مولانا فضل الرحمان اور سراج الحق کو اسلام کی نہیں اسلام آباد کی فکر ہے: حیدر ہوتی

مولانا فضل الرحمان اور سراج الحق کو اسلام کی نہیں اسلام آباد کی فکر ہے: حیدر ...

  

سخاکوٹ( نمائندہ پاکستان) عوامی نشنل پارٹی کے صوبائی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ آمیر حیدر خان ہوتی نے کہا ہے کہ 25جولائی 2018کو ملک بھر میں سیاسی جماعتوں کے نامزد اُمیدواروں کے کامیاب یا ناکام ہونے جبکہ اسی روز خیبر پختونخواہ میں پختونوں کے قسمت کا فیصلہ ہو گا ۔ مرکزی حکومت کے خلاف 126دن دھرنا دینے والے تبدیلی خان سے ٹکٹوں کے تقسیم پر اپنے ہی کارکنوں کا دھرنا برداشت نہیں ہو رہا جوکئی ہفتوں سے نا انصافی کے خلاف بنی گالہ میں دھرنا دئیے ہوئے ہیں ۔ پنجاب کے عوام پنجابی قیادت ، سندھ کے عوام سندھی قیادت کیساتھ کھڑے ہیں لیکن بد قسمتی سے خیبر پختونخواہ کے عوام کو کبھی تبدیلی کے نام پر دھوکہ دیکر بنی گالہ بلایا جاتا ہے اور کبھی کسی اور دلفریب نعرے پر ورغلا کر ووٹ لیا جاتاہے ۔ٹیکس کے خلاف نہیں ہوں لیکن ٹیکس لگانے سے پہلے ترقی اور روزگار دی جائے اس لئے دوسرے وزیراعلیٰ کی ذمہ داری نہیں لے سکتا لیکن اگر ہمیں حکومت ملی تو ملاکنڈڈویژن میں ایک پائی کا ٹیکس نہیں لگنے دونگا ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے سخاکوٹ ریلوے سٹیشن گراؤنڈ میں بڑے ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ کنونشن سے ضلعی صدر و نامزد اُمیدوار پی کے 19ملاکنڈ شفیع اﷲ خان ، نامزد اُمیدوار قومی اسمبلی انعام اﷲ خان ، تحصیل جنرل سیکرٹری محمد ارشاد خان مہمند ، ضلعی سیکرٹری اطلاعات ساجد حسین مشوانی ،پی وائی یو کے ضلعی صدر معو ذ خان شلمانی ، شاد محمد خان ، محمد نبی عاجز اورپختون ایس ایف کے رہنماء ذیشان خان نے بھی خطاب کیا ۔ آمیر حیدر خان ہوتی نے کہا کہ ہم اپنے اختیارات کسی اور کو نہیں دینگے ۔ قبائلی علاقوں کے لئے قانون سازی کے وقت پنجاب کا مطالبہ تھا کہ انتظامی اصلاحات اور قانون سازی سے قبل فاٹا اور پاٹا میں ٹیکس کا نظام نافذ کیا جائے جبکہ ہم کہتے ہیں کہ پاٹا اور فاٹا میں ٹیکس نافذ کرنے سے قبل یہاں کے عوام کو روزگار اور ترقی دی جائے بصورت دیگر اگر ہمیں اقتدار ملی اور میں وزیر اعلیٰ بنا تو ملاکنڈ ڈویژن میں ایک پائی کا ٹیکس نہیں لگنے دونگا ۔ انہوں نے کہا کہ عام انتخابات کے لئے سیاسی جلسوں سے قبل پورے صوبہ خیبر پختونخواہ میں جرگے کر رہا ہوں جس کا باقاعدہ آغاز ملاکنڈ ڈویژن سے کیا ہے اور ناراض کارکنوں کو منانے کے لئے ان کے گھر جائینگے اس لئے کارکن دن رات ایک کرکے ناراض ساتھیوں کو منائیں اور عام انتخابات کے لئے بھر پور تیاری کریں ۔