جنوبی پنجاب کے بعد (ن) لیگ کے گھر سے علم بغاوت بلند

جنوبی پنجاب کے بعد (ن) لیگ کے گھر سے علم بغاوت بلند

  

ڈیرہ غازیخان (خصوصی رپورٹ)زعیم قادری کا غم وغصہ اور جذباتی پریس کانفرنس کے بعد ڈیرہ غازیخان کے سیاسی حلقوں میں کچھ ہی عرصہ پہلے پاکستان مسلم لیگ ن کو خیر باد (بقیہ نمبر12صفحہ12پر )

کہنے اور شریفوں کی بے وفائی کا شکار کھوسہ سرداروں کی باتیں سچی محسوس ہوئی ہیں۔ زعیم قادری پاکستان مسلم لیگ ن کے ورکر اور لاہور کے اپنے حلقے کی سیاست کرتے تھے لیکن سردار ذوالفقار علی خان کھوسہ پاکستان مسلم لیگ ن پنجاب کے صدر اور شریفوں کی خود ساختہ جلاوطنی کے دوران ان کے بڑے وکیل پنجاب بھر میں ن لیگ کویکجا کرنے والے تھے۔ شریفوں نے اپنے اس بزرگ بلوچ کو قربانیوں کویاد نہ رکھا اور یہی گلہ آج زعیم قادری نے بھی کیا جوباتیں کچھ عرصہ پہلے سردار ذوالفقار علی خان کھوسہ نے کیں ‘انہی کی طرف آج زعیم قادری نے بھی اشارہ کیا کہ شریف برادران کا مزاج مغل خاندانوں جیسا بن گیا ہے جن کے گرد پرویز مشرف کے حواری دانیال عزیز، شاہد حامد، ماروی میمن ‘ طلال چوہدری، پرویز رشید اور مشاہداللہ جیسے درباری اور خوشامدی جمع ہیں جن کی خدمات صرف خوشامداورچاپلوسی کرنا ہے۔ سردار ذوالفقار علی خان کھوسہ چوہدری نثار علی خان کے بعد زعیم قادری کا ن لیگ کو خیر باد کہا‘ سوچنے کا مقام ہے ایسا ہی معاملہ ڈیر غازیخان کی سیاست کا بھی ہے جہاں شریفوں نے اپنے دیرینہ ساتھی ذوالفقار علی خان کھوسہ کو نظر انداز کیا اور پاکستان پیپلز پارٹی پھر ملت پارٹی ، ق لیگ ‘پی ٹی آئی، پھر آزاد اور آج کل ن لیگ جوائن کرنے والے لغاری سرداروں کو اپنے ساتھ شامل کیا اور جیسے ہی شریفوں کو زوال آیا آدھے لغاری سردار پی ٹی آئی میں شامل ہوگئے ہیں ۔لغاری سردار ہمیشہ اقتدار کی سیاست کرتے ہیں لیکن کھوسہ سرداروں اور خصوصا پی ٹی آئی نے اس بھی گلی محلوں میں حاضری پر مجبور کردیا ہے جہاں ان کا سامنا جذباتی کھلاڑیوں سے ہے۔ گزشتہ روز ٹرائل ایریا رونگھن میں پانچ سال بعد جانے والے چیف سردار جمال خان لغاری کو اس وقت ندامت کا سامنا کرنا پڑا جب کچھ نوجوانوں نے ان کے راستے میں احتجاج کیا اور جب لغاری سردار نے بتایا کہ وہ فاتحہ خوانی کیلئے جارہے ہیں تونوجوانوں نے کہا کہ آپ جس شخص کی فاتحہ خوانی کیلئے جارہے ہیں وہ پانچ سال پہلے فوت ہواتھا۔ لغاری سرداروں کے اسی رویئے نے انہیں ہمیشہ عوام سے دور رکھا ہے جس کا رزلٹ 25جولائی کو نکلے گا۔

علم بغاوت

مزید :

ملتان صفحہ آخر -