پی ٹی آئی کی ٹکٹوں میں لیڈروں کے عزیزوں کو نوازا گیا‘ عون بپی

پی ٹی آئی کی ٹکٹوں میں لیڈروں کے عزیزوں کو نوازا گیا‘ عون بپی

  

ملتان ( نیوز رپورٹر ) تحریک انصاف جنو بی پنجاب کے جنرل سیکرٹری عون عباس بپی نے اعلان کیا ہے کہ اگر 23جون کو پی ٹی آئی کے صوبائی اسمبلی کے امیداروں کی فہرست میں کارکنوں کو نظر انداز کیا گیا اور لیڈروں کے رشتہ داروں کو نواز ا گیا تو کارکن پولنگ کے روز گھروں میں بیٹھ جائیں گے اور ووٹ(بقیہ نمبر35صفحہ12پر )

کا حق استعمال نہیں کریں گے۔ شاہ محمود قریشی بڑے لیڈر ہیں لیکن وہ بھی اپنے رشتہ داروں کو ٹکٹ دینا چاہتے ہیں‘ پارٹی رشتہ داروں پر نہیں کارکنوں سے چلتی ہے۔ این اے 155سمیت قومی اسمبلی کی نشستوں پر جن لوٹوں اور جیتنے کی صلاحیت رکھنے والے امیدواروں کو جو ٹکٹ دیئے گئے ہیں وہ یقیناًذاتی فیصلے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پریس کلب میں پر ہجوم پریس کانفرنس کے موقع پر کیا اس موقع پر دیگر رہنما شہباز احمد سیال، شیخ فرخ زبیر، جاوید لغاری، محمد علی راں، عدیل اسلم، مبشر سعید، راؤ آصف، محمد علی صدیقی ودیگر موجود تھے۔ عون عباس بپی نے مزید کہا کہ بیشتر لیڈروں کے عزیزوں کو نوازا گیا ہے جس سے کارکن نظر انداز ہوئے ہیں لیکن تمام تر تحفظات کے باوجود قومی اسمبلی کے امیدواروں کی فہرست کو تسلیم کرتے ہیں ذاتی پسند نا پسند اور رشتہ داریوں کو تسلیم نہیں کیا جائے گا میں عمران خان سے کہوں گا کہ اب نازک مرحلہ ہے کارکنوں کو ٹکٹ دیں کیونکہ مالی طور پر کارکن بھی الیکشن لڑنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اگر کارکنوں کو ٹکٹ نہ دیا گیا تو وہ آئندہ پریس کانفرنس میں حقائق سے پردہ اٹھائیں گے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کارکنوں کو مخدوم شاہ محمود قریشی سے بھی تحفظا ت ہیں وہ خود دو قومی و صوبائی حلقوں سے الیکشن لڑ رہے ہیں ان کے بیٹے اور دیگر امیدوار وں مظہر راں اور ڈٖاکٹر اختر ملک کا ٹکٹ بھی ان کی مرضی سے دیا گیا ہے۔ عامر ڈوگر کی ٹکٹ کا جب اعلان ہوا تو میں نے انہیں فون کرکے مبارکباد دی اور ان کے ساتھ مل کر ان کی انتخابی مہم چلانے کا اعلان کیا لیکن عامر ڈوگر کا ٹکٹ بھی مخدوم شاہ محمود قریشی کے کہنے پر دیا گیااگر انہوں نے صوبائی اسمبلی میں بھی معین قریشی سمیت اگر کسی مزید رشتہ دار کو ٹکٹ دلوایا تو ہم اس کی شدید مذمت کریں گے۔ جنوبی پنجاب میں اس وقت کارکن تحفظات کا شکار ہیں عین ممکن ہے کہ پارٹی کے خلاف میری اس پریس کانفرنس کے بعد مجھے پارٹی عہدے سے فارغ کردیا جائے لیکن میں گھبرانے والا نہیں ہوں میں عمران خان کے کارکن کی حیثیت سے ن کے ساتھ کھڑا رہوں گا۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جنوبی پنجاب میں تحریک انصاف کی خواتین کی مخصوص نشستوں کا 40فیصد کوٹہ بنتا تھالیکن کارکن خواتین کو بھی نظرانداز کر دیا گیا اور عمران خان کے علم میں لائے بغیر خواتین کی مخصوص نشستوں کی فہرست جاری کی گئی جس پر ہمیں بھی تحفظات ہیں ۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سکندر بوسن ابھی پی ٹی آئی میں شامل نہیں ہوئے اس لئے انہیں ابھی تک ٹکٹ جاری نہیں کیا گیا۔پریس کانفرنس کے بعد کارکنوں نے عون بپی کے حق میں نعرے بھی لگائے۔

مزید :

ملتان صفحہ آخر -