لاہور کی ڈسپنسریوں اور بنیادی مراکز صحت میں ادویات ناپید ، مفت علاج ممکن نہ رہا

لاہور کی ڈسپنسریوں اور بنیادی مراکز صحت میں ادویات ناپید ، مفت علاج ممکن نہ ...

  

لاہور(جاوید اقبال) صوبائی دارلحکومت میں واقع میٹرو پولیٹین کارپوریشن اور محکمہ صحت لاہور کی مشترکہ ڈسپنسریوں اور بنیادی مراکز صحت میں ادویات کا مکمل بحران پید ا ہو گیا ہے جس سے مریضوں کا یہاں مفت علاج معالجہ ممکن نہیں رہا ۔بتایا گیا ہے کہ ضلع لاہور میں 274ڈسپنسریاں ‘فلٹر کلینکس رورل سینٹرز اور بنیادی مراکز صحت واقع ہیں جہاں ادویات مکمل طور پر ختم ہو گئی ہیں اسی طرح ایکسرے کی فلمیں ‘کلینیکل ٹیسٹوں میں استعمال ہونے والی کٹس بھی ختم ہو گئی ہیں جس سے ان مراکز صحت میں غریب مریضون کا مفت علاج معالجہ مکمل طور پر بند ہو گیا ہے ۔ محکمہ صحت لاہور اور میٹرو پولیٹین کارپوریشن ان ڈسپنسریوں اور مراکز صحت کو ادویات اور دیگر سازو سامان مہیا کرتا ہے مگر ایک ماہ سے چیف ایگزیکٹو آفیسر ہیلتھ کے دفتر سے مذکورہ مراکز صحت کو ڈسپرین تک مہیا نہیں کی گئی ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ مذکورہ دفتر نے ادویات خریدی ہی نہیں ۔ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ زیادہ تر ادویات گزشتہ مالی سال کے دوران ملٹی نیشنل کمپنیوں سے مہنگی ترین خریدی گئیں جن کی بڑی مقدار کی سپلائی کاغذوں میں وصول تو کر لی گئی مگر عملی طور پر سٹاک حاصل نہیں کیا گیا اور کمپنیوں سے مک مکا ہوا جس سے ادویات کا بحران پیدا ہوا اب صورت حال یہ ہے کہ ادویات نہ ہونے سے تمام مراکز میں بحران جاری ہے یہاں کا عملہ اور ڈاکٹرمن پسند کمپنیوں کی مہنگی ترین ادویات تجویز کرکے مریضوں کو بدحال کررہے ہیں ۔اس حوالے سے سی ای او لاہور ڈاکٹت شہناز سے بات کی گئی تو انہوں نے کہا کہ سال ختم ہو چکا ہے نئے ٹینڈرطلب کئے جارہے ہیں جن میں آئندہ مالی سال کے لئے ادویات کی خریداری کی جائے گی کل کیا ہوا اس کا میں ذمہ دار نہیں ہوں اگر یہ بحران ہے تو مجھے ورثے میں ملا ہے اس کو جلد ختم کردیں گے۔

مزید :

صفحہ اول -