اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرلز کی برطرفی کا اقدام ہائیکورٹ میں چیلنج

پنجاب کے 10اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرلز کی برطرفی کا اقدام ہائیکورٹ میں چیلنج

  

لاہور(نامہ نگار خصوصی )پنجاب کی نگران حکومت کی طرف سے 10اسسٹنٹ ایڈووکیٹس جنرل کو برطرف کرنے کا اقدام لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کردیا گیا ۔اس سلسلے میں دائر درخواست کی سماعت کرتے ہوئے مسٹر جسٹس علی اکبر قریشی نے ریمارکس دیئے کہ بتایا جائے نگران حکومت نے کس اختیار کے تحت ان لاء افسروں کو فارغ کیا ۔بادی النظر میں برطرفیاں نگران حکومت کا کام نہیں،فاضل جج نے ایڈووکیٹ جنرل کی فوری طلبی کا نوٹس جاری کیاجس کے بعد ایڈیشنل ایڈووکیٹس جنرل وسیم ممتاز ،خالد وحید اور اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل عمر فاروق عدالت میں پیش ہوئے ۔فاضل جج نے انہیں ہدایت کی کہ حکومت سے ہدایات لے کر عدالت کو مذکورہ سوالات کے جواب سے ایک گھنٹے کے اندرآگاہ کیا جائے ۔کیس کی ایک گھنٹے بعد دوبارہ سماعت ہوئی تو لاء افسروں نے عدالت سے جواب داخل کرنے کیلئے ایک روز کی مہلت طلب کی ۔فاضل جج نے یہ استدعا منظور کرتے ہوئے حکم دیا کہ آج 22جون کو صبح 9بجے تک ہرحال میں حکومت کے موقف سے عدالت کو آگاہ کیا جائے ۔میاں شہباز شریف کی وزارت اعلیٰ کے خاتمہ سے چند روز قبل بیرسٹراسجد سعید ، عامرثنااللہ ، محمد طارق محمود بٹ ، احمد حسن رانا ، محمد طارق ندیم ، بیرسٹربشریٰ ثاقب ، آصف افضل بھٹی، چودھری محمد جوادیعقوب ، بیرسٹرامیرعباس علی خان اورخالد مسعود غنی کواسسٹنٹ ایڈووکیٹس جنرل پنجاب مقرر کیا گیا تھا جنہیں 20جون کو فارغ کردیا گیا ،اس اقدام کے خلاف بیرسٹر بشریٰ ثاقب ،عامر ثناء اللہ ،آصف افضل بھٹی اور امیر عباس علی خان سمیت 6سابق اسسٹنٹ ایڈووکیٹس جنرل نے شہزاد شوکت ایڈووکیٹ کی وساطت سے رٹ درخواست دائر کی ہے جس میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ نگران حکومت کو نئے تقرر اور کسی سرکاری عہدیدار کو برطرف کرنے کا اختیار حاصل نہیں ہے ۔درخواست گزاروں کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ الیکشن ایکٹ 2017ء کے سیکشن 230کے تحت نگران حکومت صرف روز مرہ کے امور انجام دے سکتی ہے ۔اس سیکشن کے ذیلی سیکشن سی میں واضح کیا گیا ہے کہ حکومت معمول کے امور کے حوالے سے بھی کوئی ایسا اقدام نہیں کرسکتی جو منتخب حکومت کو منسوخ کرنا پڑے،نگران حکومت کوئی پالیسی وضع نہیں کرسکتی ۔سیکشن 230(2)کے تحت نگران حکومت کسی سرکاری عہدیدار کو ترقی دے سکتی ہے اور نہ ہی نیا تقرر کرسکتی ہے ۔نگران حکومت الیکشن کمشن کی اجازت کے بغیر سرکاری افسروں کے تبادلے کرنے کی مجاز بھی نہیں ہے۔درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ اسسٹنٹ ایڈووکیٹس جنرل کی برطرفی کا 20جون کا نوٹیفکیشن غیر قانونی اور غیر آئینی قرار دے کر کالعدم کیا جائے۔درخواست میں 2013ء کی نگران حکومت کی طرف سے لاء افسروں کو برطرف کرنے کے خلاف لاہور ہائی کورٹ کے فیصلہ کا حوالہ بھی دیا گیا ہے ۔دوسری طرف ایڈووکیٹ جنرل آفس کے ذرائع کا کہنا ہے کہ مذکورہ اسسٹنٹ ایڈووکیٹس جنرل کا تقرر اس وقت عمل میں لایا گیا جب الیکشن کمشن نئی تقرریوں پر پابندی عائد کرچکا تھااور ان تقرریوں کی بابت الیکشن کمشن سے اجازت نہیں لی گئی تھی۔یاد رہے کہ 2مئی 2013ء کو اس وقت کی نگران حکومت نے بھی 7ایڈیشنل ایڈووکیٹس جنرل اور13اسسٹنٹ ایڈووکیٹس جنرل کو فارغ کردیا تھا جس کے خلاف انہوں نے لاہور ہائی کورٹ میں رٹ درخواست دائر کی تھی اور مسٹر جسٹس عمر عطاء بندیال نے 15مئی 2013ء کواپنے حکم کے ذریعے ان لاء افسروں کو بحال کردیا تھا ۔عدالت نے درخواست گزاروں کے اس موقف سے اتفاق کیا تھا کہ ایڈووکیٹ جنرل آفس میں44اسسٹنٹ ایڈووکیٹس جنرل اور21ایڈیشنل ایڈووکیٹس جنرل کام کررہے تھے جن میں سے چند ایک کوبغیرکوئی وجہ بتائے ملازمت سے فارغ کرنا آئین کے منافی ہے ۔عدالت نے یہ بھی قراردیا تھا کہ نگران حکومت روزمرہ کے انتظامی امور ہی نمٹاسکتی ہے ۔

اقدام چیلنج

مزید :

صفحہ اول -