سابق وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ہم نے اپنے دورحکومت میں پورے صوبے میں تعلیمی اداروں ، سکولوں ، کالجز اور یونیورسٹیوں کے جال بچھائے ہیں اور ہم نے دہشت گردی اور سیلاب کا مقابلہ کرکے بھی ترقی کا پہیہ چلایا اور انشاء اﷲ اگلی بار حکومت ملی تو صوبے کے ہر ضلع میں یونیورسٹی کا قیام ، سپورٹس کمپلیکس کی تعمیر کو یقینی بنائینگے ۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے قائدین اور صوبائی وزیر اعلیٰ میگا پراجیکٹس کے خلاف تھیں لیکن تین سال حکومت کرنے کے بعد انہیں سوات ایکسپریس وے ، بس سروس اور یونیورسٹیوں و کالجز کا احساس ہوا تو خزانہ خالی پڑا تھا اور انہیں اربوں روپے قرضہ لینا پڑا جس کی وجہ سے 25سال تک ان منصوبوں سے ٹھیکیداروں کو آمدنی ملے گی ۔انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخواہ کے جن علاقوں میں تمباکو کی پیداوار ہوتی ہے ہم نے اپنے دور حکومت میں انہیں تمباکو آمدن ، ملاکنڈ تھری پاؤر پراجیکٹ سے پانچ فیصد کی بجائے دس فیصد آمدنی رقم اور دس ہزار جریب بنجر آراضی کو سیراب کرنے کے لئے بائیزئی ایریگیشن سکیم جیسے منصوبے مکمل کئے ہیں جبکہ تبدیلی کے نام پر پختونوں سے ووٹ لینے والوں نے ایریگیشن اسکیم شروع کرنے کی بجائے ایک ،، لختے ،، بھی نہیں بنایا ہے ۔ آمیر حیدر خان ہوتی ملک سے کرپشن اور سیاسی گند صاف کرنبے کی باتیں کرنے والوں نے پورے ملک کے سیاسی گندکو پارٹی ٹکٹیں دیکر اپنے ساتھ ملا لیا ہے ۔ جو لوگ اپنے نظریاتی کارکنوں کیساتھ انصاف نہیں کرسکتے وہ پورے ملک کے عوام کو کیاخاک انصاف دیں گے ؟ پی ٹی آئی کے عمران خان نے اپنے بانی اور نظریاتی کارکنوں کو چھوڑ کر صرف پیسوں والوں کو ٹکٹیں دئیے ہیں جس کی وجہ سے آج ان کے اپنے کارکن کئی ہفتوں سے انصاف کے لئے بنی گالہ میں دھکے کھار ہے ہیں اور 126دن دھرنا دینے والوں سے اپنے کارکنوں کا دھرنا برداشت نہیں ہو رہا ۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اسلام آباد والوں سے پختونوں کا حق لینے کا طریقہ آتا ہے اور جس طرح گذشتہ دور حکومت میں گیس ، بجلی اور قبائلوں کے حقوق لئے تھیں اسی طرح حکومت ملنے پر اسلام آباد والوں سے پختونوں کے حقوق کا حساب کتاب کرینگے ۔ صوبائی صدر نے کہا کہ 2013میں تبدیلی کا نعرہ لگاکر پختونوں کو پختونوں سے الگ کیا گیا لیکن اب پختون دوبارہ باچہ خانی کی طرف آرہے ہیں اور اب تک پی ٹی آئی کے کئی ضلع کونسل ممبران سمیت سرکردہ کارکن اے این پی میں شامل ہو چکے ہیں ۔ اس موقع پر حلقہ پی کے 19کے جنرل سیکرٹری محمد ارشاد خان مہمند سمیت دیگر قائدین نے اندورنی اختلافات کے مکمل خاتمے اور نامزد اُمیدواروں کیساتھ مل کر بھر پور مہم چلانے کا اعلان کیا ۔

