لاہور ہائیکورٹ کا طاہر خان نیازی کو اسلام آباد نیو سٹی پراجیکٹ کی کمپنیاں تحلیل کرنے کا حکم

لاہور ہائیکورٹ کا طاہر خان نیازی کو اسلام آباد نیو سٹی پراجیکٹ کی کمپنیاں ...

  

لاہور(نامہ نگارخصوصی )لاہور ہائیکورٹ نے طاہر خان نیازی کی اسلام آباد نیو سٹی ہاؤسنگ پراجیکٹ کی کمپنیاں تحلیل کرنے کا حکم دے دیا۔ جسٹس شمس محمود مرزا نے ایڈیشنل رجسٹرار کمپنیز سیکیورٹی ایکسچینج کمیشن پاکستان (ایس ای سی پی )کی درخواست پر فیصلہ سنایا۔ ایس ای سی پی نے درخواست میں ایم جی رئیلٹرز کو فریق بنایاہے۔ فیصلے میں عدالت کی طرف سے کہا گیا ہے کہ ایم جی رئیلٹرز نے ہاؤسنگ سوسائٹی میں تجربہ نہ ہونے کے باوجود پراجیکٹ شروع کیا، طاہر خان نیازی نے اسلام آباد نیو سٹی پراجیکٹ کے لئے این او سی لئے بغیر ہاؤسنگ پراجیکٹ شروع کر کے عوام الناس سے فراڈ کیا ، ایم جی رئیلٹرز اور ایم جی ہرٹز پرائیویٹ لمیٹڈ نے فراڈ کا انکشاف ہونے پر پراجیکٹ تیسری کمپنی کے حوالے کر دیا، طاہر خان نیازی نے اسلام آباد نیو سٹی پراجیکٹ کی اراضی 13مختلف دیہاتی علاقوں سے ایکوائر کی ، ایم جی رئیلٹرز اور ایم جی ہرٹز پرائیویٹ لمیٹڈ کو تحلیل کر دیا جائے۔ عدالت نے کمپنیوں کے اثاثے فروخت کرنے کیلئے آفیشل لیکوڈیٹرز کو بینک میں اکاؤنٹ کھلوانے کا حکم دیتے ہوئے کمپنیوں کے بینک اکاؤنٹس میں موجود تمام رقم کو بھی نئے بینک اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کا حکم دیاہے۔ عدالت نے اثاثوں کی نیلامی کے اخراجات بھی نئے بینک اکاؤنٹس سے پورے کرنے کا حکم دیاہے۔ عدالت نے آفیشل لیکوڈیٹرز سے اثاثوں کی فروخت کے لئے 2اکتوبر کو رپورٹ بھی طلب کر لی۔ درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ وفاقی دارالحکومت میں 20ہزار کنال پر مشتمل اسلام آباد نیو سٹی ہاؤسنگ پراجیکٹ شروع کیاگیا،ایم جی رئیلٹرز نے ہاؤسنگ سوسائٹی کے لئے نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے ساتھ جوائنٹ وینچر کیا ،کابینہ کمیٹی کے احتساب سیل نے نوٹس لے کر فرانزک آڈٹ کا حکم دیا، آڈٹ میں دو کمپنیوں کی جانب سے فراڈ اور بے ضابطگیوں کا انکشاف کیا گیا۔ ہاؤسنگ سوسائٹی کے نام پر عوام سے فراڈ کرنیوالی کمپنیوں کے اثاثے فروخت کرنے کاحکم دیا جائے۔

کمپنیاں تحلیل

مزید :

صفحہ آخر -