پسند کی شادی‘ لڑکی کا شوہر کے حق میں بیان پر فریقین میں شدید تصادم

پسند کی شادی‘ لڑکی کا شوہر کے حق میں بیان پر فریقین میں شدید تصادم

  

ملتان (خبر نگار خصوصی)جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں لڑکی کی جانب سے شوہرکے حق میں بیان پراحاطہ عدالت میدان جنگ بن گیااور فریقین میں تصادم ہوگیاجس پرلڑکی کوعدالت میں بٹھادیاجبکہ اہل خانہ نے مرکزی دروازے کو بلاک کردیا۔تفصیل کے مطابق تھانہ بی زیڈکے(بقیہ نمبر45صفحہ12پر )

علاقہ کی رہائشی نتاشہ نے چند روزاپنی مرضی سے بہنوئی اسدعباس کے بھائی مقصودکے ساتھ شادی کرلی جس پروالدین نے تھانہ بی زیڈمیں اغوا کامقدمہ درج کرادیاتاہم گزشتہ روزمذکورہ لڑکی اپنے شوہراوردیگرسسرالی رشتہ داروں کے ہمراہ علاقہ مجسٹریٹ کی عدالت میں بیان دینے کیلئے آئی اورکہاکہ اس کوکسی نے اغوا نہیں کیا ہے اوراس نے اپنی مرضی سے شادی کی ہے جس پرلڑکی دوبارہ شوہر کے ساتھ واپس جانے لگی تولڑکی کے اہلخانہ نے اس کوساتھ لیجانیکی کوشش کی جس پردونوں فریقین کے درمیان ہاتھا پائی ہوگئی اورایک دوسرے کومارناشروع کیاتوپولیس اہلکاروں نے لڑکی کو دوبارہ کمرہ عدالت میں بھیج دیا۔اس موقع پرلڑکی کے اہلخانہ نے اس کانادراسے حاصل کردہ سرٹیفکیٹ دکھاتے ہوئے بتا یاکہ لڑکی کی عمر 12سال ہے جس کواس کابہنوئی زیادتی کانشانہ بناتارہااور پھر گھرسے بھگاکرلے گیااوراپنے بھائی کے ساتھ نکاح کرا دیاہے اس لئے ہم لڑکی کوجانے نہیں دیں گے اوراگر لڑکی یہاں سے گئی تو عدالت کے باہر خود کشی کر لیں گے اوراہل خانہ نے سیشن گیٹ کے سامنے والا روڈ بند کردیا جس پرپولیس کی بھاری نفری پہنچ گئی اوربعدازاں لڑکی کوشوہرکے ساتھ رکشہ میں سوار کرا کر بھجوادیاہے۔اس موقع پرلڑکی کے اہلخانہ نے الزام عائد کیا ہے کہ تھانہ بی زیڈ کے تفتیشی افسرخضر حیات نے ملزموں سے 90 ہزار روپے رشوت لی ہے اور اس وجہ سے لڑکی کا عدالت میں بیان کروا کے ملزموں کو بے گناہ کرایاجارہاہے جس پر پولیس افسران نے اہلخانہ کوغیرجانبدارانکوائری کرانے اوردادرسی کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے اورکئی گھنٹوں کے بعدمعاملہ ختم کرایاگیاہے۔

مزید :

ملتان صفحہ آخر -