ایمان کے تھرمامیٹر سے اپنادرجہ حرارت ضرورت دیکھیے

ایمان کے تھرمامیٹر سے اپنادرجہ حرارت ضرورت دیکھیے
ایمان کے تھرمامیٹر سے اپنادرجہ حرارت ضرورت دیکھیے

  

 رحمتوں اور برکتوں کامہینہ ، رمضان ، آخر کارگزرگیا۔ مگر اپنے پیچھے یہ سوال چھوڑ گیا کہ ہمیں اس کی رحمتوں و برکتوں سے کتنا فیض حاصل ہوا؟لوگ اس سوال کاجواب رمضان میں کی گئی اپنی عبادتوں ، ریاضتوں ، شب بیداریوں اور دعاؤں میں تلاش کرتے ہیں ۔ مگر اس سوال کا حقیقی اور زندہ جواب رمضان کے بعد کے ایام میں سامنے آ جاتا ہے ۔

لوگو ں کی غالب ترین اکثریت عید کے چاند کی اطلاع کے ساتھ ہی رمضان کو فراموش کر دیتی ہے ۔ان کے لیے عید کے ایام خوشی کے نہیں غفلت کے ایام بن جاتے ہیں ۔ جن میں نمازوں کی پابندی ختم، قرآن مجید کی تلاوت سے فراغت اور یادالہی ، ذکر ودعا سے صبح و شام خالی ہوجاتے ہیں ۔

نفلی عبادات میں رمضان کے بعد کمی اتنا بڑ ا سانحہ نہیں کہ فطری طور پر انسان رمضان میں ان کی طرف بہت زیادہ متوجہ ہوتا ہے اور رمضان کے بعد ان میں کمی متوقع ہوتی ہے ، مگر ان سے بالکل ہاتھ اٹھالینا، گنا ہوں پر دلیر ہوجانا اور فرائض کا ترک کر دینا اس بات کی علامت ہے کہ رمضان میں نظر آنے والی نیکی ایک نوعیت کا موسمی بخار یا مذہبی فیشن کی ایک شکل تھی۔ یہ کسی حقیقی معرفت، احساس اور ایمان کے نتیجے میں پیدا نہیں ہوئی تھی۔ حدیث کے الفاظ میں ایسے روزے ایمان و احتساب کے بغیر رکھے گئے اور ایسی شب بیداری ایمان و احتساب کے بغیر کی گئی۔چنانچہ یہ روزے اور شب بیداری انسان میں حقیقی تبدیلی نہ لا سکے ۔ یہ موسمی بخار تھا جو اتر گیا۔ مذہبی فیشن تھا جو وقت کے ساتھ رخصت ہو گیا۔ اگر ایمان ہوتا اور احتساب ہوتا تو کچھ نہ کچھ بہتری ضرور آتی۔کچھ نئے اہداف طے ہوتے ۔ کچھ کمزوریا ں رخصت ہوتیں ۔ زندگی میں بہتری ضرور آ جاتی۔ سو اگر رمضان میں بھی ہم نے اپنا احتساب نہیں کیا تو رمضان کے بعد ہی سہی، ایمان کے تھرمامیٹر سے اپنادرجہ حرارت ضرورت دیکھیے ۔ یہ موسمی بخارتھا تو اتر گیا ہو گا۔ ورنہ ایمانی حرارت نے عمل میں ضرور بہتری پید اکی ہو گی۔

۔۔

 نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں,ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

بلاگ -