اپنے اپنے افسر

اپنے اپنے افسر
اپنے اپنے افسر

  

    افسروں کی اتھل پتھل ہو گئی،ایک ہی ریلے میں تین صوبوں کے سینکڑوں افسر تبدیل  کر دئے گئے، پنجاب سب سے زیادہ  زد میں آیاکیونکہ اس کی  بیوروکریسی  کے بارے کہا جا رہا تھا کہ اس میں شریف وفادار  افسر زیادہ ہیں۔عام انتخابات کے  تناظر میں تمام صوبوں میں  بڑے پیمانے پر کئے گئے تبادلوں کا کوئی  فائدہ ہو گا ؟مجھے نہیں لگتا  ،ہاں وفاقی حکومت اور الیکشن کمیشن کی طرف سے  تمام صوبوں کے چیف سیکرٹری اور آئی جی  لگانے کا فیصلہ  قابل تعریف تھا ،اچھے ،محنتی اور اپ رائٹ افسران لگائے گئے مگر اس کے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہی۔

موجودہ تبادلوں کے طریق کار پر  افسوس ہوا کہ اکثر  افسروں میں ہراسمنٹ اور بد دلی پھیلی ،ہمارا کلچر بھی تو یہی  ہے کہ پھڑ لو پھڑ لو ،جبکہ نقصان ہوا قومی خزانے کا ان افسروں کے تبادلوں پر کروڑوں روپے ٹرانسفر الاونس کی مد میں اڑ جائیں گے ۔میرے کہنے کا یہ مقصد نہیں کہ سابقہ حکومت کے چہیتے افسران کو  تبدیل نہیں کرنا چاہئے تھا ۔چہیتے ضرور بدلیں ان کو   بدلنا چاہئے تھا  مگر ایک  کو  ایک سیٹ سے  بدل کے دوسری سیٹ پر ،کمشنر کو تبدیل کر کے سیکرٹری  بنا دیا گیا اور  اسی طرح کی اتھل پتھل  ،وٹ از دس؟

سوچنے والی بات تو یہ بھی  ہے کہ   افسران، سیاسی حکومتوں کے   چہیتے کیسے اور کیوں بن جاتے ہیں ؟کیا  یہ ہمارے ایڈمنسٹریٹو سیٹ اپ کی ناکامی ہے؟ اگر ہے تو پھر اس سسٹم  کو کیوں تبدیل نہیں کرتے، ہر الیکشن میں  تبادلوں کااس طرح ریلہ آتا ہے اور فائدہ کچھ نہیں ہوتا۔ اگر ایسا نہیں  کر سکتے تو امریکہ کی بیوروکریسی جیسا کوئی نظام لے آئیں،اپنے اپنے افسر اپنی اپنی بیوروکریسی۔اللہ اللہ خیر صلا ۔مگر ہمارا  یہ چوں چوں کا مربہ بیوروکریسی ،کیا ہے یہ سب کچھ ۔خدا  کےلئے کچھ سوچیں اس پر ۔سیکرٹری الیکشن کمیشن بابر یعقوب سے امیدیں تھیں ،انہوں نے اعلیٰ سطح پر تو بہتر کیا مگر صوبوں کو کھلی چھٹی دے دی ۔ 

حکومتوں  کے معاملات چلانے میں بیوروکریسی کا کردار سب سے اہم  ہوتا ہے لیکن جب بات ہو عام انتخابات کی اور اس کے حوالے سے بیوروکریسی میں کیے جانے والے تبادلوں کی تو اس کا بہت ہی دوررس نتیجہ نکلتا ہے ۔   کیونکہ یہ وہ وقت ہوتا ہے جبکہ ملک میں ایگزیکٹو کا  اصل کردار صرف بیوروکریسی ادا کررہی ہوتی ہے اور یہ طاقتور طبقہ اگلے انتخابات پر بہت زیادہ اثر انداز ہوسکتا ہے ان حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے نگران حکومت ہمیشہ اپنی مرضی کی بیوروکریسی کی ٹیم لے کر آتی ہے اور گزشتہ حکومت کی  آنکھ کے تاروں کو دور پار کردیا جاتا ہے تاکہ وہ کسی بھی طرح شفاف انتخابی عمل پر اثر انداز نہ ہوسکیں اس لحاظ سے موجودہ نگران سیٹ اپ اور الیکشن کمشن کاکردار بہت اہم ہے اور یہ لوگ دن رات محنت کررہے ہیں کہ کسی بھی طرح انتخابات کے انتعقاد کے بعد ان کی انٹیگرٹی اور ایمانداری پر کوئی سوال نہ اٹھ  سکے اور اسی حقیقت کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے   بیوروکریسی میں تقرر و تبادلے کردیے گئے ہیں ۔اس حوالے سے پنجاب  اورسندھ  میں ہونے والے تبادلے بہت اہمیت کے حامل ہیں ۔اسکی وجہ  دونوں  صوبوں میں  پچھلے طویل عرصےسے رہنے والی ایک ایک سیاسی حکومت ہے ۔پنجاب میں مسلم لیگ (ن) اور سندھ میں پیپلز پارٹی  ہی سب کچھ تھی ۔اسی لئے افسروں کی اکثریت بھی سیاسی  رنگ میں رنگی جا چکی تھی ۔ اس کے باوجود  اچھے افسروں کی کوئی  کمی نہیں  ،یہ بھی ضروری نہیں کہ  طویل عرصہ تک مسلم لیگ (ن) یا پیپلز پارٹی  کےساتھ   کا م کرنے والے  تمام افسر  برے ہیں۔   اس لئے بڑے سوچ سمجھ کر فیصلے ہونے چاہئے تھے۔  

میرے خیال میں نگران حکومت  کے پاس وقت کی کمی بھی ایک مسئلہ ہے۔ جلد بازی میں  جہاں بہت سے افسران سے زیادتی ہوتی ہے تو وہیں بہت سے افسران کی موجیں بھی لگ جاتی ہیں اور کبھی کبھار تو کسی افسر کے ساتھ کئی سیاستدانوں کی بھی چاندی ہوجاتی ہے۔موجودہ تبادلوں کے بارے میں  کہا جا  رہا ہے کہ یہ بہت سوچ بچار کے بعد کیے  گئے  ہیں اور ان کے لیے بہت سے خفیہ اداروں سے رائے لی گئی ہے لیکن کیا کوئی گارنٹی دے سکتا ہے کہ رائے دینے والے افسران نیوٹرل تھے؟ در حقیقت ہمارے یہاں تو پورے کا پورا آوا ہی بگڑا ہوا ہے ۔  افسران کی اکثریت  بھی  اب ڈنگ  ٹپاو  ہے  ،ان  کو چاہیے کہ وہ بیوروکریسی کی ایسی عزت پیدا کریں کہ کوئی ان کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہ  دیکھ سکے اور تبادلہ تو درکنار کسی کے گمان میں بھی نہ ہوکہ بیوروکریسی کسی کو  سیاسی   سپورٹ کرسکتی ہے اس کے لیے ضروری ہے کہ ملک کے گورننس کے نظام کو گڈ گورننس کی راہ پر ڈالا جائے مگر یہ کام کون کرے گا؟  

 ۔۔

 نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں,ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

بلاگ -