منصفانہ الیکشن نظر نہیں آ رہے، پیر پگاڑا ،شجاعت ، پرویزالٰہی، غوث علی شاہ

منصفانہ الیکشن نظر نہیں آ رہے، پیر پگاڑا ،شجاعت ، پرویزالٰہی، غوث علی شاہ

  

اسلام آباد(آن لائن)پاکستان مسلم لیگ ق کے قائدین چودھری شجاعت حسین، چودھری پرویزالٰہی اور جی ڈی اے کے رہنماؤں پیر صاحب آف پگاڑا پیر صبغت اللہ شاہ ،غوث علی شاہ نے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن اور نگران حکومت کے اقدامات منصفانہ الیکشن کی طرف نہیں جا رہے، انتخابات شفاف بنانے کیلئے بین الصوبائی تبادلے کیے جائیں، سابقہ حکومت کے بھرتی کردہ اہلکاروں کو پولنگ ڈیوٹی سے ہٹایا جائے ، ساری انتظامیہ اور پولنگ سٹاف شریف خاندان کے بھرتی کردہ ہیں ان حالات میں شفاف الیکشن ممکن نہیں، 2013ء والا ہی کام ہو گا۔ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چودھری شجاعت حسین نے کہا کہ 2013ء الیکشن میں دھاندلی والے اقدامات کئے گئے تھے، دنیا کے کسی ملک میں ایسا نہیں ہوتا کہ امیدوار کو پولنگ اسٹیشن میں جانے سے روک دیا جائے۔ چودھری پرویزالٰہی نے کہا کہ پنجاب کی صورتحال سندھ سے مختلف نہیں، شریفوں نے پنجاب میں دس سال حکومت کی ہے، انہوں نے اپنی پسند سے پنجاب میں افسر تعینات کیے عمل کچھ اور ہے زبانی کچھ اور ہے، انتظامیہ ساری شریف خاندان کی بیٹھی ہے، شریف خاندان کے ہوتے ہوئے شفاف الیکشن ممکن نہیں، شریف خاندان نے جو پالیسی بنائی ہے اس پر بات کر رہے ہیں، 2013ء کے الیکشن میں انتخابات میں دھاندلی کی گئی، اس جیسے الیکشن ہمیں قابل قبول نہیں، اس طرح کے الیکشن سے انتشار پیدا ہو گا، یہ ملک تباہی کی طرف جا رہا ہے، سب سے پہلے ایک صوبے کے افسر کو دوسرے صوبے میں تعینات کیا جائے۔ پیر صاحب پگاڑا نے کہا کہ چودھری صاحب نے ہمیں کراچی سے اسلام آباد بلایا ہے، آئندہ انتخابات کیلئے ہم تیار ہیں لیکن 2018ء کے الیکشن میں بھی پچھلے الیکشن جیسے ہوئے تو ملک کو نقصان ہو گا،موجودہ صورتحال میں شفاف الیکشن ہوتے ہوئے نظر نہیں آ رہے، 2013ء الیکشن میں پیپلزپارٹی ہار گئی تھی اور فنکشنل لیگ کی سیٹیں پیپلزپارٹی کو دی گئیں، موجودہ نگران حکومت سے شفاف الیکشن کی توقع نہیں، غوث علی شاہ نے کہا کہ سندھ میں شکار پور کا ڈی سی اٹھا کر خیرپور میں لگا دیا گیا، الیکشن شفاف نہ ہوئے تو اس کا کوئی فائدہ نہیں، اس ملک کی بقا شفاف الیکشن میں ہے جب تک بیوروکریسی میں تبدیلیاں نہیں آئیں گی تب تک الیکشن شفاف نہیں ہوں گے۔

مزید :

صفحہ آخر -