شیرگڑھ (نامہ نگار) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر اور سابق وزیراعلیٰ امیر حیدر خان ہوتی نے کہاہے کہ مولانا فضل الرحمان اور سراج الحق کو اسلام کا نہیں اسلام آباد کی فکر ہے کل عمران خان اور نواز شریف کے گود میں مزے لینے والوں کو نجانے آج کیوں اسلام کی خدمت یاد آئی متحدہ مجلس عمل منتشر مجلس عمل ہے عمران خان نے پیرشوٹ پر اترنے والوں کو پارٹی ٹکٹ دے کر پارٹی کے مخلص اور دیرینہ کارکنان کو یکسر نظرط انداز کرکے لوٹوں کی سیاست کو پروان چڑھانا شروع کی جس پارٹی کے کارکنان خود اپنے قائد کے فیصلوں کے خلاف احتجاج کرنے پر مجبور ہوں اس پارٹی کے بارے میں کیاکہنا جو لیڈر بنی گالہ کے سامنے پارٹی کی بنیادی کارکنان کا احتجاج سننے کو تیار نہ ہوں وہ کل قوم کے احتجاج پر بحیثیت وزیراعظم کیا سلوک روا رکھے گا برزراقتدار آکر پہلی فرصت میں اسلام آباد کے ساتھ صوبہ خیبر پختونخوا کے گزشتہ پانچ سالوں کی محرومیوں کا حساب کتاب کروں گا سندھی اور پنجابی قیادت نے پختونوں کی حالت زار بدلنے کے لئے 70سالوں میں کچھ نہیں کیا جبکہ پختونوں کی اپنی قیادت نے صرف پانچ سالوں میں نہ صرف پختونوں کو پہچانکے لئے نام دیا بلکہ صوبے کی حالت زار کو بدل کرکے پختون قوم کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا وہ بدھ اور جمعرات کے درمیانی شب کو پیرسدی کے مقام پر نورالہادی باچہ کی صدارت میں ایک بہت بڑے انتخابی مہم کے جلسہ عام سے خطاب کررہے تھے جلسہ عام سے این اے 22سے اے این پی کے نامزد امیدوار ملک امان خان، پی کے 55سے نامزد امیدوار ناصر بہادر خان، مختیار کھٹانہ ،جواد ٹکراور حاجی زیارت گل نے بھی خطاب کیا انہوں نے کہاکہ آنے والے انتخابات میں ملک کے دیگر صوبوں میں حکومت سازی کے جبکہ خیبر پختونخوا میں پختون قوم کے مستقبل کا فیصلہ ہوگا گزشتہ پانچ سالوں میں پی ٹی آئی نے پختونوں کو مایوسی کے سوا کچھ نہیں دیا وزیراعلیٰ کے حیثیت سے پرویز خٹک صوبہ کے ہر حصہ کو خالی جیب جاتے اور خاموشی کو بہتر سمجھتے جس طرح پرویز خٹک خود لاغر اور کمزور ہیں اسی طرح خیبر پختونخوا کا خزانہ لاغر اور خالی بنادیا انہوں نے کہاکہ آئندہ دور سرخ جھنڈے اور باچہ خانی کا ہے برسراقتدار آکر پرویز خٹک بنی گالہ سمیت اسلام آباد سے کے پی کے کے ایک ایک پائی کا حساب لیاجائے گا پہلی فرصت میں اسلام آباد کے ساتھ خیبر پختونخوا کے حق کا حساب کتاب ہوگا اور پنجاب کا پیٹ چھیر کر پختونوں کا حق ان سے نکال کر خیبر پختونخوا اور پختونوں کی ترقی پر خرچ کروں گا بے روزگار نوجوانوں کو دس دس لاکھ روپے بلا سود قرضے میرٹ اور قرعہ اندازی پر دئیے جائیں گے صوبہ میں نئی یونیورسٹیاں، کالجز اور سکولز قائم کئے جائیں گے روزگار کے مواقع پیداکئے جائیں گے صحت کی سہولیات گھر گھر کو پہنچائے جائیں گے انہوں نے کہاکہ پنجاب اور سندھی قیادت نے باری باری حکومتیں کر چکی ہیں مگر پاکستان کی 70سالہ عمر میں پختونوں کو تنزل اور تباہی کے علاقہ کچھ نہیں ملا صوبہ خیبر پختونخوا کی ترقی کے لئے ان 70سالوں میں ایک بھی لفظ قانون سازی نہیں کی گئی ہیں انہوں نے کہاکہ شہباز شریف اور زرداری آکر پشاور میں کھڑے ہوکر پشاور کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے دعوؤں میں کوئی صداقت نہیں ہے مسلسل برسراقتدار رہنے والے شہباز شریف نے 23سالوں کے دوران پشاور کو ترقی کی راہ پرگامزن نہیں کیا اب اسی نام پر پھر پختونوں سے ووٹ مانگنے کے لئے بلند وبانگ دعوے کرتے ہیں مگر ہم دعویٰ کرتے ہیں کہ انہوں نے 23سالوں میں پشاور کو لاہور کے برابر نہیں بنایا اگر اے این پی کو 10سال کا موقع ملا تو پشاور لاہور نہیں پیرس بنایا جائے گاانہوں نے کہاکہ ایم ایم اے کو متحدہ مجلس عمل کا نام دینا غلط ہے اتحاد کی پارٹیوں کے قائدین ایک دوسرے کا نہیں بلکہ اپنی ہی جماعتوں کے دو دو امیدوار ایک دوسرے کے مقابلے میں کھڑے ہیں ایم ایم اے اسلام کی خدمت کے لئے نہیں اسلام آباد پر قبضے کے لئے بنایا گیاہے انہوں نے کارکنان پر زور دیا کہ وہ گھر گھر جاکر پختون قوم کو بیدار کریں تاکہ پختون اپنوں اور پرائیوں میں تمیز کرسکے اور اعلان کیا کہ الیکشن کمپین کے باقی 34ایام کے دوران ایک منٹ کے لئے خود آرام سے نہیں بیٹھوں گا انہوں نے پی کے 55اور این اے 22کے عوام پر زور دیا کہ اگر آپ لوگوں نے مجھے 25جولائی کو یہ دونوں نشستیں جیت کر دئیے تو میں خیبر پختونخوا کی حکومت کی خوشخبری آپ لوگوں کو دوں گ

Back to Conversion

مزید :

کراچی صفحہ اول -