کوہاٹ کی خاتون راحت العین کا عمران خان اور پرویز خٹک سے تحفظ کا مطالبہ

کوہاٹ کی خاتون راحت العین کا عمران خان اور پرویز خٹک سے تحفظ کا مطالبہ

  

کوہاٹ(بیورورپورٹ)کوہاٹ منگل بی بی کی رہائشی خاتون راحت العین نے ڈپٹی کمشنر خالد الیاس ڈی پی او عباس مجید مروت ‘ پی ٹی آئی کے قائد عمران خان اور پرویز خٹک سے مطالبہ کیا ہے کہ انہیں تحفظ فراہم کیاجائے اور سابق ام پی اے ضیاء اللہ بنگش کے خطرناک ارادوں سے بچایاجائے میں ایک شریف اورکمزور عورت ہوں میرے گھر میں کوئی مرد نہیں اور وہ میری عزت کے درپے ہے اللہ کے سوا کوئی آسرا نہیں لہٰذا اس ظالم اور ہوس کے درندے شخص سے مجھے بچایا جائے کوہاٹ پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وکالت کے پیشے کے حال ہی میں وابستہ خاتون راحت العین نے کیا ان کاکہنا تھا کہ پانچ سال قبل ریڈیو پاکستان کوہاٹ میں ان کی ملاقات ضیاء اللہ بنگش سے ہوئی جہاں میں نے ان سے جاب کے بارے میں رابطہ کی اس دن سے وہ موبائل پر مجھے ہراساں کرنے لگا اور گندے گندے ٹیکسٹ کرنے لگا جس پر میں نے متعدد مرتبہ اپنے نمبر تبدیل کئے لیکن نہ جانے کہاں سے وہ میرا نمبر حاصل کرکے مجھے ٹیکسٹ کرتا اور ذلیل کرتا رہا مجھے اپنی عزت کا تقدس برقرار رکھنا تھا لہٰذا میں نے ایک شخص سے شادی کرلی مگر شادی کے دن بھی اس نے وہاں پہنچ کر خاندان بھر میں میری رسوائی کا سامان پیدا کیا جس کے بعد انہوں نے میرے خاندان کے لوگوں کو اپنا ہمنوا بناکر مجھ سے بدظن کیا اورہماری گھریلو زندگی میں اس شخص نے زہر گھول دیا اورمجھے ذہنی اذیت اورکرب سے دوچار کرکے رکھا جس پر میں ڈپٹی کمشنر خالد الیاس اور ڈی پی او عباس مجید مروت کے پاس گئی اور اس شخص کی چیرہ دستیوں اور اپنی عزت نفس کے واسطے دے کر تحفظ دینے کاکوئی مطالبہ کیا کیامگر آج تک یہ بندہ اپنے ارادوں سے باز نہیں آیا اور نہ افسران بالا نے میری فریادپرکوئی ایکشن لیا انکاکہنا تھا کہ میں نے پولیس سے رابطہ کیا اور ضیاء اللہ بنگش کے خلاف ایف آئی آر درج کرانے کی درخواست کی مگر کسی نے شنوائی نہ کی بلکہ کچہری آتے جاتے پولیس والے بھی مجھے تنگ کرنے لگے آخر میں ایک عورت ہوں کہاں جاؤں کس سے انصاف مانگوں میڈیا سے درخواست ہے کہ وہ میری آواز حکام بالا تک پہنچائے تاکہ مجھے ذہنی کرب پریشانی سے نجات مل سکے اور سابق ایم پی اے ضیاء اللہ بنگش کی سازشوں سے تحفظ حاصل ہو ایک سوال کے جواب میں انہوں نے حلفاً کہا کہ ان کاتعلق کسی سیاسی جماعت سے نہیں اور نہ کسی نے انہیں ایسا کرنے پرمجبور کیا ہے بلکہ میں نے اپنے تحفظ کے لئے وکالت کا پیشہ اختیار کرلیاہے تاکہ قانون کی کتابوں سے کمزور عورت کے حقوق سے آگاہی ہو ایک اور سوال کے جواب میں ان کاکہنا تھاکہ ضیاء اللہ بنگش کی اپنی بیوی کے علاوہ مردان کی عائشہ سے بھی اسکی شادی ہوئی ہے مگر اس شادی کوخفیہ رکھاگیاہے جبکہ ان کا تیسرا نشانہ میری ذات ہے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -